دو ناظم اور دو سو سیاستدان

03 مارچ 2010
شکر ہے کہ ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کے ساتھ ایم کیو ایم ہے، صرف کراچی میں بلدیاتی نظام کو خطرہ نہیں بلکہ سندھ میں بھی نہیں اور پاکستان میں بھی نہیں۔ مصطفیٰ کمال کی تعریف ہوتی ہے تو وہ الطاف حسین کا نام لیتا ہے۔ کراچی میں صورت حال بگڑتی ہے تو لوگ ایم کیو ایم کی طرف دیکھتے ہیں اور تعمیری کاموں کے لئے بھی نظر انہی کی طرف جاتی ہے، مگر وہ بھی مکمل طور پر غیر سیاسی نہ ہو سکے۔ عامر محمود کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا اور ساری جماعت اسلامی آج کل اسلامی جمعیت کی قیادت پر مشتمل ہے، کئی لوگ جمعیت سے کسی اور جماعت میں چلے گئے۔ جاوید ہاشمی، احسن اقبال اور حنیف عباسی زیادہ تر لوگ مسلم لیگ ن میں گئے۔ اس سے مسلم لیگ ن کی حیثیت کا اندازہ ہو سکتا ہے جبکہ مسلم لیگ کا مزاج جماعت اسلامی والا نہیں ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ میں سٹوڈنٹ لیڈر کے لئے ناظم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جب حافظ سلمان بٹ عامر محمود کے مقابلے میں ہار گئے تو وہ ان کے پاس گئے اور کہا کہ جناب میں لاہور کا ناظم بنا ہوں مگر میرے ناظم تو آپ ہیں۔ حافظ سلمان بٹ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم تھے۔ عامر کے اندر کی مروت اور رواداری تھی ورنہ کون ہارے ہووں کے پاس جاتا ہے۔ شیخ رشید کے ہارنے پر شریف برادران نے جو کچھ کہا اور ان کے لوگوں نے جو زبان استعمال کی وہ مانسہرہ میں جیتنے والوں نے استعمال نہ کی تھی۔ مجھے پاکستان کے مختلف شہروں کے ناظمین سے کوئی تعارف نہیں، مجھے پشاور اور کوئٹہ کے ناظم کا نام بھی نہیں آتا، صرف دو ناظم مجھے یاد ہیں، اب تو وہ بھی ناظم نہیں، میں گئے ہووں کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہوں۔ شریف برادران بھی جب یہاں نہ تھے تو میں ان کو یاد کرتا تھااب وہ یہاں ہیں اور بہت ہیں انہیں ابھی کسی کی ضرورت بھی نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے بہت کام کراچی کے لئے کیا، پوری دنیا نے مانا ، دوست دشمن قائل ہوئے سب سے بڑی بات چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ہے کہ انہوں نے کراچی میں تعمیر و ترقی کے لئے مصطفیٰ کمال کی تعریف کی جبکہ چیف جسٹس جب غیر فعال تھے تو کراچی میں داخل نہ ہونے دینے کے لئے مصطفیٰ کمال کی جماعت ایم کیو ایم پر الزام لگتا رہا۔ ہمارے ملک کی سیاست و حکومت الزام اور انعام کے درمیان لٹکتی رہتی ہے۔ وہ لوگ بہت کم ہیں جو الزام کو انعام بنا دیتے ہیں، کراچی میں جتنا کام ناظم کراچی نے کرایا ہے سیاستدانوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ لاہور میں عامر محمود نے بھی کام کیا ہے کچھ منصوبے اب مکمل ہو رہے ہیں یہ کام ناظم لاہور نے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ مل کر کئے اس میں کریڈٹ لینے اور ایک دوسرے پر بازی لینے کی بات بھی نہ تھی کچھ لوگوں میں کسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی وہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ وہ کریں بس وہی کریں اور اس کے لئے تعریف ہو اور وہ بھی صرف ان کے حصے میں آئے، جو کچھ بھی ہو وہ ان کی مرضی اور اجازت سے ہو۔ اگرخود یا خودبخود کچھ بن جائے خواہ اس طرح بنے جس طرح وہ بنے تھے، وہ جو کچھ بھی کرے گا، غلط کرے گا، غیر جمہوری ہو گا اور کرپشن بھی صرف وہی کرے گا۔ کرپشن ناظمین نے بھی کی ہو گی وہ سیاستدانوں کی کرپشن سے بہرحال کم ہو گی مگر سیاستدان سمجھتے ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی کرپشن نہ کرے کئی سیاستدانوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کے ناظم بننے کی کوشش کی۔ یہ سب کچھ ان کے خیال میں غیر سیاسی تھا، اب پھر بلدیاتی انتخابات سیاسی بنیادوں پر کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے شہر کے میئر ہوتے تھے اور وہ سیاستدانوں کے ماتحت ہوتے تھے اور کوئی کام نہ کرتے تھے اچھے یا بُرے کام کرنے کے لئے سیاستدانوں سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے، کوئی آدمی اب ناظم بن کے مصطفیٰ کمال جیسا کام کراچی میں کرے گا تودیکھیں گے اس سے پہلے کراچی میں کیا کام ہوا؟ عامر محمود کے خلاف کوئی بات نہ ہوئی جب حکومت بدلی ہے تو ان کے خلاف بات شروع ہوئی سارے ناظموں کے خلاف بات ہونے لگی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے کبھی وابستہ لوگ ناظم تھے۔ ناظموں کو خواہ مخواہ مخالف کیمپوں میں دھکیل دیا گیا۔ بات گورنر ہاوس تک گئی اور پھر عدالتوں میں چلی گئی۔ محاذ آرائی کی سیاست کسی کے فائدے میں نہیں ہے مگر کچھ لوگ اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ عامر محمود نے اس ساری لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔
کراچی میں ٹریفک کے نظام کو جس طرح بہتر بنایا گیا وہ ایک چیلنج ہے کوئی دوسرا کوئی کام کر دکھائے گا تو بلدیاتی نظام کے لئے مخالفانہ بات میں کوئی وزن پیدا ہو گا اس سے پہلے بیورو کریسی نے پچاس برسوں میں کیا تیر مارا ہے۔ بیورو کریسی نے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے مل کر کرپشن کی ہے اور کوئی تعمیری کام نہ کیا۔ اب پھر سب کچھ ان کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ناظم لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں وہ کرپشن بھی کرتے ہوں گے مگر کچھ نہ کچھ تو اچھا بھی کریں گے کہ انہیں پھر ووٹوں کے لئے لوگوں کے پاس جانا ہوتا ہے۔ بیورو کریٹس تو کسی کے محتاج نہیں ہوتے کہ کسی کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ سیاستدان ان سے بات کرنے میں ہر فقرہ سے پہلے بھی Sir کہتے ہیں کسی نظام کو ختم کرنے کی بجائے اس میں موجود خرابیاں اور کمیاں دور کرنا چاہئیں۔ مصطفیٰ کمال کو پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا۔ عامر محمود کے لئے ملک بھر میں تعریف و تحسین کی گئی ایسے لوگوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔