حجاب کیخلاف ملعونہ تسلیمہ نسرین کے مضمون کی اشاعت پر کرناٹک میں فسادات‘ 2 افراد جاں بحق 15 زخمی

03 مارچ 2010
دہلی / ڈھاکہ (ثناءنیوز / اے ایف پی) بنگلہ دیشی ملعونہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کے حجاب کے متعلق متنازع مضمون کی اشاعت کے بعد بھارتی ریاست کرناٹک میں فسادات پھوٹ پڑے۔ پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔ انتظامیہ نے شموگا میں کرفیو نافذ کردیا۔ کرناٹک کے اخبار میں برقعہ سے متعلق ملعونہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کے ایک مضمون کی اشاعت کے بعد مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ کرناٹک کے شہر شیو گروسان میں پرتشدد واقعات میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور متنازع مضمون کی اشاعت کیخلاف احتجاج کیا۔ مشتعل مظاہرین نے دکانوں میں توڑپھوڑ کی اور گاڑیوں کو آگ لگا دی جس کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو انتہاپسند تنظیموں کے غنڈے باہر آگئے اور انہوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے۔علاوہ ازیں تسلیمہ نسرین نے ایک بھارتی اخبار میں لکھے جانے والے مضمون سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسے بدنام کرنے کی سازش ہے۔ میں نے اپنے کسی بھی مضمون اور تحریر میں یہ نہیں لکھا کہ حضرت محمد برقعہ کیخلاف تھے میرے مضمون کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ مضمون شائع کرنیوالے دو اخبارات کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔