برقعہ حجاب نقاب

03 مارچ 2010
مکرمی! یورپ کے ممالک خصوصاً فرانس جرمنی‘ برطانیہ اور ہالینڈ میں آج کل ان کے اخبارات میں برقعہ‘ حجاب‘ نقاب‘ اور سکارف کے خلاف خوب پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ خصوصاً فرانسیسی روزنامہ Le Parisien اور معروف ہفت روزہ میگزین Le point پیش پیش ہیں اور پھر مسلمانوں کے لئے افسوس کن واقعہ کہ حکومت فرانس نے ایک مرتد‘ بے ضمیر‘ زرخرید‘ منافق اور خود ساختہ امام جس کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اسے مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر یہ ناپاک کلمات کہنے کی جرات اور حوصلہ افزائی دی۔ اسلام میں کوئی پردہ نہیں اللہ تعالٰی ایسے نام نہاد اماموں کو ہدایت دے!کئی سالوں سے فرانس میں سکارف پر پابندی کے بعد بہت سے دوسرے یورپی ممالک میں بھی اس کی تقلید میں سکارف‘ برقعہ‘ نقاب اور حجاب پر پابندی عائد کرنے کے لئے قانون سازی ہونی شروع ہوئی۔ اس پابندی کے حوالے سے دلائل دئیے جاتے ہیں۔ کہ اس سے سیکولرازم کو دھچکا لگتا ہے۔ کیونکہ یہ مذہبی علامت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے پابندیاں اور نئے نئے قوانین‘ صرف اور صرف ”دشمنی اسلام“ مسلمانوں کے ازلی اور ابدی دشمن! یہود و نصاریٰ دوسری طرف سے فرانس میں ہی عیسائی راہبوں کو ”عبا“ پہننے کی اجازت ہے اور نتر کو مخصوص لباس پہننے کی اجازت ہے۔ عام آدمی صلیب کا نشان گلے میں پہنتے ہیں۔ اسی طرح یہودی لابی بھی مخصوص لباس اور سر پر پوٹی پہنتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکولرازم کے نام لیوا فرانس میں یہودیوں‘ عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے یکساں قوانین و ضوابط ہیں؟ اگر جواب انکار میں ہے تو پھر مہذب دنیا کو اس پر ضرور غور کرنا چاہئے وگرنہ سیکولرازم کا شخصی آزادی کا تصور مسخ ہو کر رہ جائے گا
اب دیکھا دیکھی دوسرے یورپین ممالک بھی فرانس کی راہ پر چل پڑے ہیں آخر 57 اسلامی ممالک اور ان کی جماعت او آئی سی کیوں خاموش ہیں؟محمد نواز بٹ فرانس
Mohammad Nawaz But ٰ 48 Rue De Montmagny 95410 Groslay France: Telephone: 0620295662