سکھ شہری کا قتل اور سرحدی مکتی باھنی

03 مارچ 2010
پروفیسر محمد یوسف عرفان ۔۔۔
طالبان نے وادی تیمرہ اور خیبر ایجنسی میں دو سکھ قتل کر دئیے۔ بھارتی حکومت نے سکھوں کے قتل کا مسئلہ پاک بھارت مذاکرات 25 فروری کے ایجنڈے میں شامل کر لیا تھا جبکہ بھارتی سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے صدر اوتار سنگھ مکڑ نے بھارتی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا ایک وفد پاکستان بھیجا جائے تاکہ حکومت پاکستان اور سکھ برادری سے ملاقات کر سکے جبکہ صدر پاکستان نے سکھوں کے قتل کی تحقیق اور مجرموں کے سخت ترین سزا کا حکم دے دیا ہے۔
پاک بھارت مذاکرات سے تین دن قبل سکھوں کا قتل ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اس ضمن میں بھارتی سرکار کا رویہ ایک تیر دو شکار کا ہے۔ بھارت مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے حوالے سے ”ڈومور“ پر دباﺅ بڑھانا چاہتا ہے اور عالمی دباﺅ کے تحت ہونے والے پاک بھارت مذاکرات کا فوکس اور توجہ بھارتی آبی جارحیت کے مہلک اثرات سے ہٹا کر پاکستان کی اندرونی و غیر قانونی اور امن و امان کے نقص کی جانب رکھنا چاہتا ہے جبکہ بھارت کا دوسرا شکار بھارتی پنجاب میں از سر نو زور پکڑنے والی خالصتان تحریک کو متاثر کرنا ہے اور بھارت کی سکھ قوم کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کا دشمن مسلمان اور پاکستان ہے جہاں سکھوں کا جان و مال محفوظ نہیں پاکستان و بھارت میں بسنے والے سکھ اس بھارتی سازش کو سمجھیں اور کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔
طالبان پاکستان میں مکتی باہنی کا کردار ادا کر رہے ہیں مگر یہاں یہ امر واضح رہنا چاہئے کہ روس‘ امریکہ اور اتحادی ممالک کے خلاف مزاحمتی مجاہدین اور ہیں۔ بھارت نے بینظیر کے دور اول میں طالبان نام سے مکتی باہنی پروجیکٹ شروع کیا تھا۔ جس کو عالمی اتحادی ممالک امریکہ‘ اسرائیل‘ آسٹریلیا‘ یورپ اور کسی حد تک ایران کی سرپرستی اور تعاون میسر تھا۔ آپریشن ”راہ نجات“ اور ”راہ راست“ کے دوران بھارتی گورکھا فوجیوں کی لاشیں‘ امرجیت سنگھ‘ اور دیگر سکھ ہندو انتہا پسند رضاکاروں کی گرفتاری اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ بھارت نے مذکورہ علاقوں میں اپنے محفوظ معاون اور مقامات بنا رکھے ہیں جو صوبہ سرحد بلکہ پورے پاکستان میں پرامن شہریوں‘ بلاامتیاز‘ مذہب و نسل‘ بہیمانہ دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان کی سلامتی اور پاک بھارت مذاکرات کو بامقصد بنانے کے لئے ملک کے اندر دشمن کی ہم رنگ مداخلت کو روکنا ہو گا۔ آج بھارتی برھمنی پنجر اتنا مضبوط ہے کہ وہ جب‘ جہاں اور جیسے چاہے کر سکتا ہے۔ افغان جہاد کے دوران ضیاءالحق انتظامیہ کا کمال یہ تھا کہ افغان مجاہدین سے کوئی غیر ملکی وفد کا ملنا اور امداد براہ راست نہیں تھی اس دور میں ضیاءالحق مداخلت تو دور کی بات امریکی وفد اور امداد بھی آئی ایس آئی کے ذریعے تھی جن میں بعض کالی بھیڑوں نے بہت مال بنایا مگر یہ بھیڑیں مجموعی طور پر سانحہ بہاولپور تک ضیائی انتظامیہ کے اصولی‘ انسانی اور اسلامی موقف سے انحراف نہ کر سکیں۔ فقط طالبان کا استعمال مضبوط اور اس کے وزیر داخلہ جنرل نصیراللہ بابر کی پیداوار ہے۔ جنہوں نے ضیاءالحق کی شہادت کے بعد افغان مجاہدین کی شکست وریخت کے لئے مختص مگر اپنی قیادت سے نالاں مجاہدین کو طالبان مکتی باھنی کے حوالے کیا تھا گذشتہ کل کی کاشت آج کٹائی کی طالب ہے۔