A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

چھوٹی جماعتوںکوکنکرنٹ لسٹ ختم کرنے‘ لیجسلیٹو لسٹ میں چند ترامیم پر راضی کر لیا گیا: ذرائع

03 مارچ 2010
اسلا م آباد (آئی این پی )آئینی اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات کو جلد حتمی شکل دینے کے لئے حکومت نے چھوٹی جماعتوں کو کنکرنٹ لسٹ ختم کرنے اور لےجیسلیٹو لسٹ میں چند ترامیم کر کے آئینی ترامیم پیش کرنے پر رضا مند کرلیا ہے چھوٹی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف مکمل صوبائی خود مختاری کی صورت میں ہی آئینی ترامیم کی حمایت کریں گی۔ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم نے عسکری قیادت کو صوبائی خود مختاری کے حوالے سے بعض ترامیم پر اعتماد میں لینے کی تجویز دی۔ بڑی جماعتوں نے بندرگاہوں اور گیس کے ذخائر کے انتظامی اختیارات صوبوں کو دینے کی مخالفت کیہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 167اور 166 زیر غور آئے‘ مسلم لیگ (ق) نے صوبائی خود مختاری کے حوالے سے موقف اختیار کیا کہ پرانا نظام جاری رہنا چاہیے۔ فیڈرل لےجیسلیٹولسٹ اورکنکرنٹ لسٹ ختم نہ کی جائے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی (ق) لیگ کے موقف کی تائید کی۔ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم نے تجویز دی کہ صوبائی خود مختاری کے معاملہ پر عسکری قیادت کو بعض ترامیم پر اعتماد میں لیا جانا مناسب ہو گا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) صوبائی خود مختاری کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی خاموش ہے۔ چھوٹی جماعتوں کا موقف مکمل صوبائی خود مختاری کی صور ت میں ہی آئینی ترامیم پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ اس سے برعکس ہم کسی بات پر رضا نہیں ہونگے‘ چھوٹی جماعتوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی پیداوار کے حوالے سے اختیارات صوبوں کو دئیے جائیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے موقف اختیار کیاکہ گوادر بندرگاہ ‘ کراچی بندرگاہ اور بن قاسم بندرگاہ کے انتظامی اختیارات سندھ اور بلوچستان کو منتقل کئے جائیں جس پر بڑی جماعتوں نے اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ فیصلے جلد بازی سے نہ کئے جائیں۔ بی این پی عوامی کے سربراہ وفاقی وزیر میر اسرار اللہ زہری نے پھر قائد اعظم محمد علی جناح او رخان آف قلات کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جس پر مسلم لیگ (ن) کے اسحاق ڈار نے کہا کہ میر صاحب پرانی باتیں چھوڑیں ۔ 1973ءکے آئین میں اس معاہدے کا کوئی ذکر نہیں۔ آئین کے تحت صوبائی خود مختاری کے حق میں ہیں قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں۔