اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی اطلاع۔ حقیقت یا ڈرامہ.

03 مئی 2011
ڈاکٹر اے آر خالد
جونہی امریکی صدر باراک اوباما نے ایبٹ آباد میں ایک اپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کی موت کی خبر نشر کی تو مجھے ایک مغربی مفکر کی یہ بات فوراً یاد آگئی
\\\"Like a mind atlering drug television distorst the viewer\\\'s perception of reality\\\"
اور جب ٹیلی ویژن پر یہ خبر نشر کرنے والا کوئی نیوز کاسٹر نہ ہو کوئی انوسٹیگیشنز کرنے والا رپورٹر نہ ہو بلکہ خود امریکہ کاصدر ہوتو اسے ماننے کے زیادہ مواقع بن جاتے ہیں۔perception تبدیل ہوجاتی ہے حقیقت نظر انداز ہوجاتی ہے یا حقیقت مشکوک ہوکراپنی حقیقت کھو بیٹھتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یکم اور دو مئی کی درمیانی رات کو ایبٹ آباد کے قریب ایک گاﺅں میں اپریشن کی کچیپکی اطلاعات پاکستانی میڈیا کے پاس آرہی تھیں مگر کوئی حتمی بات کرنے کی پاکستانی میڈیا پوزیشن میں نہ تھا اور اس وقت تک کسی قسم کی خبر سامنے نہیں آئی کہ یہ اپریشن کون کر رہا ہے اور کیوں کررہا ہے جب تک باراک اوباما نے خود امریکی ٹیلی ویژن پر آکر قوم سے خطاب میں یہ انکشاف نہیں کیا کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد کے قریب امریکی فوجیوںنے اپریشن کرکے اسامہ کو ہلاک کر دیا کردیا ہے اور اسکی نعش قبضے میں لے لی ہے۔امریکی صدر کی بات کے ثبوت کے طورپر اسامہ بن لادن کی مسخ شدہ نعش کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں یہ تصویر اس نحیف کمزور اور بوڑھے اسامہ بن لادن سے زیادہ جوان صحت مند اور مطمئن اسامہ بن لادن کی تھی۔ نعش میں داڑھی کالی اور چہرہ بھرا ہوا ہے جبکہ جس اسامہ کی پہلے وڈیو جاری کی جاتی رہی دکھائی جاتی رہی اس میں اسکی داڑھی میں سفید بال اور چھڑی پکڑ کر چلنے سے اسکے نحیف کمزور ہونے کا جس موثر انداز سے ابلاغ کرایاجاتا رہا ہے نعش کی جاری شدہ تصویر اس واقعہ میں اسامہ کی ہلاکت یا شہادت کو مشکوک بنادیتی ہے۔ اگرچہ صدر اوباما نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے صدر زرداری سے بھی ٹیلی فون پر بات کی ہے اور اس سے پہلے وہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کو فون کرکے یہ خبر سنا چکے تھے مگر پاکستان کی حکومت اس سلسلہ میں آٹھ دس گھنٹے تک کسی قسم کے ردعمل کے ساتھ سامنے نہیں آئی کوئی پالیسی بیان جاری نہیں کیا نہ خبر کی تصدیق کی نہ تردید صرف تشویش میں مبتلا ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی اس اپریشن میں مدد شامل تھی، ظاہر ہے ایبٹ آباد میں آکر امریکی فوج اپریشن کرلے تو پاکستان کی فوج اور حکومت اس سے بے خبر تو نہیں ہوسکتی اوروہ اپریشن بھی پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے تھوڑی دور ہو جو عسکری حوالے سے کافی حساس علاقہ ہے سات ساڑھے سات گھنٹے کے بعد باراک اوبامہ اس خبر کا انکشاف قوم سے خطاب میں کرتے ہیں تو پاکستان کی حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے دفتر خارجہ نے کوئی گیارہ گھنٹے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ نہ پاکستان کو اس اپریشن کا پتہ ہے اور نہ ہی ہمارا کوئی تعاون ہے دفتر خارجہ کی یہ وضاحت یا پالیسی بیان کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔اپریشن سے بے خبری استغفر اللہ ثم استغفر اللہ ماضی میں جب بھی اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی بات کی گئی پاکستان نے ہمیشہ اسکی تردید کی بلکہ سابق صدر مشرف نے تو ایک سے زائد بار اسی یقین کے ساتھ اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق کی تھی جس یقین کے ساتھ آج امریکی صدر باراک اوبامہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔اسامہ بن لادن کے بارے میں خبر کی تحریک طالبان نے تردید کردی ہے اور پاکستانی میڈیا پر تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اسامہ بن لادن کی شہادت کی خبر غلط ہے اوروہ بالکل محفوظ ہیں۔ اسامہ بن لادن زندہ ہے یا انتقال کرچکا ہے، اسے آج مارا گیا ہے یا بہت پہلے سے مار کر اسکی نعش کی تصاویر حاصل کرلی گئی ہیں۔ اسکی نعش امریکہ کے قبضے میں آج آئی ہے یا پہلے سے اس نے اسے سنبھال رکھا ہے۔وہ نعش کی شکل میں کسی پہاڑ کے کھوہ میں چھپا ہوا ہے یا امریکہ کی کسی جیل میں قید ہے۔اسکی موت کیلئے ایبٹ آباد میں اپریشن کرنے یا اپریشن کا ڈرامہ رچانے کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں امریکہ 9/11کے بعد کا ملبہ اسامہ اور اسکی القاعدہ پر ڈال کرعالم اسلام میں تباہی و بربادی کا جو کھیل کھیل رہا ہے ایبٹ آباد میں اسی اپریشن کے بعد پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے اسکے بارے میں ہمارے ہاں کے تھنک ٹینک شاید اندھے بہرے ہیں اور اگر اندھے بہرے نہیں تو گونگے ضرو ر ہیں۔ قومی سلامتی کے حوالے سے معاملات سے عام آدمی کی آگہی کی بات تو شاید دیوانے کے خواب سے زیادہ اہمیت نہ رکھے یہاں تو خواص تک پاکستان میں ہونے والے اپریشن سے بے خبرہیں۔ لاہور سے ریمنڈ ڈیوس کو جیل سے لے جانے پر حکومت پنجاب اسی طرح معصوم بن گئی کہ میڈیا پر آکر وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ انہیں تو پتہ ہی نہیں چلا کہ کس طرح ریمنڈ ڈیوس کو یہاں سے لے جایا گیا ہے اس کا پاسپورٹ تو ہمارے پاس تھا اور پھر اپنے وزیر قانون سے کہا کہ وہ پاسپورٹ میڈیا کو دکھائیں ۔ وفاقی حکومت بیچاری تو صوبوں میں مداخلت بالکل نہیں کرتی انہوں نے سارا ملبہ پنجاب حکومت پر ڈال دیا اور اس پر اسرار رہائی یا فرار کو آئینی، قانونی، مذہبی اور اخلاقی طورپر درست ثابت کرنے کیلئے خوب دلیلیں دیں۔ دیت کی اس طرح کی انوکھی ادائیگی اور مجرم کا فرار یہ سب کچھ لاہور میں ہوا کسی پاکستانی کو آج تک اصلیت کی خبر نہیں ہوسکی، ایبٹ آباد میں ہونے والے اس اپریشن کے بارے میں وہ بیچارے کہاں جان پائیں گے۔بڑے بڑے جغادری اور کھوجی اینکرجو لفظوں کے تابڑ توڑ حملوں اور آواز کے اتار چڑھاﺅ سے کسی جھوٹی خبر کو سچاثابت کرنے کسی افواہ کو سنسنی خیز خبر بنانے اور کسی خواہش پر مرضی کا تبصرے حاصل کرنے کیلئے مرضی کے لوگوں کو ٹیلی ویژن پر سکرین پر لانے کا بندوبست کرلیتے ہیں انکی آواز یں اتنے بڑے واقعہ پر کوئی سچی خبر تلاش کرنے میں خاموش تھیں۔ میں نے حساس اداروں کے افسروں سے اپنے کئی لیکچر ز میں یہ بات بار بار کی ہے اور اپنے کالموں میں بھی اسے کئی دفعہ دہرایا ہے کہ اسوقت flow of information کی اسیری میں ہم حقائق تک رسائی حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ آج
flow of information is from east to west
ایبٹ آباد میں اپریشن کی خبر امریکہ کا صدر دیتا ہے۔ پاکستان کے علاقے میں اسی اپریشن میں پاکستان کی صرف معاونت کی بات کرتا ہے یہ اپریشن امریکی فوجی کرتے ہیں اور باراک اوباما جو کہتے ہیں ہم اسے تسلیم کرلیتے ہیں،ٹیلی ویژن حقائق کو تبدیل کرکے رائے عامہ بنانے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرچکا ہے اور اگر اسکے پیچھے تصدیق و تائید امریکہ کا صدر کرے تو حقائق تک رسائی کی کوشش ترک کردی جاتی ہیں۔ امریکہ اس اپریشن کے بعد پاکستان کے خلاف نہ ڈرون حملے بند کرےگا نہ ہی نام نہاد القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی سے پیچھے ہٹے گا نہ ہی پاکستان میں خود کش حملے ختم ہونگے اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہوگی۔ پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے افراد کی غالب اکثریت سیاسی مصلحتوں اور کمزوریوں کی زد میں ہے۔ صحیح سمت چلنے اور صحیح سوچنے والے بے بس ہیں ایسے ہی امریکہ پاکستان پر do more کی کاٹھی کو زیادہ ڈال سکتا ہے جس سے ریمنڈ ڈیوس دن دیہاڑے لاہور جیسے شہر کی کسی بھی سڑک پر کسی بھی پاکستانی کو مار کر اسکی ویڈیو بناسکتا ہے او ر پھر پکڑے جانے کی صورت میں دیت ادا کرکے صوبائی اور وفاقی حکومت پر کسی قسم کی ذمہ داری ڈالے بغیر فرار ہوسکتا ہے۔یہ قوم کی موت ہے جس پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے والے بھی محض اسے ایک رسم سمجھ کر پڑھیں گے اور یہ کھیل تماشہ دیکھنے اور اس کا حصہ بننے والے اس سے بری موت مارے جائینگے۔ پاکستان کیلئے اس سے بڑا المیہ اور یہاں کے دانشوروں کیلئے اس سے بڑا چیلنج کیا ہوگا کہ انہیں اپنے ہی ملک کے بارے میں اپنی ہی حکومت سے سچی خبر نہیں مل رہی۔آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پاشا ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج اس اپریشن میں شامل تھی۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے پاکستان کو اس بارے میں کچھ خبر نہیں اور نہ اسے بتایا گیا ہے نہ ہی مشورہ کیا گیا ہے نہ ہی اعتماد میں لیا گیا ہے۔عقل میں دفتر خارجہ کی بات نہیں آتی فوج کی بات سمجھ آسکتی ہے یہ بے خبری یہ عجلت اور یہ غیر ذمہ داری ہمیں تباہ کردیگی۔سچ کو چھپانے اور جھوٹ کو پھیلانے والوں اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والوں سے کوئی تو پوچھے۔