سو جھلا

03 مارچ 2010
امیر نواز نیازی ۔۔۔
شب دیجور کی سیاہی چھٹنے پر وہ جو ہلکا سا پرنور اجالا نمودار ہوتا ہے‘ اسے سرائیکی زبان میں سو جھلا کہتے ہیں تو اسی نام اور نسبت سے ہمیں میانوالی جیسے پسماندہ‘ بالخصوص تعلیم نسواں کے حوالے سے بہت ہی پچھڑے ہوئے علاقے سے خواتین کا خوبصورت تحریروں اور تصویروں سے مزین اردو میں چھپنے والا ایک بھرپور ماہنامہ ”سوجھلا“ دستیاب بلکہ نظر نواز ہوا تو ہم حیران ہی نہیں شادمان بھی ہوئے۔ ساتھ ہی دل میں یہ خیال آیا کہ ایک وہ بھی کیا زمانہ تھا کہ آپ پورے میانوالی شہر میں گھوم جائیں‘ عورت نام کی کوئی بھی جنس چلتی پھرتی نظر نہیں آتی تھی اور اگر بہ امر مجبوری کسی عورت کو گھر سے نکلنا ہی پڑتا تھا تو سات پردوں میں چھپ چھپا کر نکلتی تھی۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی خواتین کو علم روشنی سے بہت دور رکھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ بہت سے خاندان اپنی بچیوں کو پرائمری سے آگے تعلیم دلوانا خاندانی غیرت کے منافی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ تک یہاں ہائی سکول کی سطح پر شہر بھر میں صرف ایک ہی گورنمنٹ ہائی سکول رہا۔ میانوالی کی ان محرومیوں کا رونا ہم اپنے کالموں میں بھی برابر روتے رہے مگر بے سود۔
اسی طرح یہ سوجھلا آگے بڑھا تو ہمیں یقین ہے کہ اس خطے کی خواتین بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں مردوں سے پیچھے نہیں رہیں گی بلکہ اس کے آثار ابھی سے آنا شروع ہو گئے ہیں کہ یہاں کی لڑکیاں جہاں تعلیم میں اعلیٰ مقام حاصل کر رہی ہیں‘ وہاں وہ ڈاکٹر اور انجینئر بھی بن رہی ہیں‘ یہاں تک کہ شعبہ¿ صحافت میں بھی برابر دسترس حاصل کر رہی ہیں۔ ماہنامہ ”سوجھلا“ کا اجرا اس کا بین ثبوت ہے اور یہاں تعجب کی بات یہ ہے کہ ”سوجھلا“ میں جہاں خواتین کی دلچسپی کے تمام شعبوں کے بھرپور مضامین ہوتے ہیں‘ وہاں اس کی لکھنے والیاں بھی تمام خواتین ہی ہوتی ہیں اور صرف یہی نہیں‘ اس کی ادارت سے لے کر کمپوزنگ تک کے سارے کام خواتین ہی انجام دے دیتی ہیں اور اس کی ادبی مشاورت سے لے کر قانونی مشاورت تک کی ساری ذمہ داریاں بھی خواتین ہی نباہ رہی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسکی مدیر اعلیٰ عالیہ قیصر خان پیشہ کے لحاظ سے ایک ہمہ تن مصروف ڈاکٹر ہیں اور کوالیفیکیشن کے لحاظ سے وہ سارے سرگودھا ڈویژن میں واحد پیڈیاٹرک سرجن ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لکھنے لکھانے کا شوق اور شغف ان کی روح اور جنون کا حصہ ہے اور یہی جنون ماہنامہ ”سوجھلا“ کے وجود میں آنے کا محرک بنا ہے۔ وہ اس کی ایڈیٹر ہی نہیں‘ سرپرست اور کرتا دھرتا بھی ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹری کے ساتھ ساتھ صحافت اور نشرو اشاعت کا یہ سلسلہ بھی جاری کر رکھا ہے۔ وہ ایک ادبی رسالے ”تمام“ کی مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔ تو یہ سب پڑھ سن کر آپ کو بھی ہماری طرح علامہ اقبالؒ کا یہ شعر یقیناً یاد آ رہا ہو گا
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی