بلوچستان کے مسائل کا حل پیکج نہیں‘ قدرتی وسائل پر اس کا حق تسلیم کرنا ہوگا : ڈاکٹر عبدالمالک

03 مارچ 2010
لاہور (سلمان غنی) نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان کے سنیٹر ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ آئینی کمیٹی اہم معاملات نمٹا چکی ہے‘ صرف صوبائی خودمختاری اور پختونخواہ پر فیصلہ باقی ہے۔ ملکی سیاست مضبوط نہ ہونے کی وجہ یہاں فیوڈل لیڈرشپ ہے۔ بدقسمتی سے جمہوریت کے نام پر بننے والے ملک میں جمہوریت کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ مضبوط رہی۔ آج بھی یہی صورتحال ہے۔ طالبانائزیشن کو جڑ سے اکھاڑے بغیر حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ بے نظیر بھٹو بھی طاقتور وزیراعظم تھیں لیکن افغان پالیسی کے تعین میں ان کا بھی کردار نہ تھا۔ این ایف سی ایک مثبت قدم ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل پیکیجز کے اعلان میں نہیں بلکہ صوبے کے وسائل خصوصاً گیس پر بلوچستان کا حق تسلیم کرنے میں ہے۔ بلوچستان میں مسائل کی آگ اور احساس محرومی کے حوالہ سے بلوچ لیڈرشپ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکومتی وسائل بلوچ عوام پر خرچ کرنے کی بجائے منتخب اراکین کی جیبوں میں جاتے رہے اور موجودہ وزیراعلیٰ نے بھی پندرہ پندرہ کروڑ اراکین اسمبلی میں تقسیم کردئیے۔ عوام کے حصے میں کچھ نہ آیا۔ یہاں کے مسائل کا حل یہاں منصفانہ انتخابات اور حقیقی لیڈرشپ آگ لانا ہے۔ موجودہ حومت اور جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں رتی بھر بھی فرق نہیں۔ بلوچستان میں امریکی اڈوں کی مجھے خبر نہیں۔ اکبر بگٹی نے بلوچ عوام کے حقوق کی بات کی اور اسٹیبلشمنٹ نے انہیں راستے سے ہٹا دیا۔ ان کے قتل کی تحقیقات کیلئے کمشن کا اعلان ہوا‘ مگر عملاً کچھ نہیں ہورہا۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں اظہار خیال کررہے تھے۔ پروگرام کے میزبان میاں شاہد ندیم تھے۔ سنیٹر ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ بلوچستان میں کبھی آزادانہ انتخابات نہیں ہوئے۔ ایجنسیوں کے 70 فیصد آلہ کاروں کو منتخب ایوانوں میں بھجوایا جاتا ہے اور باقی منتخب ہوتے ہیں۔ بلوچستان پر عملاً نوابوں اور قبضہ گروپوں کا راج ہے۔ منتخب حکومت کی کرپشن نے ماضی کی حکومتوں کو بھی بھلا دیا ہے۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ سوئی گیس کی رائلٹی بلوچستان کا حق ہے۔ اکبر بگٹی کو جو رائلٹی ملتی تھی وہ ان کی زمینوں پر سے گزرنے والے پائپ کی تھی۔ خوامخواہ انہیں بدنام کیا جاتا رہا۔ چودھری شجاعت حسین کے اکبر بگٹی سے مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے لیکن جنرل ندیم نے انہیں ویٹو کردیا اور اکبر بگٹی کو قتل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے مسئلے میں سنجیدہ ہے تو پہلے ”لاپتہ لوگ“ واپس دے جو ایجنسیوں کے پاس ہیں۔ اس حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کسی کو غدار قرار دینے کی بجائے ان سے مذاکرات کئے جائیں۔ خوامخواہ بھارت کو موردالزام ٹھہرا کر اصل مسائل سے پہلوتہی نہ برتیں۔ نوجوان نسل نے روزگار اور حقوق نہ ملنے پر ہتھیار اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں طالبانائزیشن اب کی نہیں بہت پہلے سے ہے۔ حکومتی ایجنسیاں بھی انہیں سپورٹ کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام کیلئے تمام قوموں کا اپنے وسائل پر ان کا حق تسلیم کرنا ہوگا جس کیلئے نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے۔ قراردادوں پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک جمہوریت کیلئے بنا لیکن یہاں اسٹیبلشمنٹ مضبوط رہی۔ آج بھی اسٹیبلشمنٹ حکومت سے زیادہ مضبوط ہے۔ یہاں راتوں رات پارٹیاں بنتی ہیں اور جو بناتے ہیں ان کے مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرم ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک ویلفییئر سٹیٹ بننا چاہئے۔ ملک میں امن کیلئے ہندوستان‘ ایران اور افغانستان سے ملکر حکمت عملی بنائی جائے ورنہ ہم امن و امان پر اربوں خرچ کرتے رہیں گے اور امن قائم نہیں ہوگا ۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ملک کے جمہوری مستقبل کو ملک کے عوام کو یقینی بناسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے جمہوریت کیلئے بننے والے ملک میں نہ جمہوریت مضبوط ہوئی اور نہ ہی جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک پہنچے۔ ہر حکومت جمہوریت کی دعویدار ہے لیکن جمہوریت کے ثمرات کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عوام مسائل کی آگ میں جل رہے ہیں ان کا کوئی پُرسان حال نہیں۔