ججوں کی تقرری میں وزیراعظم کا کردار ختم‘ جوڈیشل کمشن سفارش کرے گا

03 مارچ 2010
اسلام آباد (ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) آئینی اصلاحات کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار کے بارے میں سفارشات کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ آئینی ترامیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کی صورت میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے صدر کا کردار محض رسمی رہ جائے گا جبکہ وزیراعظم کا کردار یکسر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم ججوں کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ کی سفارشات پر مبنی سمری صدر کو بھجواتے ہیں۔ اس حوالے سے کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی کی جانب سے جاری کئے گئے 3 صفحات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی تقرری ‘ صدر‘ وزیراعظم کی بجائے جوڈیشل کمشن کے سپرد کر دی جائے گی۔ ججوں کی تقرریوں کی حتمی منظوری تاہم 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی دے گی۔ سپریم کورٹ و ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرریوں کے لئے جوڈیشل کمشن قائم ہوں گے۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے لئے جوڈیشل کمشن کے ارکان 6 اور ہائی کورٹس کے لئے کمشن کے ارکان کی تعداد 4 ہو گی۔ کمیٹی کے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پوری کمیٹی اتفاق رائے سے آزاد عدلیہ پر یقین رکھتی ہے یہ ججوں کی شفاف اور میرٹ پر تعیناتی کی حامی ہے‘ پریس ریلیز جاری کرنے کا مقصد بے بنیاد خبروں کا تدارک ہے کیونکہ یہ حساس معاملہ ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی جوڈیشل کمشن آف پاکستان کرے گا جس کے چیئرمین چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین جج‘ وفاقی وزیر قانون وا نصاف‘ اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کی طرف سے نامزد کردہ ایک سینئر وکیل اس کمشن کے رکن ہوں گے۔ صوبائی ہائی کورٹس میں ججوں کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمشن میں مزید توسیع کی جائے گی‘ متعلقہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس‘ ہائی کورٹ کا ایک سینئر ترین جج‘ صوبائی وزیر قانون و انصاف اور صوبائی بار کونسل کی طرف سے نامزد کردہ ایک سینئر وکیل کمشن میں شامل کیا جائے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمشن میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور ایک سینئر ترین جج شامل ہو گا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ابتدائی تقرریوں کیلئے چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز بھی کمشن میں شامل ہوں گے۔ وفاقی شرعی عدالت میں ججوں کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمشن میں چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ اور متعلقہ عدالت کے ایک سینئر ترین جج کو شامل کیا جائے گا۔ سینئر ترین جج چیف جسٹس آف پاکستان مقرر ہوں گے۔ جوڈیشل کمشن ججوں کی تعیناتی کرتے وقت اکثریت رائے سے فیصلہ کرے گا اور سپریم کورٹ‘ ہائی کورٹ میں ہر ایک آسامی پر تقرری کیلئے کثرت رائے سے ایک ہی نام تجویز کیا جائے گا یہ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمشن کی سفارشات کو تین چوتھائی اکثریت کے بغیر مسترد نہیں کر سکے گی‘ اگر کمیٹی کے تین چوتھائی ارکان کسی نامزدگی کو مسترد کر دیں تو اس صورت میں جوڈیشل کمشن نیا نام بھجوائے گا۔پارلیمانی کمیٹی سفارشات کی وصولی کے بعد 14 دن کے اندر اندر فیصلے کی پابند ہو گی۔ اگر وہ ان مذکورہ دنوں میں فیصلہ نہ کرسکی تو جوڈیشل کمشن کی سفارشات مستقل حیثیت اختیار کر جائیں گی۔ اس وقت ججوں کی تعینات کیلئے صدر یا چیف ایگزیکٹو کے اختیارات اب پارلیمانی کمیٹی کو چلے جائیں گے جو شفاف انداز میں اسے استعمال کرے گی تاہم رسمی تعیناتی صدر کی طرف سے ہی کی جائے گی۔