FPCCI اور UVAS کے درمیان مفاہمت کی یادداشت

03 مارچ 2010
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے درمیان زونل آفس میں ایک باوقار تقریب میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے جس میں طے کیا گیا کہ اکیڈیمیہ اور انڈسٹری کے میدان میں تعاون اور ریسرچ کے شعبہ میں اضافہ کیا جائے گا خصوصاً دنیا میں اس وقت لائیو سٹاک کے شعبہ میں بہت زیادہ گنجائش ہے اور سب سے اہم بات ہے کہ اگر پاکستان اس شعبہ میں تھوڑی سی ریسرچ کرے تو پاکستان میں ایک طرف لائیو سٹاک کے شعبہ میں بہت بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے اور دوسری طرف ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کی حلال مارکیٹ میں جہاں اس وقت پاکستان کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے پاکستان بہت زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ FPCCI کے نائب صدر حمید اختر چڈھا نے حاضرین کو خوش آمدید کہا بعد میں پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز وائس چانسلر نے تحصیل سے ان شعبوں کی نشاندھی کی جس میں تھوڑی سی ریسرچ اور انڈسٹری کے تعاون سے بڑے بڑے کارنامے انجام دئیے جا سکتے ہیں۔ تقریب کی صدارت سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخار علی ملک نے کی۔ اس موقع پر لائیو سٹاک کے ایڈیشنل سیکرٹری اور صنعت و تجارت کے ساتھ اکیڈیمیہ کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
افتخار علی ملک نے اپنی تقریر میں تفصیل سے بتایا کہ مفاہمت کی جس یادداشت پر دستخط کئے جا رہے ہیں اس کے لائیو سٹاک کے شعبہ پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گذشتہ دنوں اسلامی چیمبر آف کامرس کی میٹنگ قاہرہ میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں میری نشاندھی پر چیمبر کے صدر نے اعلان کیا کہ پاکستان میں جدید ذبیحہ خانہ تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ حلال انڈسٹری قائم کرنے کے لئے خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ آج ہی کی بات ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بہاولپور کے علاقے میں ترقیاتی پروگراموں کا افتتاح کرنے گئے ہیں جہاں کروڑوں کی لاگت سے تعمیر چار لائیو سٹاک کے مراکز بھی شامل ہیں۔ ٹوٹل پیکیج تو تقریباً چار ارب روپے کا ہے تاکہ شمالی پنجاب کو بھی پنجاب کی ترقی کی شاہراہ پر سفر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
اکیڈیمیہ انڈسٹری تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرے۔ اس وقت چین‘ جاپان‘ امریکہ اور یورپ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں انڈسٹری اکیڈیمیہ میں قریبی تعاون کی وجہ سے بے شمار نئی مصنوعات وجود میں آئی ہیں۔ پاکستان کو تو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتوں سے جی بھر کر نوازا ہے۔ صرف ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے مناسب منصوبہ بندی اور افرادی قوت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر لائیو سٹاک اور حلال انڈسٹری کی طرف بھرپور توجہ دی گئی تو مختصر عرصہ میں پاکستان غیر ملکی امداد سے بے نیاز ہو جائے گا۔