دارالامان میں طلاق کیلئے آنے والی خواتین کی تعداد بڑھ گئی

03 مارچ 2010
لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) صوبائی دارالحکومت میں واقع سرکاری دارالامان میں خواتین کی بڑی تعداد طلاق کے حصول کے لئے پناہ حاصل کرنے لگی۔ محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیرانتظام بند روڈ پر واقع دارالامان میں رہائش پذیر خواتین کی بڑی تعداد نے گھریلو تشدد، جبری شادیوں، شوہر سے ناچاقی، معاشی ناہمواریوں اور پسند کی شادی کے باعث طلاق کے حصول کے لئے پناہ حاصل کر رکھی ہے جبکہ دیگر نامساعد حالات کے سبب دارالامان کا رُخ کرنے والی خواتین کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ روبینہ‘ لالہ بی بی‘ صباحت‘ ساجدہ‘ آمنہ نے شوہروں کے ساتھ ساتھ باپ اور بھائیوں کے تشدد کی شکایت کی ہے۔ دارالامان میں پناہ حاصل کرنے والی ہنجروال کی 30 سالہ روبینہ عاشق نے نوائے وقت کو بتایا کہ سات سال قبل شادی ہوئی، شوہر نشے کا عادی ہے اور تشدد کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا۔ سسرال والے بھی اسی کا ساتھ دیتے، والدین کے گھر جاتی تو بھائی اور والد مارتے پیٹتے۔ والد ملاقات کے لئے آئے مگر میں نے انکار کر دیا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ گھر والے مجھے بہلا پھسلا کر لے جائیں گے اور پھر اسی شخص کے ساتھ گزارا کرنے پر مجبور کریں گے۔ ساہیوال کی 19 سالہ لالہ بی بی نے بتایا میں نے دو سال قبل لو میرج کی تو گھر والے مجھے یہ کہہ کر واپس لے آٰئے کہ اپنے ہاتھوں سے رخصت کریں گے مگر پھر میرے شوہر سے زبردستی طلاق حاصل کر کے مجھے کسی اور سے بیاہ دیا۔ شادی کے بعد مجھے میرا شوہر اور سسرال والے طعنہ دیتے ہیں جس پر میں یہاں آ گئی اس نے بتایا میرا پہلا شوہر آج بھی مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے حالانکہ اب وہ 5 بچوں کا باپ ہے۔ ملتان کی 29 سالہ شازیہ نے بتایا شوہر غلط کاموں پر مجبور کرتا، سسرال والے بھی تشدد کا نشانہ بناتے۔ عالیہ ٹاون کی جھگیوں میں رہنے والی خورشید نے بتایا شوہر نکھٹو اور نشئی ہونے کے علاوہ مارتا پیٹتا تھا۔ میں چاروں بچوں کو خود کما کر کھلاتی رہی۔ اب اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ فیصل آباد کی 22 سالہ صباحت نے بتایا والدین نے زبردستی شادی عمررسیدہ شخص سے کر دی میں اسکے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ راجن پور کی 20 سالہ ساجدہ نے بتایا شوہر اور سسرال والے دھمکیاں دیتے زیور اور زمین نہ دینے پر فروخت کرنے کی دھمکیاں دیتے جس پر میں بھاگ آئی نارووال کی 17 سالہ آمنہ نے بتایا نشئی باپ نے چند روپوں کے عوض مجھے فروخت کر دیا اور 40 سالہ شخص مجھ پر تشدد کرتا اور اذیت دینے کے لئے سگریٹ سے سلگاتا۔ میں خودکشی کے لئے نکلی تو راستے میں والدہ مل گئی ۔ پھر ہم دونوں نے یہاں پناہ حاصل کر لی۔ ہماری جان کو خطرہ ہے۔ دارالامان کی سپرنٹنڈنٹ فاخرہ یاسمین نے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور طلاق کے حصول کے لئے خواتین کے دارالامان میں پناہ کے حوالے سے کہا گھر والے اور شوہر خواتین کو ٹھکرانے کی بجائے انکے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آئیں تو وہ دارالامان کا رخ کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ انہوں نے کہا جو خواتین طلاق کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ کر آ گئی ہیں وہ طلاق کے بعد ہی واپس جائیں گی۔