صدر‘ گورنر کو حاصل استثنیٰ سپیکر‘ ڈپٹی سپیکر کو بھی دینے کا مطالبہ

03 مارچ 2010
لاہور (رپورٹ سلمان غنی) لاہور میں جاری سولہویں سپیکرز کانفرنس میں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت فوجداری مقدمات کے حوالہ سے صدر اور گورنر کو ملنے والے استثنیٰ کو سپیکرز اور ڈپٹی سپیکرز تک وسیع کرنے کا مطالبہ ہوا ہے اور اکثریت رائے سے منظور ہونے والی یہ تجویز آئینی کمیٹی کو بھجوائی جائے گی جبکہ قومی اسمبلی کی سپیکر اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے اس تجویز پر اپنے تحفظات بھی ظاہر کئے‘ سپیکرز کانفرنس میں پارلیمانی کارکردگی میں اضافہ کے لئے متعدد اصلاحات اور اقدامات کی منظوری بھی دی گئی اور کہا گیا کہ پارلیمانی کارکردگی میں اضافہ سے جمہوری سسٹم کو مضبوط اور فعال بنایا جا سکتا ہے‘ سپیکرز کانفرنس میں پارلیمانی امور میں میڈیا کا کردار بھی زیر بحث آیا‘ متعدد سپیکرز نے میڈیا کے کردار پر تحفظات ظاہر کئے اور کہا یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے کہ سپیکرز کی جانب سے ایوان میں حذف شدہ الفاظ اخبارات مں شائع اور چینلز پر نشر کر دئیے جاتے ہیں جس سے ایوانوں کی عزت و تکریم میں فرق آتا ہے۔ میڈیا کے حوالہ سے کسی پابندی سے احتراز برتتے ہوئے سپیکرز کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ میڈیا سے یہ اپیل ضرور کی جائے گی کہ وہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا احترام یقینی بنائیں۔ سپیکرز کانفرنس میں آئین کے اندر پارلیمانی لیڈر کی تشریح کے مسئلہ کو بھی آئینی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے اور اس پر کسی فیصلہ کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس مشکل کا اظہار کیا گیا کہ منی بل یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی یا کسی رکن اسمبلی کی پارٹی وابستگی سے تبدیلی پر جب پارلیمانی لیڈر نااہلی کا ریفرنس سپیکر کو بھجواتا ہے تو خود پارلیمانی لیڈر کے حوالہ سے کنیفوژن پیدا ہوتی ہے کہ پارلیمانی لیڈر کون ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں سپیکرز و ڈپٹی سپیکرز کی مراعات کے معاملات بھی زیر غور آئے اور سہولتوں میں اضافہ کے لئے سفارشات کے ساتھ کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ سابق صدر ‘ وزیراعظم اور ریٹائرڈ ججوں کو ملنے والی پنشن اور مراعات کو سپیکرز‘ ڈپٹی سپیکرز تک وسیع کیا جائے۔ سپیکرز کانفرنس کا آج آخری روز ہے اور دس نکاتی ایجنڈا کی دیگر شقوں پر آج غور ہو گا‘ مذکورہ اجلاس کی اہمیت و حیثیت پر بھی بات ہو گی اور کہا گیا کہ ان اجلاسوں کو روایتی بنانے کی بجائے آئینی کور ملنا چاہئے۔ اجلاس میں پارلیمانی کیلنڈر کو زیادہ م¶ثر بنانے پر بھی غور ہوا اور کہا گیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں کے لئے دن بڑھائے جانے چاہئیں۔