غزل (سعد اللہ شاہ)

03 مارچ 2010
چند لمحے جو ملے مجھ کو ترے نام کے تھے
سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے
میری آنکھوں سے ہیں وابستہ مناظر ایسے
جو کسی صبح کے تھے اور نہ کسی شام کے تھے
جس طرح ہم نے گزارے ہیں وہ ہم جانتے ہیں
دن فراغت کے بظاہر بڑے آرام کے تھے
یہ محبت کا کرشمہ ہے کہ ہم خاک ہوئے
آسماں بن کے بھی رہتے تو ترے بام کے تھے
دور ہیں حرص و ہوس سے تو کرم ہے اس کا
دانہ رکھتے جو نظر میں تو کسی دام کے تھے
سعد پڑھنا پڑی ہم کو یہ کتابِ ہستی
باب آغاز کے تھے جس کے نہ انجام کے تھے