جنت کا ٹکٹ بزنس

03 مارچ 2010
رحمت عالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت پر دہشت اور وحشت گردی؟ کیوں اور کس کے فائدے کے لئے؟ اور پھر پاکستان میں ہی کیوں؟ کتنے اور مسلم ممالک ہیں ہُوا ہے کہیں اور کبھی ایسا؟ کونسا مرض بڑھتا جا رہا ہے؟ وہ مرض جو ہمارے وجود کے لئے مہلک ہوتا جا رہا ہے۔ وہ بھی دین اور اسلام کے نام پر۔ یہ کونسا اسلام ہے؟ کس کا اسلام ہے؟ کس کے لئے رحمت ہے رحمتِ عالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجا گیا یہ دینِ رحمت؟ روزِ رفتہ ملک کے جید ترین علماءحضرت علامہ رحمان ملک کی صدارت میں اس سانحہ اور دہشت و وحشت پر غور و غم کے لئے بلائے اجلاس میں نہایت پاکیزہ قہقہے لگا رہے تھے ہم نے بہت کوشش کی کہ ان فرقہ فرقہ علماءکرام کے باجماعت قہقہوں میں مسکراہٹ کی نیت باندھ لیں ”پیچھے حضرت علامہ رحمان ملک کے“ کہہ کر تھوڑا سا مسکرا ہی لیں مگر واللہ ناکام رہے‘ شاید اس لئے کہ ہم نہ جید تھے نہ علماءتھے اور نہ ہی اس دہشت اور وحشت پر ہم نے کوئی ہنگامی دکھ درد کی پریس کانفرنس کی ہوئی تھی‘ ٹیلی ویژن کیمروں کو اپنے دکھ کی درد کی تصویر نہیں دکھائی ہوئی تھی۔ یقیناً اسی محرومی کے سبب ہم رحمان ملک کی امامت میں قہقہے لگانے والوں کے ثوابِ دارین میں سے بھی حصہ نہیں پا سکے تھے لیکن بات وہی کہ ایسا ہمارے ہی ملک میں کیوں ہوتا ہے اور ہو رہا ہے؟ باقی دنیا میں ایسی دہشت اور وحشت کا کبھی مظاہرہ کیوں نہیں ہوا؟ اس لئے کہ وہاں ایسے جید علماءنایاب ہیں جیسے اپنے ملک میں وافر پائے جاتے ہیں؟ آخر دینِ رحمت کیوں دینِ رحمت نہیں رہنے دیا گیا ہمارے لئے؟ اس کے ذمہ دار عوام ہیں؟ نہیں ۔۔ اس کے ذمہ دار سیاستدان ہیں؟ وہ سیاستدان بھی جو کسی دینی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے ہرگز ہرگز ایسی دہشت اور وحشت کے ذمہ دار نہیں‘ ان میں اور خرابیاں جو بھی ہوں دین کی بنیاد پر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو لڑانے اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے میں ان میں سے کسی کا بھی کوئی کردار نہیں‘ نہ آصف علی زرداری کا نہ نواز شریف کا نہ اسفند یار ولی کا اور نہ الطاف حسین کا۔ تو کیا یہی سبب تو نہیں کہ دین کے نام پر سیاست کرنے والی پارٹیوں کو عوام میں کبھی بھی وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی جو ان دوسری سیاسی پارٹیوں کو اور ان کی قیادتوں کو حاصل ہے؟ کیا فرماتے ہیں بیچ اس ناکامی و کامرانی کے حضرت اور مولانا فضل الرحمن؟ نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے تو ان کا اپنا خاندان اور فرقہ اس ملک کے مسلمانوں کو اپنے جیسا بنانے کی سیاست و تبلیغ کرتا آیا ہے کیوں نہیں لوگ ان کی امامت میں اکٹھے ہو سکے؟ وہی نہیں ساجد میر ہیں قاضی حسین احمد کے بعد منور حسن ہیں (اگرچہ ان کا یعنی منور حسن پارٹی کا اس روز کی وحشت اور دہشت میں کوئی حصہ نہیں بتایا جاتا) مگر اس ملک کے عوام کو مسلمان یا اپنے جیسے مسلمان بنانے ہی کی تو وہ اور ان کی جماعت سیاست کرتی آئی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محلے کے لوگ جس جید مولوی کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں اسے اپنا لیڈر یا نمائندہ چُننا پسند نہیں کرتے؟ ہم سُنتے ہیں کہ مسجد اللہ کا گھر ہوتا ہے گویا جو بھی جہاں بھی کہیں مسجد ہے وہ اللہ ہی کا گھر ہے۔ پھر اللہ کے گھر پر اللہ کے دین کے علمبردار حملہ کر دیں؟ یا اللہ کے گھر سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت کے سلسلہ کے جلوس پر فائرنگ کی جائے؟ اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی موجودگی میں کہ ہمارا تو ایمان ہے کہ کائنات کا خالق و مالک ہر لمحہ ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔ کر سکتا ہے کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والا اللہ کے گھر پر حملہ؟ کر سکتا ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والا کوئی بندہ بشر اللہ کے گھر کے اندر سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت کے موقع پر نکالے کسی جلوس پر فائرنگ؟ ہر مسجد اللہ کا ہی گھر ہے تو اللہ اور اس کے آخری نبی کو ماننے والا ہر بندہ اللہ کے ہر گھر میں نماز کیوں نہیں ادا کر سکتا؟ نہیں تو کیوں نہیں؟ کیا ایسا تو نہیں کہ اللہ کے گھروں پر بھی مختلف گروپوں نے قبضہ کر لیا ہُوا ہے؟ خدانخواستہ ۔۔ اور اللہ کے اپنے آخری نبی کے ذریعے بھیجے دین پر بھی قبضہ ہو چکا ہے؟ کیا لڑنے لڑانے والے یہ دعویٰ نہیں رکھتے کہ دین وہی ہے جو ان کے پاس ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر جھگڑا کس بات پر ہے؟ اس وحشت اور دہشت کی بنیاد کیا ہے؟
اندلس کی تلاش کے دوران ہم دن بھر الحمراءکے محلات کے زخم دیکھتے رہے‘ مسجد کے پاس سے گزرے تو وقت نماز تھا دل میں آیا مسجد چلیں یاد آیا کہ اس مسجد پر تو قبضہ ہو چکا ہے دیگر لاکھوں مساجد کی مانند۔ دکھیا دکھ کے زخم سہلاتے ہوئے مقابل کی پہاڑی پر بنائے جنت العریف پہنچ گئے وہ جنت العریف جو قرآن میں بیان کردہ جنت کا تصور ذہن میں رکھ کر بنایا گیا تھا جس کی تفصیل کی گنجائش نہیں ۔ گائیڈ سیاحوں کو اس جنت کے بنانے اور بنوانے والوں کے تصورات اور اعمال سے اور خودکشی کے حالات سے آگاہ کر رہے تھے اور ایک کونے میں ایک نوجوان نماز ادا کر رہا تھا۔ یہ کون ہے؟ یہ زمین تو ساری کی ساری صدیوں پہلے اہل سجود نے باہمی دہشت اور وحدت کے زور پر عیسائیوں کے حوالے کر دی تھی صدیوں سے سجدوں کو ترستی آ رہی ہے۔ پاس بیٹھ گئے۔ شام کو وہ نوجوان ہمیں ایک چھوٹے سے گھر لے گیا۔ کچھ نوجوان چڑی چھکا کھیل رہے تھے کچھ ٹیبل ٹینس میں وقت گزار رہے تھے کچھ کتابیں کھولے ارد گرد بکھرے پڑھ رہے تھے عشاءکا وقت ہُوا ایک نے اٹھ کر اذان کہہ دی سب نے جو بھی کر رہے تھے چھوڑ دیا وضو کئے ایک نوجوان کی امامت میں سب نے نماز ادا کی اور پھر اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ وہ سب مراکش اور ارد گرد کے مسلم ممالک سے تعلیم حاصل کرنے غرناطہ آئے ہوئے تھے ایک مکان کرائے پر لے کر اسے مسجد بنا لیا تھا کہ غرناطہ اور اندلس میں اس وقت تک مسجد بنانے کی اجازت نہیں تھی اور سب ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان اکٹھے نمازیں پڑھتے تھے اور اس مسجد میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بھی تھی۔ کر سکتا ہے کوئی بڑے سے بڑا جید مولوی اپنے ہاں اپنے قبضہ کے اللہ کے گھر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کے لئے دین اسلام اتنا آسان؟ ہم نے کسی بھی اور ملک میں دین اسلام اتنا مشکل نہیں پایا جتنا اپنے ملک میں اور اس کی ہر مسجد میں اسلام مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مگر آسان ترین دین اسلام کو مشکل ترین کس نے بنا دیا ہے؟ دینِ رحمت کو دہشت اور وحشت کے دائروں میں کس نے بند کر دیا ہے؟ اور وہ سب مل ملا کر لڑ لڑا کر اس دین کا اور اس کے ماننے والوں کا حشر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ آتا ہے آپ کو کچھ سمجھ؟ لگا سکتے ہیں اس روز کی دہشت اور وحشت گردی کے بعد بھی آپ رحمان ملک کی امامت میں کوئی ہلکا سا بھی پاکیزہ قہقہہ ؟ شاید نہیں کہ آپ ہماری طرح نہ عالم ہیں نہ جید ہیں۔ ہے آپ کے پاس جنت کا ڈائریکٹ ٹکٹ جاری کرنے کی ایجنسی؟ ۔۔ جنت کے ٹکٹوں کی ایجنسیوں والے، اس ملک کو دوزخ کیوں بنانے پر کمریں باندھے ہوئے ہیں؟ سب ٹکٹ بزنس تو اس ملک کے ساتھ ہی ہے!