پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے : جسٹس افتخار

03 مارچ 2010
پشاور (بیورو رپورٹ + ریڈیو نیوز + آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ جو حکومت کو زمین فراہم کرے اسے سرکاری ملازمت ملے۔ انہوں نے پشاور میں سپریم کورٹ کی رجسٹری میں گل نواز نامی شخص کے کیس کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دئیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری منصوبے کیلئے اراضی دینے کے عوض ملازمت کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حکومت کے پاس ملازمتیں ہونگی تووہ لوگوں کودے سکے گی۔ گل نواز نے ڈیری فارم قائم کرنے کیلئے ملازمت کے عوض حکومت کو اپنی زمین فراہم کی تھی تاہم انہیں سرکاری ملازمت نہیں ملی جس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس چودھری اعجاز احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی اور درخواست کو خارج کر دیا۔ راج مست اور اس کی بیوی رقیہ کے درمیان طلاق کیس کی سماعت کرتے ہوئے راج مست کی درخواست کو خارج کردیا گیا چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری نے کہا کہ انصاف ایسا ہونا چاہئے جو سب کو نظر آئے۔ رقیہ نے اپنے شوہر راج مست سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے اور پندرہ تولے سونا حق مہر طلب کیا تھا جس کے خلاف راج مست نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس چودھری اعجاز احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دس مقدمات نمٹائے۔ ادھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پولیس جس کیس میں دلچسپی نہیں رکھتی تو اسے علاقہ غیر کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے پولیس کو اللہ نے اختیار دیا ہے تو وہ اس کا صحیح استعمال بھی کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے نبھائے‘ ان ریمارکس کے ساتھ ہی فاضل عدالت عظمیٰ نے مانسہرہ کے رہائشی سیکنڈ ائر کے طالب علم کو بازیاب کر انے کےلئے ایس پی مانسہرہ کو 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دے دی اور 4 مارچ کو تمام ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کر دئیے۔ دریں اثناءپشاور ہائی کورٹ میں ضلعی عدالتی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ڈسٹرکٹ عدلیہ نے نیشنل جوڈیشل پالیسی اور قانون کی حکمرانی کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی ہے۔ ڈسٹرکٹ عدلیہ کی مثال ادارے کے لئے ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔ پاکستان میں عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں ڈسٹرکٹ عدلیہ کا بہت اہم رول ہے کیونکہ 95 فیصد مقدمات ضلعی لیول پر نمٹائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے عدلیہ کو ایک ادارے کے طور پر پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا گیا لیکن پچھلے دو سال کی انتھک محنت اور جستجو کے بعد آج عدلیہ ایک مضبوط ادارے کے طور پر ابھر آئی ہے اور ملک میں آئین اور قانون کا بول بالا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے جس میں میڈیا نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا اور خدا کے فضل و کرم سے آج عدلیہ کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو اپنی جدوجہد تیز کرنی ہو گی تاکہ لوگوں کو آسان اور فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے جوڈیشل افسران پر زور دیا کہ انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ بعدازاں ججز کی طرف سے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس نے ججز کو ہدایت کی کہ وہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کریں اور نچلی سطح پر جو مقدمات دس دس سال سے زیر التوا ہیں اسے جوڈیشنل پالیسی کے تحت جلد از جلد نمٹا دیں۔ طویل المیعاد مقدمات عدلیہ کے لئے باعث شرمندگی ہیں۔ آئی این پی کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ آئین سے جب بھی انحراف کیا گیا قوم اور اداروں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑی‘ عدلیہ کے لئے عوام اور حکومت برابر ہیں‘ سپریم کورٹ نے 100 مقدمات میں حکومت کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور ان فیصلوں پر عمل بھی ہوا۔ پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے آج شام جسٹس افتخار محمد چودھری کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا۔