شہبازشریف نے لندن اثاثے ظاہر کردیئے‘ کئی ارکان پنجاب اسمبلی ”بے کار“ ہیں

03 مارچ 2010
اسلام آباد (قاضی بلال) الیکشن کمشن میں پنجاب اسمبلی کے ارکان کے جمع کرائے گئے سالانہ گوشواروں کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے لندن میں اثاثے ظاہر کر دئیے۔ پنجاب حکومت کے وزراءاور ارکان اسمبلی کے اثاثے کروڑوں روپے میں ہیں ان میں سے اکثر کے پاس اپنی ذاتی گاڑیاں نہیں‘ وزیراعظم سے ان کے بیٹے زیادہ امیر نکلے ان کی گاڑی کی مالیت بائیس لاکھ روپے ہے۔ شہباز شریف کے اثاثے کروڑوں روپے میں بنتے ہیں صرف لندن میں ان کی جائیداد کی قیمت پندرہ کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے ہے جبکہ ایک کروڑ چھیاسٹھ لاکھ روپے کی مری میں جائیداد ہے انہتر لاکھ روپے کی زرعی زمین شیخوپورہ اور لاہور میں ہے ایک کروڑ سڑسٹھ لاکھ انتیس ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے جس میں چودھری شوگر مل حمزہ سپننگ مل محمد بخش ٹیکسٹائل مل اور حدیبیہ پیپر مل شامل ہے ان میں انکا دس فیصد شیئر ہے اس کے علاوہ دو گاڑیاں ہیں جن کی مالیت چار کروڑ روپے سے زائد ہے اور دونوں گاڑیاں انہیں تحفہ میں ملی ہیں ان کے مجموعی اثاثے بینک اکاﺅنٹس ملا کر چوبیس کروڑ ستاون لاکھ روپے بنتے ہیں جبکہ ان کے ذمہ ان کی بیگم نصرت شہباز بیٹے حمزہ شہباز مسز رابعہ عمران مسز شمیم اختر اور اپنے والد میاں شریف کے واجبات ساٹھ لاکھ روپے کے ہیں اسکے علاوہ ان کی کچھ جائیداد لندن میں رہن بھی رکھی ہوئی ہے خود ان کے ذمہ واجبات تیرہ کروڑ پانچ لاکھ روپے ہیں ۔شہباز شریف نے دوسری بیوی تہمینہ درانی کے اثاثے بھی ظاہر کر رکھے ہیں جو گیارہ کروڑ روپے سے زیادہ ہےں ان کے پاس بھی دو گاڑیاں ظاہر کی گئی ہیں۔ وزیراعظم گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی کروڑ پتی ہیں ان کے اثاثے سات کروڑ چھبیس لاکھ روپے کے ہیں۔ ڈی ایچ اے لاہور میں گھر کی مالیت تین کروڑ چھبیس لاکھ روپے ہے بیس لاکھ روپے بانڈز اور پچاس تولے کے طلائی زیورات کے مالک ہیں بینک میں ایک کروڑ سے زائد رقم ہے ان کا کاروبار کوئی نہیں‘ زرعی زمین کے مالک ہےں جس کی مالیت بیس لاکھ روپے سے زیادہ ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ بھی کروڑ پتی ہیں ان کے پاس تیس لاکھ روپے کی وراثتی زمین ہے جو ان کے اور ان کی بیوی کے نام ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں بارہ لاکھ روپے کا کولڈ سٹور ہے ساٹھ لاکھ روپے کی مرسیڈ کے مالک ہیں بیوی کے نام تیس تولہ کے زیورات ہے بینک میں سات لاکھ روپے ہیں اور دو لاکھ روپے کا فرنیچر ہے ۔ ان کے بیٹے جو وزیر بلدیات بھی ہیں کے پاس بھی خطیر رقم ہے جس میں سترہ لاکھ روپے کی زرعی زمین‘ ایک گھر ڈی جی خان میں ہے جس کی مالیت بتیس لاکھ روپے ہے اور ان کا کوئی کاروبار ہے نہ پاکستان کے باہر کوئی جائیداد‘ دس لاکھ روپے کی ایک گاڑی اور تیس تولہ سونا ہے جو ان کی بیوی کے نام ہے دو لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے‘ سولہ لاکھ پچپن ہزار روپے کے واجبات ہیں اور مجموعی طورپر ان کے پاس ستاسی لاکھ اڑتیس ہزار روپے ہیں۔ پی پی کے سینئر وزیر راجہ ریاض بھی کروڑ پتی ہیں مگر ان کے پاس اپنی کوئی ذاتی گاڑی نہیں ان کے ذمہ واجبات تیئس لاکھ ننانوے ہزار روپے ہیں ان کے پاس صرف دس تولہ سونا ہے وہ بھی بیوی کے نام ہے۔ تینتیس لاکھ چوبیس ہزار روپے کا کاروبار ہے۔ پچیس ہزار روپے کا فرنیچر ہے جو بیوی کی ملکیت ہے پچیس لاکھ روپے کی جائیداد ہے تیس لاکھ روپے کی زرعی اراضی ہے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے پاس لاہور میں فین روڈ پر چیمبر بلڈنگ ہے جس کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے ایک گھر ہے جس کی مالیت پچاس لاکھ روپے بنتی ہے۔ پندرہ لاکھ روپے کی زرعی زمین ہے فیصل آباد میں بیس لاکھ روپے کا چیمبر بنا ہوا ہے لائرز کالونی فیصل آباد میں پانچ لاکھ روپے کا ایک کنال کا پلاٹ ہے۔ بتیس لاکھ روپے کی ایک لینڈ کروزر اور دس لاکھ روپے کی کار ہے ایک سو تولے سونا پچاس لاکھ روپے کیش اور تیس لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے اور پانچ لاکھ روپے کے فرنیچر کے مالک ہیں ان کے واجبات کوئی نہیں۔ پی پی کے قاسم ضیاءبھی کروڑ پتی ہیں ان کے مجموعی اثاثے گیارہ کروڑ تینتیس لاکھ روپے کے ہیں ایک مرسیڈیز چھتیس لاکھ اور ہنڈا سیوک دس لاکھ روپے کی ہے بارہ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے نوے لاکھ روپے کی زرعی زمین خریدی ہے اس کے علاوہ ان کی اہلیہ کے مختلف کاروبار میں شیئر ہے۔ سات کروڑ سرسٹھ لاکھ روپے کے بانڈز ہیں تین لاکھ روپے کرنٹ اکاﺅنٹ فیصل بینک اور سولہ ہزار روپے یو بی ایل میں ہیں۔ راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے افتخار احمد کے پاس کوئی گاڑی نہیں ان کے پاس آٹھ لاکھ روپے کا سات مرلہ کا مکان ہے ان کے پاس دو لاکھ روپے کا پلاٹ ہے سو گرام سونا ہے جس کی مالیت دو لاکھ چالیس ہزار روپے ہے جو ان کی بیوی کے نام ہے ایک لاکھ روپے کا فرنیچر ہے۔ مسلم لیگ ’ن‘ کے ایک اور رکن ضیاءاللہ شاہد کے پاس بھی کوئی گاڑی نہیں‘ ایک کروڑ تیس لاکھ روپے گھر ہے اور دو کروڑ روپے کا ان کی بیوی کی ملکیت کا مکان ہے تیس لاکھ روپے کمپیوٹر بزنس میں لگایا ہوا ہے اس کے علاوہ پچاس تولے سونا ان کی بیوی کے نام ہے جس کی مالیت پندرہ لاکھ روپے ہے ڈھائی لاکھ روپے کا فرنیچر ہے ۔صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ کے پاس بھی کوئی گاڑی نہیں۔ ایک مشترکہ گھر ہے جس کی مالیت ڈیڑھ لاکھ ہے ایک گودام میں شیئر ہے جس کی مالیت ساڑھے چھ لاکھ روپے ہے ایک عمارت میں حصہ ہے جس کی مالیت دس لاکھ روپے ہے چون لاکھ بتیس ہزار روپے نیشنل ووڈ انڈسٹری میں لگائے ہوئے ہیں پندرہ تولے سونا ہے جس کی مالیت ایک لاکھ نوے ہزار روپے بنتی ہے چھبیس لاکھ پچہتر ہزار روپے کیش اور اٹھاون ہزار روپے بنک میں ہیں اور نو ہزار روپے کا فرنیچر ہے۔