پاکستان کی معاشی آزادی ناممکن بنانے کیلئے بھارت نے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا

03 مارچ 2010
لاہور (رپورٹ: معین اظہر سے) امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان کی جانب سے خطے میں اپنی معاشی پوزیشن بہتر کرنے اور داخلی استحکام کی پالیسی کو بھارت نے اپنے حق میں استعمال کرنے اور پاکستان کی معاشی آزادی کو ناممکن بنانے کے لئے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے‘ بھارتی پالیسی میکر مستقبل میں پاکستان کی معاشی ترقی اور داخلی استحکام کو بھارت سے اچھے تعلقات سے مشروط کرنے کی پالیسی پر تیزی سے عمل کر رہے ہیں‘ پاکستان میں ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ افغانستان میں پاکستان کی سٹرٹیجک گہرائی کتنی ہونی چاہئے تاکہ پاکستان کے لئے کوئی زیادہ بڑا خطرہ مغربی سرحدوں پر نہ رہے اور ہم مالی طور پر اپنے آپ کو مضبوط کر سکیں۔ بھارت نے پاکستان کو اپنی لانگ ٹرم پالیسی کے تحت معاشی ‘ داخلی‘ زراعت اور توانائی کے شعبہ میں تابع کرنے کی پالیسی کے آخری حصے پر کام شروع کر دیا ہے لیکن پاکستان داخلی اور سسٹم کی کمزوریوں کی وجہ سے اس کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا‘ نہ ہی کوئی واضح پالیسی نظر آتی ہے۔ داخلی عدم استحکام میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے‘ کشمیر کا مسئلہ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حل نہیں کرا سکیں گے‘ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے پاس زراعت کے شعبہ میں بہترین نظام موجود تھا اس کے لئے بھارت نے پاکستان کے پانی کو روکنے کے لئے بھارت نے سب سے پہلے 1948 سے اقدامات شروع کئے‘ بھارت ورلڈ بنک کے ذریعے اپنا مﺅقف منوانے میں کامیاب رہا‘ پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے یورپ مشرق وسطیٰ چین‘ وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی راہداری کے ذریعے اپنی معاشی صورتحال میں فوری بہتری لاکر معاشی استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے پاکستان میں اربوں روپے کی امریکی اور چینی اور یورپی سرمایہ کاری پاکستان کا رُخ کر سکتی ہے اس کے لئے دو چیزوں کی فوری اشد ضرورت ہے۔ داخلی امن اور دوسرا اس کے پاس انفراسٹرکچر جو ریل‘ سڑک اور پائپ لائن کے ذریعے ہو سکتا ہے اس کے لئے بھارت پاکستان کے اس منصوبے پر اپنے کردار کو اہم کرنے کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری افغانستان میں کر کے وہاں لوگوں کے ذہن تبدیل کرنا چاہتا ہے وہ سرحدی علاقوں بلوچستان میں انٹیلی جنس نیٹ ورکنگ کے ذریعے پاکستان کو داخلی پریشانی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے‘ افغانستان میں عوامی سطح کے علاوہ حکومت میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے بھارت نے پہلے امریکہ کے ذریعے افغانستان میں کردار کو مضبوط کیا اب وہ سعودی حکومت کے اثر کے ذریعے اسلام پسند قوتوں پر اثر قائم کرنا چاہتا ہے اس کے لئے وہ بھارت میں مسلمان قوتوں کو استعمال کرکے انہیں فرنٹ رکھے گا تاکہ بھارت کا ہندو چہرہ ان مسلمانوں کے پیچھے چھپ جائے۔ بھارت نے ایران کے طالب علموں کے لئے اپنی یونیورسٹیوں کے دروازے کھول دئیے تھے جبکہ ہم شیعہ سنی لڑائی میں پڑے ہوئے تھے اب یہ تمام پڑھے لکھے افراد ایران میں اہم آسامیوں پر تعینات ہیں اور وہ بھارت دوست پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک ہم یہ طے نہیں کر سکے کہ اپنی سٹرٹیجک لوکیشن کے معاشی خزانے کو ہم نے کس طرح استعمال کرنا ہے اور پاکستان اندرونی طور پر امن قائم کس طرح کر سکتا ہے اور کس طرح ہم افغانستان میں ترقی کے ساتھ ساتھ اپنا اثر رکھ سکتے ہیں بظاہر اس وقت فوج اور سول حکومت کے درمیان ایشو پر بھی اختلاف نظر آتا ہے۔ اب شیعہ سنی کی بجائے دیگر مذہبی تفریق پیدا کرکے پاکستان کو پھر داخلی بحران دیا جا رہا ہے‘ ہم امداد کے چکر میں اس مذہبی بحران میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔