18 مارچ کو حتمی سماعت ہوگی۔۔ ”لاپتہ افراد کیس“ پارلیمنٹ بھی کردار ادا کرے : سپریم کورٹ

03 مارچ 2010
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ریڈیو نیوز ) سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمہ کی سماعت کے دوران بیرون ملک قید پاکستانیوں کے متعلق وزارت خارجہ کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے ہمارے سفارتکاروں نے اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی‘ بیرون ملک قید پاکستانیوں کا وہاں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ان قیدیوں کی مکمل اور جامع فہرست پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے دیگر لاپتہ افراد کے متعلق بھی آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ اسی ماہ کیا جائے گا اور حتمی سماعت کے موقع پر وزارت خارجہ‘ دفاع اور داخلہ کے سیکرٹریوں کو بھی طلب کیا جائے گا۔ جسٹس جاوید اقبال‘ جسٹس ثائر علی اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ وزارت خارجہ کی جانب سے بیرون ملک قید پاکستانیوں کی نامکمل فہرست عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق اس وقت 9 مختلف ممالک میں 6 ہزار پاکستانی قید ہیں جن میں سے 204 افغانستان میں ہیں اور 15 پاکستانی بگرام جیل میں ہیں۔ عدالت نے رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تھائی لینڈ میں قید 120 افراد کی تفصیلات شامل نہیں‘ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ لگتا ہے ہمارے سفارت خانے کچھ نہیں کر رہے جو لوگ بیرون ملک جاتے ہیں اور وہاں قید ہو جاتے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا جبکہ یہاں ان کے رشتہ داروں کو بھی کوئی اطلاع نہیں دی جاتی حالانکہ ویانا کنونشن کے تحت ہر حکومت اس بات کی پابند ہے کہ جب بھی کوئی غیر ملکی ان کے ملک میں قید ہو تو وہ متعلقہ ملک کو اس کی اطلاع دے۔ عدالت نے دفتر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ خصوصی طور پر بگرام جیل میں قید پاکستانیوں کے کوائف کے بارے میں آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کرے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل حشمت حبیب نے کہا کہ عافیہ صدیقی کا ٹرائل 2005ءمیں افغان جیل میں بھی کیا گیا جبکہ اسے کراچی سے 2003ءمیں اغوا کیا گیا تھا۔ اس دو سال کے عرصے کے دوران وہ کہاں رکھی گئیں اس کا کسی کو علم نہیں‘ عافیہ صدیقی سے متعلق حکومت اصل حقائق سامنے لائے اور امریکی عدالت کو ان سے آگاہ کرے تو وہ رہا ہو سکتی ہیں‘ ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور نے کہا کہ یہ اچھی تجویز ہے مگر تاخیر سے آئی ہے‘ جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ امریکی قانون کے مطابق مقدمے کے کسی بھی مرحلے میں شہادت پیش کی جا سکتی ہے‘ حکومت کو اس حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں‘ عدالت نے دفتر خارجہ کو آئندہ سماعت پر اس حوالے سے کئے گئے ان اقدامات کی تفصیل سے عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیا جو اس نے اب تک عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کئے ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کمشن تشکیل دے رہے ہیں‘ یہ معاملہ پائپ لائن میں ہے جس پر جسٹس ثائر علی نے کہا کہ یہ پائپ لائن کتنی طویل ہے‘ کہیں پشاور سے کوئٹہ تک تو نہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت کمشن کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی تاہم عدالت کو بتایا جائے کہ کمشن کا طریقہ کار اور حدود کیا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ دیوانی مقدمہ نہیں بلکہ انسانی معاملہ ہے‘ عدالت اس معاملے میں آخری حد تک جائے گی اور رواں ماہ حتمی فیصلہ بھی کرے گی‘ اس موقع پر وزارت داخلہ‘ خارجہ اور دفاع کے سیکرٹریوں کے علاوہ چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریوں اور آئی جیز کو بھی بلائیں گے۔ ہر ادارہ سپریم کورٹ کے سامنے جواب دہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت وقت ضائع نہیں کر رہی ہر سماعت کے بعد کچھ مزید افراد بازیاب ہوتے ہیں۔ جسٹس ثائر علی نے کہا کہ یہ مقدمہ ریاست‘ حکومت اور عدلیہ کی بنیادیں ہلا رہا ہے۔ لواحقین کی آہوں پر بھی توجہ دی جائے‘ اگر لاپتہ افراد کے حوالے سے کسی شہری کی تفصیلات نہ ملیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ حکومتی تحویل میں ہے۔ لال مسجد واقعہ کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کا معاملہ اٹھانے پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ حکومت تو ابھی تک ان لاپتہ افراد کی فہرست ہی مرتب نہیں کر سکی‘ لال مسجد واقعہ کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی اور یہاں سے لاپتہ ہونے والے بہت سے افراد تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔ عدالت نے اس حوالے سے بھی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ مسعود جنجوعہ‘ فیصل فراز‘ سعید الرحمن‘ عتیق الرحمن‘ محمد عطا اور محمد الطاف کے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے رپورٹ پیش کرنے کو کہا‘ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس پی کامران عادل نے بتایا کہ فوج اس معاملے میں مکمل تعاون کر رہی ہے‘ ایم کیو ایم کے لاپتہ افراد کے حوالے سے عدالت نے ہوم سیکرٹری سندھ کو ایف آئی آر درج کر کے رپورٹ دینے کا حکم دیا اور لاپتہ افراد سے متعلق انفرادی اور اجتماعی درخواستوں پر تفصیلی اور جامع رپورٹ دو ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 18 مارچ تک ملتوی کر دی۔ ریڈیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے داخلہ‘ خارجہ اور دفاع کے وفاقی سیکرٹریز کے علاوہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور پولیس سربراہان کو طلب کر لیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں آئین کے تحت حاصل تمام اختیارات استعمال کریں گے۔ ہمیں بتایا جائے کہاں تفتیشی اداروں کے پَر جلتے ہیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ کس کس کے پَر جلتے ہیں۔ اس معاملے میں کسی ایجنسی نے غفلت کی تو کارروائی ہو گی۔ آئندہ سماعت پر تمام ارباب اختیار اپنے اختیارات کیساتھ عدالت میں آئیں‘ اس کیس میں پارلیمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اے پی پی کے مطابق لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آخری سماعت دو ہفتوں بعد 18 مارچ کو ہو گی۔