نوزائیدہ جمہوریت کے نگہبان ہیں‘ زمانے کے ساتھ نہ چلے تو پیچھے رہ جائیں گے : فہمیدہ مرزا

03 مارچ 2010
لاہور (خبرنگار خصوصی) سپیکر قومی اسمبلی فہیمدہ مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان کی نوزائیدہ جمہوریت کے نگہبانوں کی حیثیت سے اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم دنیا کی اس تیز رفتاری کا ساتھ دینے میں ناکام رہے تو پھر بہت پیچھے رہ کر بے اثر ہو جائیں گے۔ یہاں 16 ویں سپیکرز کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں ایوان کی آنکھ اور کان ہوتی ہیں ان کی موثر کارکردگی کے نتیجے میں ہی پارلیمنٹ کی حقیقی بالادستی قائم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا خوشی کی بات ہے کہ ملک میں جمہوری ادارے پھل پھول رہے ہیں۔ سپیکر کی کرسی پارلیمنٹ کی عزت اور طاقت کی علامت ہے ہمارا طرز عمل نہ صرف غیر جانبدارانہ ہو بلکہ یہ واضح طور پر غیر جانبدارانہ نظر بھی آئے۔ ہم منتخب ایوان کو تقریری مقابلوں کا گڑھ بنانے کی بجائے سنجیدہ قانون ساز ادارے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے مزار اقبال اور داتا دربار پر حاضری بھی دی اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت قومی اسمبلی کے سپیکرز کا ایک جگہ اکٹھا ہونا یکجہتی اور اتحاد کی علامت ہے۔ کانفرنس کا اعلامیہ آج پریس کانفرنس میں جاری کیا جائے گا۔ کانفرنس میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی‘ سپیکر پنجاب اسمبلی محمد اقبال، ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد، سپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو‘ سپیکر سرحد اسمبلی کرامت اسد و ڈپٹی سپیکر خوش دل‘ سپیکر بلوچستان اسمبلی اسلم بھوتانی‘ سپیکر آزاد و جموں کشمیر شاہ غلام قادرو ڈپٹی سپیکر مہرالنسائ‘ سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی وزیر بیگ نے بھی شرکت کی۔ فہیمدہ مرزا نے مزید کہا کہ جمہوریت کی حفاظت ہمارا فریضہ ہے اپنا فرض پورا کرنے سے ہی ملک میں جمہوریت کا پودا پھلے پھولے گا۔ انہوں نے کہا منتخب ایوانوں میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے ان خواتین کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی ضروری ہے۔ قبل ازیں افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے کہا کہ پنجاب کے عوام اور ارکان اسمبلی کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ اسے سپیکرز کانفرنس کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں مخلوط حکومتوں کا تجربہ تحمل رواداری اور برداشت کو فروغ دے گا اور کانفرنس کے انعقاد سے پنجاب اسمبلی اور دیگر اسمبلیوں کے ساتھ باہمی رابطہ اور تعا ون کو فروغ ملے گا لہذا کانفرنس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پارلیمانی نظام بہتر انداز سے چلے اور پھلے پھولے۔