باجوڑ پر فورسز کا مکمل کنٹرول‘ پہلی بار قومی پرچم لہرا دیا گیا‘ 7 اہم کمانڈروں سمیت 75 شدت پسند جاں بحق

03 مارچ 2010
باجوڑ ایجنسی (ایجنسیاں + مانیٹرنگ سیل) سکیورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی سے شدت پسندوں کا مکمل صفایا کر کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے‘ 1947ءکے بعد علاقے میں پہلی مرتبہ قومی پرچم لہرایا گیا ہے‘ پاک فوج کی کامیابی پر علاقے میں قبائلیوں نے جشن منایا۔ باجوڑ میں 7 اہم طالبان کمانڈروں اور غیر ملکیوں سمیت 75 شدت پسند مارے گئے‘ جاںبحق ہونے والے غیر ملکیوں میں مصری‘ ازبک‘ چیچن اور افغان باشندے شامل ہیں۔ آئی جی فرنٹیئر کور جنرل طارق خان نے کہا کہ اورکزئی ایجنسی اور وادی تیراہ میں جلد آپریشن شروع ہو گا‘ سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید کا گھر شدت پسندوں کا مرکز تھا‘ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں تاہم وہ اشتہاری ہیں‘ ان کے بھائی کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں مکمل استحکام تک کوئی نیا آپریشن نہیں شروع کیا جائے گا۔ گذشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی ایف سی میجر جنرل طارق خان نے کہا کہ پنجاب میں کئے گئے 21 خودکش دھماکوں کا اہم ملزم اورنگزیب بھی مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈمہ ڈولہ میں عوام کی حمایت سے کامیابی ملی۔ باجوڑ آپریشن بڑے اور اہم آپریشنز میںشامل ہے۔ میجر جنرل طارق خان نے کہا کہ علاقے میں سکول دوبارہ کھول دئیے گئے ہیں۔ سکولوں کی مرمت کرائی گئی ہے۔ 7 طالبان کمانڈروں کی لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ باجوڑ طالبان دہشت گردوں کا اہم مرکز تھا۔ فورسز نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ عوام کی حمایت سب سے بڑی کامیابی کی وجہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں عوام کی فوج کو مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بھی سرحد میں آپریشن ہو رہے ہیں۔ آپریشن میں سویلین آبادی کے کم سے کم نقصان کو یقینی بنایا جائے گا۔ باجوڑ ایجنسی میں پاک فوج کے کنٹرول سنبھالنے پر علاقے میں قبائلیوں نے جشن منایا ہے اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے۔ شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں پاک فوج کا ساتھ دینے والے تین ہزار سے زائد افراد کے لشکر نے بھی پاک فوج کی کامیابی پر خوشی کا اظہا رکیا ہے۔ اس دوران ڈھول کی تھاپ پر قبائلیوں نے اپنا روایتی رقص بھی کیا۔ اس سے قبل میڈیا کی ٹیم کو علاقے کا دورہ کرایا گیا اور شدت پسندوں کے تباہ ہونے والے ٹھکانے اور برآمد ہونے والا اسلحہ بھی دکھایا گیا۔ جماعت اسلامی کے سابق رکن اسمبلی ہارون رشید کا تعلق مقامی شدت پسندوں کے ساتھ تھا۔ ان کا گھر ایف سی قوانین کے مطابق تباہ کیا۔ اس وقت ہارون رشید کی والدہ کسی اور گھر میں تھیں تاہم کسی بھی معصوم جان کے ضیاع کا افسوس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈمہ ڈولہ کا کنٹرول بھی سکیورٹی فورسز نے سنبھال لیا ہے۔ ڈمہ ڈولہ میں شدت پسندوں نے 156 غاریں اور کمین گاہ بنا رکھی تھیں جن کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ میجر جنرل طارق عزیز نے کہا کہ شدت پسندوں کی آمد روکنے کیلئے سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے پاک افغان بارڈر کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب خیبر ایجنسی میں سیکورٹی فورسز نے سات مشتبہ افراد کو باڑہ کے علاقے شلوبر سے گرفتار کیا جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ تحریک طالبان نے ہنگو میں بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے‘ ترجمان حافظ ضیاءالرحمن نے فون پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے حامی ملکان کا یہی انجام ہو گا ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ جی این آئی کے مطابق قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں کے گروپ نے اپنے امیر قاری محمد ظفر کی شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں جاںبحق ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قاری ظفر گروپ نامی تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ چالیس سالہ قاری ظفر کی موت 24 فروری کو شمالی وزیرستان کے علاقے درگہ منڈی میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہوئی تھی۔ یہ حملہ میران شاہ میں کیا گیا تھا۔ قاری ظفر مارچ 2002ءمیں کراچی میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں حکومت کو مطلوب تھا۔ اس حملے میں تین پاکستانیوں سمیت امریکی سفارت کار ڈیوڈ فوئے ہلاک ہوئے تھے۔ قاری ظفر کا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا تاہم بعدازاں اس نے اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر کے اپنا گروہ بنا لیا تھا۔ قاری ظفر کی گرفتاری پر امریکہ اور حکومت پاکستان نے بھاری انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔ عالم اسلام کو شہادت مبارک ہو‘ کے عنوان سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس حملے میں قاری ظفر سمیت چودہ شدت پسند جاںبحق ہوئے تھے اور قاری ظفر کو نماز جنازہ کے بعد کسی خفیہ مقام پر سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ قاری ظفر گروپ کی جانب سے موصول ہونے والے ایک تحریری بیان میں قاری ظفر گروپ کا نیا امیر مفتی ابوذر خنجری کو مقر کیا ہے تاہم بیان میں ان کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ گروپ نے قاری ظفر کی موت کا بدلہ جلد پاکستان میں کسی بھی جگہ پر لینے کی دھمکی دی ہے۔ ثناءنےوز کے مطابق شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بم حملے میں کئی اہلکار زخمی ہو گئے زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی ”ژینہوا“ کے مطابق حکام نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی معمول کی گشت پر تھی کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ ہدف سکیورٹی فورسز کی گاڑی تھی۔ دھماکے سے فورسز کی گاڑی کو نقصان پہنچا اور متعدد اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ آن لائن کے مطابق مردان میں پولیس نے چھاپوں اور سرچ آپریشن کے دوران 16 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے مردان کے نواحی علاقے دوستم دیو روج کا گھیراﺅ کر کے سرچ آپریشن شروع کیا مختلف مقامات اور پہاڑیوں پر چھاپے مارے جس کے دوران 16 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایف آر پشاور میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 2 شدت پسند کمانڈر جاںبحق ہو گئے۔ جاںبحق ہونے والے کمانڈروں کے نام طفیل اور طارق ہیں‘ محمد اقبال کا تعلق تحریک طالبان باڑہ سے تھا‘ یہ خودکش جیکٹیں اور بارود فراہم کرتا تھا جبکہ طفیل نوشہرہ بم دھماکوں میں ملوث تھا۔ شدت پسندوں نے تحصیل باڑہ خیبر ایجنسی کے علاقے میں بوائز پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ۔