چار قابل غور پہلو؟

03 مارچ 2010
اسرار بخاری ۔۔۔
پاکستان میں کون ہو گا جو غریب مزارعین کو زمینیں دینے کا مطالبہ کی مخالفت کرے گا اسلامی اصول کے تحت تو زمین کا مالک ہی وہ ہوتا ہے جو خود کاشت کرے اور اگر زمین سال تک کوئی کاشت نہ کرے تو اسلامی ریاست کو اختیار ہے کہ وہ زمین لے کر خود کاشت کرنے والے کو دیدے اگر پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے تو یہاں خود کاشت کرنے والا مقدم ہے اگر انجمن مزارعین نے مالکانہ حقوق کے لئے 9 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے تو یہ ان کا جمہوری حق ہے مزارعین کو مالکانہ حقوق دینے سے ملک میں غلے کی پیداوار بڑھے گی کسان کا معیار زندگی حقیقی معنوں میں بلند ہو گا لاکھوں افراد کو روزگار میسر آئے گا لیکن مالکانہ حقوق کو مزارعین کا کمزور پہلو جان کر کوئی انہیں ایکسپلائٹ تو نہیں کر رہا یہ ایک قابل غور پہلو ہے کیونکہ انجمن مزارعین کے عہدیداروں نے مالکانہ حقوق کے ساتھ بعض علاقوں میں غیر ملکی کمپنیوں‘ کارپٹ فارمنگ اور کچھ عرب ریاستوں کو زمین دینے کی شدید مخالفت کی ہے دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس سے فائدہ اور نقصان کس کو اور کیا ہو گا؟ جہاں تک فائدہ کا تعلق ہے جیسا کہ سننے میں آرہا ہے کہ چین اور بعض عرب ریاستوں کی کمپنیوں نے پاکستان میں لیز پر زمین حاصل کر کے اجناس اور پھل وغیرہ اگانے کی منصوبہ بندی کی ہے جس پر کروڑوں کی سرمایہ کاری ہو گی۔ یہ کمپنیاں چھوٹے ڈیم تعمیر کریں گی‘ زرعی فارموں کو ملانے والی بین الاقوامی معیار کی سڑکیں تعمیر کریں گی ان تعمیراتی سرگرمیوں کے علاوہ متذکرہ فارموں میں کاشتکاری اور ٹرانسپورٹیشن کے عمل میں پاکستانی افرادی قوت کےلئے مواقع پیدا ہونگے ان کمپنیوں کو خود یہ فائدہ ہو گا کہ انہیں اپنے اپنے ملکوں کے لئے بہتر زرعی پیداوار حاصل ہو گی تاہم پاکستان کے موجودہ حالات بالخصوص دہشت گردی کی وارداتوں اور اس پر پاکستانی حکام کے عدم تعاون کا رویہ مستزاد‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کی کمپنیوں نے افریقی ممالک کا رخ کیا ہے جہاں سے سمندری راستے کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن آسان اور سستی افرادی قوت مہیا ہو سکتی ہے اور ایتھوپیا میں جو بھوکوں کا ملک کہلاتا ہے اس کی ساحلی سرزمین سے جس کے نزدیک دریائے امیزن گزرتا ہے کارپٹ فارمنگ کے ذریعہ ایک سو ملین ڈالر چاول کی پیداوار حاصل کی گئی اب اس طرح کینیا میں ایک لاکھ ایکڑ اراضی حاصل کی جا رہی ہے اس طرح اربوں کروڑوں کی سرمایہ کاری جو پاکستان میں ہونی تھی اب افریقی ملکوں میں ہو رہی ہے واضح رہے ان کمپنیوں کو جنوبی پنجاب میں برسوں سے بیکار پڑی بنجر زمین دی جانی تھیں اور جنوبی پنجاب میں حالات خراب کرنے کا ایک پس منظر یہ بھی ہو سکتا ہے زرعی معاشی ماہرین نے ایسی فارمنگ کو دوست اور برادر ملکوں کےلئے ہی نہیں پاکستان کے لئے بھی کئی لحاظ سے سود مند قرار دیا ہے البتہ ایک تجویز یہ ہے کہ ان کمپنیوں کی پیداوار کا 25 یا 20 فیصد سرکاری نرخوں پر محکمہ خوراک کو دینے کا پابند کیا جائے جس سے پاکستان کےلئے اجناس میں خود کفالت اور درآمدات سے نجات کی راہ ہموار ہو گی تیسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ ان کمپنیوں کو پاکستان میں مواقع ملنے سے نقصان کس کا ہو گا یہ کوئی مسئلہ فیثا غورث نہیں ہے آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ نقصان ان ممالک کا ہو گا جن کےلئے عرب ممالک برآمدات کی بہت بڑی منڈی ہے اور اربوں ڈالر کے زر مبادلہ حاصل کرتے ہیں اگر یہ ممالک پاکستان میں جہاں سے سمندری راستے سے نقل و حمل بے حد آسان اور افرادی قوت سستی ہے اپنی ضروریات میں خود کفیل ہو جائیں گے تو امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور مغربی ممالک کی برآمدات پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔ چوتھا قابل غور پہلو یہ ہے کہ انجمن مزارعین کے بعض عہدیداروں نے 24 فروری کو لاہور پریس کلب میں جو پریس کانفرنس کی اس میں ایک این جی اوز کی چار خواتین ایکٹوسٹ بہت سرگرم نظر آئیں۔ جس کی سرگرمیوں اور مغربی ایجنڈا میں حیرت انگیز مطابقت پائی جاتی ہے ان میں سے ایک نے پریس کانفرنس کی وڈیو تیار کی یہ وڈیو کیوں تیار کی گئی اس کے پس پشت مقصد کیا تھا ذہنوں میں اس سوال کا اٹھنا غیر فطری نہیں ہے البتہ ایسی این جی اوز کی سرگرمیوں سے آگاہی رکھنے والوں کے لئے پس پشت مقاصد اور ایسی وڈیوز کہاں بھیجی جاتی ہیں کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔