منجھے ہوئے سیاستدان

03 مارچ 2010
مکرمی! حلقہ احباب میں سے جو بھی ملتا کہتا تھا ”شاہ جی دعا کریں، شیخ رشید نہ جیت سکے“ اصلاح کرنا پڑتی کہ اس کو دُعا نہیں بَددُعا کہتے ہیں۔ مشرف اور اس کا دستر خوانی ٹولہ، عوامی بد دعاﺅں کے معاملے میں خود کفیل ہے۔ ڈکٹیٹر مشرف نے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کردیں۔ اس کے قصیدہ خواں، خود فریبی میں مبتلا ہیں اپنی چالاکیوں، مکاریوں، منافقتوں کو سیاست کہتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ میڈیا کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان کا ہر شہری حقیقت کو جاننے لگا ہے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ ایسے سیاست دانوں کو ”منجھے ہوئے سیاستدان“ کہا جاتا ہے اب آنے والے وقت میں سچ بولنے والے کو منجھا ہوا سیاست دان کہا جائے گا۔ماجد علی شاہ -159اے ریونیو سوسائٹی جوہر ٹاﺅن لاہور/ 0200-4688221