شیخ اور شکست

03 مارچ 2010
حلقہ NA55کے ضمنی انتخابات میں شیخ رشید صاحب خیر سے ایک مرتبہ پھر ہار گئے ہیں لیکن پیپلزپارٹی ‘ ق لیگ اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کی مدد اور معاونت سے ضمانت ضبط کرانے سے بچ گئے۔ پچھلی مرتبہ پندرہ ہزار کے لگ بھگ ووٹ لئے تھے۔ اس دفعہ پینتالیس ہزار تک جا پہنچے ہیں۔ ہوشیار سیاستدان ہیں وہ پریس کانفرنس میں چاہتے تو کہہ سکتے تھے کہ وہ انکی اخلاقی فتح ہے۔ اس Quantum Jumpکی ایک توضیع یہ بھی ہو سکتی تھی کہ مسلم لیگ ن آہستہ آہستہ اپنی مقبولیت کھو رہی ہے اور اگلے الیکشن تک اس میں بتدریج کمی آنے کا احتمال ہے لیکن ان کا سارا زور بیان دھونس اور دھاندلی پر تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا الیکشن ہارا ہوں ہمت نہیں!
اس سارے عمل میں ان سے ایک بھول ضرور ہوئی ہے الیکشن سے قبل یہ کہنے کی بجائے کہ دھاندلی کا امکان ہے‘ انہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ دھاندلی ہو چکی ہے‘ الیکشن کا انعقاد تو محض رسمی کارروائی ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں‘ تقسیم سے لیکر اب تک اس قسم کے الزامات ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ لگتے چلے آئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب جیتنے والی پارٹی بھی تبرکاً شکایت ضرور کرتی ہے اگر دھاندلی نہ ہوتی اور حضرت جھرلو حرکت میں نہ آتے تو وہ کچھ اور سیٹیں بٹور سکتے تھے۔
مہذب ملکوں میں ہارنے کی صورت میں صرف یہ کہا جاتا ہے‘ ہمیں شکست قبول ہے اور اگلے الیکشن میں لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے ہماری سوچ اور سائیکی یکسر مختلف ہے۔ یادش بخیر کافی عرصہ پہلے جب چودھری فضل الٰہی صدر پاکستان بنے تو کھاریاں سے ان کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی انتخابات ہوئے۔ اپوزیشن کا دباﺅ اس قدر بڑھا کہ حکومت نے گھبراہٹ میں ”کمزور“ اے سی بدل دیا اور کھر صاحب نے میری تعیناتی کے احکامات صادر فرمائیے۔ میری کھر سے کبھی ملاقات نہ ہوئی تھی۔ حکم حاکم مرگ مفاجات ہوا کرتا ہے۔ جب میں لائلپور سے کھاریاں پہنچا تو سارے ضلع میں مشہور ہو گیا تھا الیکشن ایکسپرٹ آ گیا ہے۔ میری جمعہ جمعہ چند سال کی سروس تھی اور دھاندلی کے مفہوم سے بھی ناآشنا تھا چیف الیکشن کمشنر سجاد احمد جان تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے۔ آپ کے متعلق کافی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ میں نے آپ کو بطور ریٹرننگ آفیسر ہٹا دیا ہے میں خود آ کر الیکشن کی نگرانی کرونگا۔ ان کا بیٹا وسیم سجاد جان میرا کلاس فیلو تھا‘ اس لئے تھوڑی سی لبرٹی لیتے ہوئے عرض کی۔ ایسی غلطی ہرگز نہ کریں۔ ”آخر کیوں؟ انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا ”اس صورت میں تنقید کی توپوں کا رخ آپ کی طرف ہو جائے گا“۔ کہنے لگے۔
How come ,Iremained the judge of the Supreme court of Pakistan.
عرض کیا۔ جناب والا‘ اس ملک میں اگر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھی الیکشن انچارج بنا کر بھیج دے تو حضرت تنقید اور دھاندلی کے الزام سے نہیں بچ سکیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ الیکشن کے بعد ہفت روزہ زندگی میں دھاندلی کے حوالے سے جو چھ صفحات پر مشتمل مضمون چھپا اس میں میرے ساتھ جج صاحب کا نام بھی جڑ دیا گیا تھا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں کبھی دھاندلی ہوئی ہی نہیں اور ہر شخص پاکباز اور ناک کی سیدھ میں چلنے کا عادی ہے۔ دراصل شیخ صاحب سے چند بنیادی غلطیاں ہوئیں۔ انہیں اس بات کا علم ہونا چاہئے تھا کہ ضمنی انتخابات میں Sitting Govt.کو ہرانا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ ”میڈیا ہائیپ“ کے ذریعے وہ الیکشن اور اپنے آپ کو اتنا اونچا لے گئے کہ گرنے کی صورت میں سیاسی ہڈی پسلی ٹوٹنے کا یقینی احتمال ہوتا ہے۔
مانسہرہ کا الیکشن ہارنے کے بعد ن لیگ کا گراف خاصا نیچے آ گیا تھا۔ پنجاب میں ضمنی انتخابات کرانے سے گریز بھی اس کی شہرت کو داغدار کر رہا تھا۔ ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ جا کر شیخ صاحب نے دراصل ن لیگ کی مخالفت نہیں بلکہ مدد کی ہے۔ ایک بار پھر اسے اپنی صفوں کو درست کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔ لاہور کے الیکشن میں یہ جیتنے ہی نہیں بلکہ واک اوور کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کسی نے درست کہا ہے۔
Sheikh Rashid has won the argument but lost the case.
کسی بھی سیاستدان اور انسان کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں شیخ صاحب بھی اس وقت ایک دور ابتلا سے گزر رہے ہیں۔ ہمیں ان سے پوری ہمدردی ہے۔ یہ صرف الیکشن نہیں ہارے تین دوست بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ ایک دوست کی موت ہار سے بڑا صدمہ ہوتی ہے۔ وہ صرف دوست ہی نہیں انکے دست و بازو بھی تھے۔ زندگی صرف امتحان ہی نہیں بسااوقات انتقام بھی لیتی ہے۔