سیاستدان اور حکمران پہلے خود گڑ کھانا بند کریں

03 مارچ 2010
امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ سے ایک عام نمازی نے مسجد نبوی میں نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران خلیفہ وقت سے ان کی اپنے حصہ سے زیادہ کپڑا سے لمبی قمیض کے بارے میں سوال کیا، جس پر حضرت عمر ؓ نے یہ وضاحت پیش کی کہ ان کے بیٹے نے اپنی قمیض کا کپڑا ان کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔ اسلامی تاریخ میں احتساب کی یہ ایک روشن مثال ہے۔ اس کے بر عکس اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہر شخص اور خصوصی طور پر ہر دور کا حکمران طبقہ بظاہر بڑھ چڑھ کر احتساب کے نعرے بلند کرتا ہے لیکن عوام کو گڑ نہ کھانے کی پند ونصائح کرتے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ خود دن دہاڑے گڑ کھاتے کھاتے اس کے پیٹ کی توند پھٹی جا رہی ہے، لیکن نہایت معصومیت سے حکمران طبقہ اپنے اپنے وقت میں دیگراں نصیحت اور خود رامیاں فصیحت کا کردار ادا کرتے ہوئے کمال ڈھٹائی سے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔
فروری 2008ءمیں ہونے والے انتخابات کے بعد صورت حال کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے اور ہر طرف احتساب کا شکنجہ سخت کرنے کے علاوہ اربوں ڈالر کا پاکستانی سرمایہ حکومت کی نظروں سے چھپا کر بیرونی بنکوں میں جمع ہونے کے باعث اس قیمتی زرمبادلہ کو پاکستان میں واپس لانے پر ایک طوفان برپا ہے۔ لیکن عملی طور پر متعلقہ حضرات پر جوں تک رینگتی نظر نہیں آتی، نہ ہی پارلیمنٹ اس پر کوئی آواز اٹھاتی ہے نہ ہی آئینی فورم کمیٹی ایسے غیر قانونی اقدام پر کوئی آئینی قدغن لگاتی ہے اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ اس کا کوئی نوٹس لینا مناسب سمجھتی ہے۔
معتبر اخباری اطلاعات کے مطابق زرمبادلہ کے علاوہ بعض خواتین و حضرات کی ملکیت سونے کے کئی من اور چاندی کے کئی ٹن سوئٹزرلینڈ کے بنکوں کے علاوہ شرق و غرب کے اہم ملکوں میں الیکشن کمیشن کو ڈکلیئر کیے بغیر غیر قانونی طور پر محفوظ پڑے ہوئے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے گڑھے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ کسی حزب اقتدار یا حزب اختلاف سیاستدان کو توفیق نہیں ہے کہ اس کے خلاف آواز بلند کرے کیوں کہ اکثر و بیشتر اس حمام میں ننگے ہیں۔ لیکن ہر طرف شور ہے کہ 1973ءکا آئین نافذ کیا جائے، میثاق جمہوریت پر فوراً عملدرآمد ہو اور آزاد عدلیہ ایک عام آدمی سے لے کر وزیراعظم اور صدر مملکت تک ہر ایک کا محاسبہ کرے۔ یہ بھی مطالبہ ہے کہ کسی فوجی آمر کے دوبارہ سر اٹھانے کا ہمیشہ کےلئے قلع قمع کرنے کےلئے آخری فوجی حکمران کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں عبرتناک سزا دی جائے۔ ان مطالبات سے کوئی ذی شعور پاکستانی انکار نہیں کر سکتا بشرطیکہ محاسبہ کا یہ عمل کسی ایسے طے شدہ طریقہ کار کے ساتھ ایک مقررہ تاریخ سے بلا استثنٰی ابتداءکرتے ہوئے اپنے منطقی انجام تک آنکھیں بند کرکے مکمل کیا جائے کیوں کہ قانون اندھا ہوتا ہے اور کسی چھوٹے بڑے یا عزیز و اقارب کو نہیں دیکھتا۔ حضور نبی کریمﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ اگر ان کی عزیز ترین بیٹی فاطمہ بھی کسی جرم کا ارتکاب کرے گی تو اس سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا کیوں کہ انصاف ایک ایسا شفاف عمل ہے جو ایک اندھے کو بھی نظر آتا ہے۔
پاکستان کی تو یہ حالت ہے کہ کوئی مجرم کسی سے چھپا ہوا یا پوشیدہ نہیں ہے لیکن جہاں قانون نافذ کرنے والے تھانوں کے اندر سب سے زیادہ قانون شکنی ہوتی ہو جہاں کوتوال شہر اور آئین کے محافظ اعلیٰ عدلیہ کے ممبران روز اول سے لے کے آخری فوجی آمر کو نظریہ ضرورت کے تحت تحفظ دیتے رہے ہوں وہاں مجرم پر پہلا پتھر کون مارے گا؟ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیںہے کہ پاکستان کے سترہ کروڑ شہری خاموشی کے ساتھ اپنے حقوق کا خون ہوتے ہوئے دیکھیں اور لب تک نہ کھول سکیں۔ اب قوم کی آنکھیں اور قوم کے لب کھل چکے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں جس کے دوران عدلیہ کے ریاستی ستون نے ایک نیا جنم لیا ہے وہاں ریاست کے چوتھے ستون ذرائع ابلاغ نے بھی پاکستان کی تاریخ میں آزادی اظہار اور تحفظ انسانی حقوق کی جنگ میں روشنی کے مینار کا مثالی کردار ادا کیا ہے کہ آج کے بعد کسی گڑ نہ کھانے کی تلقین کرنے والے کو خود ہرگز گڑ نہ کھانے دیں گے۔