A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

اوباما کی زبانی ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ..... ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کو ملک کی سلامتی کی فکر کرنی چاہئے

03 مئی 2011
امریکی صدر باراک اوباما نے پیر کی صبح قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایبٹ آباد میں امریکی سپیشل فورسز کے آپریشن میں القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن اپنے ایک بیٹے اور تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا ہے جبکہ آپریشن کے بعد ایبٹ آباد ہی سے اسامہ کی دو بیویوں، چھ بچوں اور چار ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ دورانِ خطاب اوباما نے امریکی قوم کو اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے پر مبارکباد دی اور بتایا کہ القاعدہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی پر انہوں نے امریکی سپیشل فورسز کو آپریشن کا حکم دیا تھا جبکہ اس آپریشن میں اسامہ کی ہلاکت پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد سے ہوئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر باراک اوباما نے اتوار اور پیر کی رات پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں اسامہ کے معاملہ پر اعتماد میں لیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر زرداری نے اپنے مشیروں کا اجلاس طلب کرلیا ہے اور ان سے مشاورت کے بعد اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو پاکستانی حکومت کے موقف سے آگاہ کیا جائیگا۔ دوسری جانب دفتر خارجہ پاکستان نے ایبٹ آباد میں مبینہ آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایسے کسی آپریشن سے پاکستان اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ خبررساں ایجنسی ”اے این این“ کی جاریکردہ رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایبٹ آباد میں امریکی اور پاکستانی فورسز کے مشترکہ آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن، انکے ایک بیٹے اور تین محافظوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ اسامہ بن لادن پر نیروبی بم حملوں، امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون سمیت کئی حملوں کا الزام تھا اور امریکہ نے انکے سر کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر مختص کررکھی تھی۔ صدر اوباما کی جانب سے اسامہ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع پر امریکی عوام ہزاروں کی تعداد میں وائٹ ہاﺅس کے باہر جمع ہوگئے اور جشن منایا۔ اوباما کے بقول اسامہ بن لادن کی لاش امریکہ کی تحویل میں ہے جبکہ ایک امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ کو اسلامی روایات کے مطابق سپردخاک کردیا گیا ہے۔
ایبٹ آباد کے آپریشن میں اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی اطلاع بلاشبہ پوری دنیا کیلئے چونکا دینے والی خبر ہے جس پر مختلف ممالک کے میڈیا پر اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے مفادات کے حوالے سے تبصرے ہورہے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ خبر کسی خوفناک دھماکے سے کم نہیں کیونکہ امریکی صدر اوباما کے دعوے کے مطابق اسامہ کو ایبٹ آباد میں امریکی سپیشل فورسز کے آپریشن میں ہلاک کیا گیا ہے اور ایبٹ آباد کے جس مقام پر اس آپریشن کی اطلاعات مل رہی ہیں وہاں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہم دفاتر قائم ہیں۔ یقینااسی تناظر میں ہمارے مکار دشمن بھارت کو دہشت گردی کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کا موقع ملا ہے اور اس سلسلہ میں بھارتی وزیر داخلہ نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے براہ راست الزام عائد کیا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قائم ہیں۔ اگرچہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی خبر کو قطعی بے بنیاد قرار دیا ہے اور اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ اللہ کے فضل و کرم سے محفوظ ہیں اور ان کے انتقال کی خبر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے تاہم امریکی صدر کے قوم سے خطاب کے ساتھ ہی اسامہ بن لادن کی لاش کی تصویر بھی میڈیا کو جاری کردی گئی۔ اس تصویر کو دیکھ کر بھی کئی شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں کیونکہ اس تصویر میں اسامہ نسبتاً جوان نظر آتے ہیں اور اگر یہ درست بھی تسلیم کرلیا جائے کہ اسامہ جاں بحق ہوچکے ہیں تو ممکن ہے ان کا انتقال کئی سال پہلے کسی دوسرے آپریشن میں ہوا ہو اور اب آنیوالے امریکی صدارتی انتخابات میں امریکی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے ان کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کا ڈرامہ سٹیج کیا گیا ہو۔ ایبٹ آباد کا مبینہ آپریشن اس حوالے سے بھی ناقابل فہم نظر آتا ہے کہ اسامہ کی ہلاکت کے ساتھ ان کی دو بیویوں، چھ بیٹوں اور چار محافظوں کی ایبٹ آباد سے گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ اپنی پوری فیملی اور محافظوں کے ساتھ کھلے عام ایبٹ آباد میں رہائش پذیر تھے۔ اسامہ یقینا اتنے غیرمحتاط یا احمق تو نہیں ہوسکتے تھے کہ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر لگا رکھی ہو اور وہ ان کی زندہ یا مردہ گرفتاری کیلئے گزشتہ دس سال سے متحرک بھی ہو اور اپنی تمام خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کو اس مشن پر جھونک رکھا ہو اور اسی تناظر میں اسامہ کے انتقال کے پہلے بھی متعدد دعوے کرچکا ہو، اسکے باوجود اسامہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ کھلے عام گھومتے پھرتے نظر آئیں۔ چنانچہ اسامہ کے جاں بحق ہونے کے معاملہ میں یقینادال میں کچھ کالا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یقینااصل حقائق بھی منظرعام پر آنا شروع ہوجائینگے۔ اگر اسامہ کے جاں بحق ہونے کا واقعہ بادی النظر میں درست ہے تو بالخصوص پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے یہ صورتحال انتہائی سنجیدہ غوروفکر کی متقاضی ہے کیونکہ بالخصوص امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور اسکی ڈرامائی رہائی اور امریکہ حوالگی کے دوران پاکستان اور امریکہ کے مابین جو کشیدگی کی فضا قائم ہوئی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اس خطہ میں جاری امریکی مفادات کی جنگ میں پاکستانی آئی ایس آئی کا امریکی سی آئی اے کے ساتھ معلومات کے تبادلہ کیلئے تعاون معطل ہوا تو پاکستان کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں امریکہ نے اپنی حکمت عملی یکسر تبدیل کرلی۔ پاکستان کے سخت دباﺅ کے باوجود امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا اور ڈرون حملے ختم کرنے کیلئے پاکستان کا دباﺅ تسلیم کرنے سے بھی معذرت کرلی گئی اور پھر امریکی دفاعی ہائی کمان میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو امریکی سی آئی اے کا سربراہ بنا دیا گیا جن کے بارے میں پہلے ہی پاکستان کی عسکری قیادتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاچکا تھا جبکہ جنرل پیٹریاس نے سی آئی اے کی سربراہی سنبھالتے ہی پہلا اعلان یہ کیا کہ امریکی مفادات کی تیسری جنگ اب پاکستان کے اندر ہوگی۔ اگر ایبٹ آباد آپریشن خالصتاً امریکی سپیشل فورسز نے کیا ہے تو کیا اسے جنرل پیٹریاس کے اعلان کی روشنی میں پاکستان کے اندر امریکی مفادات کی تیسری جنگ کے آغاز سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہئے اور اس صورت میں پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کا کیا تصور باقی رہ جاتا ہے؟
یہ صورتحال پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے اس لئے بھی تشویشناک ہے کہ اسی ماہ اسلام آباد میں پاکستان امریکہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ کا تیسرا راﺅنڈ شروع ہونیوالا ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی شرکت متوقع ہے اور امریکی مندوب گراسمین پہلے ہی پاکستان میں موجود ہیں اور آج وزیراعظم گیلانی سے مل چکے ہیں۔ چنانچہ اس صورتحال میں پاکستان کے اندر اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی اطلاع اس خطہ میں امریکی مفادات کی کسی نئی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ چونکہ اس سال جولائی سے نیٹو فورسز کا افغانستان سے انخلاءبھی شروع ہونا ہے جس سے پہلے پہلے امریکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو براہ راست افغانستان میں الجھانا چاہتا ہے جس کیلئے امریکہ کی جانب سے پاکستان سے ڈومور کے تقاضے بھی جاری ہیں اس لئے اسامہ بن لادن کے پاکستان میں دوران آپریشن جاں بحق ہونے کی اطلاع بھی پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کی اسی کہانی کا ایک باب ہوسکتاہے اور اگر یہ واقعہ درست ہے تو پھر امریکہ کے پاس افغانستان اور پاکستان کے اندر مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی کارروائیاں جاری رکھنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے۔ خودساختہ امریکی نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کے خاتمہ کیلئے ہی تو امریکہ نے عراق اور افغانستان میں حشر اٹھایا تھا جہاں ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا گیا اور دونوں ممالک پر اپنی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے اس خطہ میں اپنے مفادات کی جنگ شروع کی گئی اوراس جنگ نے پاکستان کو بھی تباہی کے دہانے تک پہنچایا اور یہاں فوجی آپریشن، امریکی ڈرون حملوں اور انکے ردعمل میں ہونیوالے خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کے ذریعے بے گناہ انسان گاجر مولی کی طرح کٹتے رہے۔ اگر اب ان سارے واقعات کے اصل محرک کو ہی ختم کردیا گیا ہے تو پھر اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اس لئے اس خطہ اور خود امریکہ کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ فی الفور ختم کردے۔ پاکستان کے اندر مزید ڈرون حملوں کا ارادہ ترک کردے اور جولائی کے بجائے ابھی سے امریکی نیٹو افواج کواس خطہ سے نکالنے کا عمل شروع کردے تاکہ یہاں امن و امان کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکے۔ اب ہمارے بھی یہی بہترین مفاد میں ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن فی الفور ترک کرکے افواج پاکستان کو دفاع وطن کیلئے مستعد و چوکس کردیا جائے کیونکہ اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کے بعد یہاں دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جس سے ہمارے مکار دشمن بھارت کو ہماری سالمیت پر وار کرنے کا مزید موقع ملے گا۔ ہماری اوّلین ترجیح دفاع وطن ہے جس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کو اب پل پل تبدیل ہونیوالے حالات پر کڑی نظر رکھنا ہوگی۔ بالخصوص اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کا اپنی جان سے زیادہ انتظام کرناچاہئے۔ دشمن ازلی ہو یا دوست نمااسکی نظر ہمارے اس ” کمبل“ پر ہے،جسے ہمیں کبھی نظر اندازنہیں کرناچاہئے۔
شراکتِ اقتدار!
پیپلز پارٹی سے شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے پانے کے بعد مسلم لیگ ق حکومت میں شامل ہوگئی ہے معاہدے میں سرائیکی اور ہزارہ صوبہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شراکت اقتدار کے معاہدے کو چھو منتر اور جادوگری قرار دیتے ہوئے اسے بچی کھچی ملکی دولت لوٹنے کا سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو اپنا اقتدار بچانے اور ق لیگ کو 32کروڑ کے این ایل سی کیس میں پھنسے پرویز الٰہی کے لخت جگر کو چھڑانے کی ضرورت تھی۔اب پیپلز پارٹی کی حکومت رواں ماہ پیش ہونے والا بجٹ آسانی سے منظور کرالے گی اور ق لیگ اصل مقصد کے حصول کے ساتھ ساتھ وزارتوں اور دیگر بے شمار عہدوں سے سرفراز ہوگئی ہے۔ سیاسی اتحاد اصولوں پر ہوتو اس میں کوئی قباحت نہیں۔مذکورہ اتحاد، کہاں قائداعظم کی مسلم لیگ او ر کہاں پیپلز پارٹی، دونوں کی سیاست اور منشور میں زمین و آسمان کا فرق ہے بالکل غیر فطری اتحادہے۔ بہترتھا ق لیگ پیپلز پارٹی میں ضم ہوجاتی اس سے اقبال و قائد کی مسلم لیگ تو طعنوں سے بچ جاتی۔ غیر فطری اتحادوں کی عمریں طویل نہیں ہوتیں لیکن یہ شاید غیر فطری اتحاد نہیں اس حوالے سے فطری ہے کہ فریقین کا مطمع نظر مشترک ہے۔بقول شہباز شریف لوٹ مار کا ڈرامہ اور یہ ڈرامہ طویل عرصہ جاری رہ سکتا ہے۔اصولوں کی بات ان کو سمجھائی اور بتائی جاتی ہے جو قومی سیاست کو سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوں۔پی پی اور ق لیگ سب سمجھتی ہیں عمل اس پر کرتی ہیں جس میں ذاتی مفاد ہو۔اب اس شراکتِ اقتدار کو قومی مفاد قرار دیا جارہا ہے۔بہر حال کل کے حریف آج کے حلیف بن گئے ہیں اولادوں اور جانشینوں نے اپنے والدین اور پیروکاروں کے قتل معاف کردئیے تو مل بیٹھ کر تھوڑی سی توجہ عوامی مسائل پر مرکوز کریں۔مہنگائی بیروزگاری اور بد امنی جیسے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ محض ن لیگ کی مخالفت میں اور اسے زیر کرنے کیلئے نئے صوبوں کے قیام اور تقسیم پنجاب کی بات نہ کریں۔صوبہ پنجاب تقسیم ہوگا تو پھر پاکستان کو ”صوبستان“ بنانا پڑے گا۔ اس ” بے اصولے“ اتحاد کا یہ فیصلہ بہتر ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کیلئے پریشانی پیدا نہیں کی جائے گی۔
یہ مہنگائی کی سونامی ہے کوئی روکنے بچانے والا؟
پی آئی اے نے کرائے بڑھادئیے، ریلوے کی سمری تیار ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز کرائے بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں، اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ مہنگائی کے سونامی نے تو گویا زندگی کے پلازے گرا دئیے، تفصیل اس اجمال کی بیان کی جائے تو دفتر درکار ہیں، پی آئی اے نے کرائے بڑھا دئیے اس لئے کہ جیسے اُس نے بڑی کمائی کی ہے اور چالیس سالہ پرانے جہازوں کے فلیٹ کو نئے سے بدل دیا ہے، آخر مہنگائی کا کوئی جواز بھی ہے، عوام نان شبینہ کو محتاج ہوں اور ہر شے مہنگی کردی جائے تو یہ کفر کے قریب تر ہے، نوید یہ بھی ہے کہ ٹرانسپورٹرز بھی کرائے بڑھانے کیلئے پابہ رکاب ہیں، تیل تقریباً90روپے فی لٹر دستیاب ہے، یہ تو قوم کو اپاہج بنانے کے مترادف ہے کہ وہ چل بھی نہ سکے اور حکمران دوڑتے رہیں، اب تو یہی ایک مداوا رہ گیا ہے کہ لوگ گھروں میں محصور ہوجائیں، گاڑیوں کو لاک لگا دیں، پیٹ پر پتھر باندھ لیں، اشیائے خوردونوش مہنگی ہوتی جارہی ہیں، ایک غریب خربوزے کودیکھ سکتا ہے خرید نہیں سکتا کہ ایک خربوزہ چالیس روپے کا آتا ہے، روٹی سات آٹھ روپے میں ملتی ہے، سبزیاں گوشت ایک بھاﺅ بکتی ہیں، کیا کوئی ہے جسے راوی کے کنارے بھوکے کے مارے کتے کے مرنے کی جواب دہی کا ڈر ہو، جب انسان کے مرنے کا حکمرانوں کو خو ف نہیں اور خو د کو ذمہ دارنہیں جانتے تو بھلا کتے کو کون بچائے، سیاستدانوں حکمرانوں کے ذاتی سیاسی معاہدے عروج پر نہیں اور دوسری جانب مہنگائی کی سمریاں اور وزیراعظم کی منظوریاں بلندیوں پر ہیں، آخر کیا اس قوم کو مہنگائی کے ہاتھوں مارنے کا ارادہ ہے۔