خواتین بزمِ اقبال کا کرب

03 مارچ 2010
مکرمی! میں خواتین بزمِ کی وائس چیئرپرسن (ماہر تعلیم) فلسفہ اولڈ راوین ہوں آپ کے اخبار میں ناظم اقبال اکیڈمی سہیل عمر کا مراسلہ پڑھا۔ پڑھ کر سخت اذیت ہوئی اسلم کمال ڈائریکٹر پروگرام ایوان اقبال کے زیر سایہ خواتین بزم کے جو اجلاس ہوتے رہے ان میں نہ صرف مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین بلکہ گھریلو خواتین بھی جو اقبال اور ان کی شاعری سے شغف رکھتی ہیں شامل ہیں۔ یہ خواتین معزز گھرانوں کی بہو بیٹیاں اور بیویاں ہیں اور خواتین بزم کی معزز ممبران ہیں ان سب کا مقصد نہ صرف اقبال کو خراج تحسین پیش کرنا ہے بلکہ اقبال کے افکار، خیالات سے بہرہ ور ہونا ہے اور یہ بزم ان کی ادبی اور علمی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک اسلم کمال کی سربراہی میں اس بزم کے 242 اجلاس ہو چکے ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ایک طرف سہیل عمر ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی خواتین بزم اقبال کو اجلاس جاری رکھنے کی یقین دہانی کروا رہے ہیں اور بہت زیادہ سہولتوں اور مراعات سے نوازنے کا وعدہ کر رہے ہیں اور دوسری طرف خواتین بزم اقبال کی اخلاقی گراوٹ کے فرضی قصے سنانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ یہ منفی اور متضاد بیانات ان کی شخصیت اور کردار کی عکاسی کر رہے ہیں اور خواتین بزم اقبال ذہنی کرب سے دوچار ہیں جب تک اس بیان کی تردید نہ کی گئی تب تک ہم خواتین ایوان اقبال میں اجلاس کے لئے Venue کو استعمال کرنے سے گریزاں رہیں گے۔(کشور ملک وائس چیئرپرسن خواتین بزم اقبال)