چیف جسٹس لاہور کی خدمت میں

03 مارچ 2010
مکرمی! چند دن گزرے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ایک 75 سالہ باریش بزرگ جس کا مقدمہ 25 سال سے زیر التوا ہے اظہار حیرانگی سمجھا تھا۔ عالی جاہ آپ کی راج دھانی میں ایک بے ریش 91 سالہ بزرگ ہے جس کا مقدمہ 52 سال میں داخل ہو چکا ہے 1960ء سے 1973ء تک محکمہ بحالیات میں اوپر نیچے کے دور ہوتے رہے۔ 1974ء سے 2000ء تک 26 سال ہائی کورٹ میں لٹکتا رہا۔ جون 2000ء میں فیصلہ ہوا۔ فاضل جج نے ماتحت عدالت کو کیس ریمانڈ کیا اور ہدایت کی یہ 40 سال پرانا کیس ہے اس کا فیصلہ ترجیحاً ماہ میں کیا جائے۔ اس کے باوجود وہاں بھی کیس قریباً 9 سال لٹکتا رہا۔ فروری 2009ء میں کیس کا فیصلہ ہوا لیکن افسر مجاز نے ہائی کورٹ کی ہدایات کو یکسر نظر انداز کر دیا فریقین کو دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ کسی فریق کی دو کسی کی تین نسلیں اللہ کو پیاری ہو چکی ہیں 91 سالہ فریق جو بقید حیات ہے چلنے پھرنے سے معذور اہل محلہ کے پاس بھی وہیل چیئر پر جانا پڑتا ہے 50 سال تو کیس کی پیروی زیادہ تر خود ہی کرتا رہا لیکن آج کل وکیلوں کی لاکھوں کی فیس ادا نہیں کر سکتا۔ آپ سے جلد انصاف کی بھیک مانگتا ہے۔ (رٹ پٹیشنر نمبر 205/R/2009)