خادم پنجاب، تعلیمی پسماندگی دور کرنے کی کوشش کو رائیگاں نہ جانے دیں

03 مارچ 2010
مکرمی! میرا تعلق شعبہ تعلیم سے ہیں اور انفرادی حیٹیت سے اپنی تمام کشتیاں جلا کر تعلیم کو معیاری اور جدید بنانے کے لئے کام کر رہا ہوں۔ خادم پنجاب کا تعلیم سے خصوصی لگاﺅ اور انکے دلیرانوں فیصلوں کی وجہ سے میں گزشتہ پندرہ ماہ سے ان سے ملنے کے لئے کوشاں ہوں ۔ میں گزشتہ گیارہ برس سے شب وروز تعلیم پر تحقیق اور تعلیمی سوفٹ وئیر کی تیاری پر کام کر رہا ہوں۔ ان دونوں شعبوں میں میرا کام تعلیم کو معیاری اور جدید تر بنانے میں مدد گار ہو گا۔ میرے کام کو ملکی اور غیر ملکی ماہرین تعلیم نے سراہا اور اسے منفرد قرار دیا۔ جناب فیاض احمد ساجد سسٹم انالسٹ PMIUنے کہا ظفر حبیب صاحب آپ ہمت نہ ہارنا اور لگتا ہے کہ آپ ہمت ہاریں گے بھی نہیں۔ پاکستان کے طلبا ءکے لئے آپ کا کام نہائت کارآمد ہے۔اور ایسا کام حکومت کو باہر سے بھی نہیں ملے گا۔جناب عالی میرے کام کا معیار ایسا ہے کہ یہ دنیا بھر کے طلباءکے لئے مفید ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام بلند کرنے کا باعث ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ حکومت کے تعاون سے اس تحقیق اور سوفٹ کے مشن کو آگے بڑھاﺅں۔ میرا سوفٹ وئیرپاکستانی طلباءکو دستیاب ہو ۔میں چاہتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں اور کام کے ذریعے تعلیمی شعبے میں پاکستان کی خدمت کروں۔خادم پنجاب کو خط لکھتا ہوں تو وہ مجھے حکومتی محکموں کی طرف روانہ کردیتے ہیں۔ حکومتی محکمے میرے کام کو سراہتے ہیں اور پھر مجھے کسی دوسرے محکمے کی طرف روانہ کر دیتے ہیں۔کبھی کوئی رپورٹ تیار ہوتی ہے تو وہ کسی دفتر میں فائلوں کے انبار میں کھو جاتی ہے۔تعلیم پر لکھنے والے دانشوروں اور ٹی وی پر تعلیمی حالت کا رونا رونے والوں کو میں نے اپنے کام کی تفصیلات اور سوفٹ وئیر کے سمپل بھیجے ۔پورے پاکستان سے صرف ایک کالم نگار نے جواب دیا۔ نوائے وقت نے میری پکار کو سنا او اخبار میں جگہ دی۔ لیکن پندرہ ماہ ہو چکے اور میرا یہ سفر ایک دائرے میں جاری ہے ۔ کیا میں بھی ہمت ہار کر باقی سب لوگوں کی طرح ہو جاﺅں۔کیا میں اپنے کام کو ملک سے باہر بیچ دوں کیونکہ حکومتی ادار وں کی بے یقینی اور بے حسی ختم نہیں ہو رہی ہے۔انہیں یقین ہی نہیں کہ ہم تعلیمی شعبے میں دوسری اقوام کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ سیاسی لوگوں کی اپنی دلچسپیا ں اور ترجیحات ہیں اور سرکاری ملازمین فقط اپنے روزمرہ کے امور تک خود کو محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے اربوں روپے خرچ کر کے صوبے کے سرکاری ہائی سکولوں میں کمپیوٹر لیبز قائم کیں لیکن حکومت کے پاس ایسا کوئی تعلیمی سوفٹ نہیں ہے جو ہمارے طلباءکو انگلش اور دوسرے مضامین کی تعلیم دے سکے ۔ایسا ناقابل مثال سوفٹ وئیر میں تیار کر رہا ہوں لیکن حکومت مٹی کی مادھو بنی بیٹھی ہے۔ جناب نظامی صاحب سے گزارش ہے کہ خود بھی میرے سوفٹ وئیر کی ویڈیو اور تحقیقی کام کو ملاحظہ فرمائیں اور حکمرانوں تک میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ ہم اس قابل ہیں کہ تعلیمی شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کر سکے صرف انہیں اپنے رویہ کو تبدیل کرنا ہو گا۔ ظفر حبیب/سلیمی سپر سکول سمندری/ 0302 - 7007471