کابل براستہ کشمیر

03 مارچ 2010
بھارت نے پچھلے آٹھ برس کے دوران ہرممکن کوشش کی ہے۔ افغانستان میں اس کا رسوخ اس طرح قائم ہو جائے کہ علاقے کا کوئی دوسرا ملک خاص طور پر پاکستان اس کے مقابلے میں نہ ہو۔ اس مقصد کی خاطر ہمارے ہمسایہ ملک نے وہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ سڑکیں تعمیر کی ہیں۔ امریکہ اور کرزئی حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں میں ہاتھ بٹایا ہے۔ وہاں کی بیورو کریسی اور مقتدر لوگوں میں اثر بڑھانے کی کوشش ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ پاکستان سے ملنے والی ملک افغاناں کی طویل سرحد کے اس جانب قندھار سے لیکر جلال آباد تک اپنے قونصل خانے قائم کئے ہیں۔ جہاں ویزوں کے اجراءکا کام برائے نام ہوتا ہے۔ اندرون پاکستان تخریبی کارروائیوں کو فروغ دینے کا بھارت کے پسندیدہ ترین شغل پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ یہ محض الزام نہیں۔ پچھلی سہ ماہی میں امریکہ کے معتبر ترین جریدے فارن افیئرز میں اس کی کرسٹائن فیر نامی ایک سکالر کا مشاہداتی مضمون چھپا ہے۔ جس میں بھارتی قونصل خانوں کی کارروائیوں کا آنکھوں دیکھا حال بتایا گیا ہے کہ بھارتی سفارتی افسروں کے روپ میں کچھ ماہرین کس طرح پاکستان میں کام کرنے والے ایجنٹوں کو تربیت دیتے اور ان میں رقوم تقسیم کرتے ہیں۔ بھارت یہ سارا جال پھیلانے میں اس لئے کامیاب ہوا ہے کہ گذشتہ آٹھ برس سے افغانستان پر امریکہ اور ناٹو کی افواج کا قبضہ ہے۔ اسی دوران میں امریکہ نے بھارت کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنر بنایا اور اس کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کیا۔ بھارت کو امریکی چھتری تلے افغانستان میں پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کی کھلی چھٹی دی گئی پاکستان میں چونکہ صدر بش کے اشارہ ابرو پر احکامات بجا لانے والے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی حکومت تھی۔ اس لئے بھارت کی راہ میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہ تھی۔
لیکن افغان طالبان کی جرا¿ت ہمت اور جذبہ آزادی کو داد دینے کو جی چاہتا ہے انہوں نے جہاں اپنی سرزمین پر امریکہ اور ناٹو کی افواج کے پاﺅں نہیں جمنے دئیے انہیں ایک کے بعد دوسری فوجی ناکامی سے دوچار کیا ہے وہیں پاکستان کو سینڈوچ بنا کر رکھ دینے کی بھارتی کوششوں کو بھی خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔ افغان طالبان نے پچھلے دو تین سالوں کے دوران بھارتی رسوخ کے چھکے چھڑا کر رکھ دئیے ہیں۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے سے لیکر اس کے اور را کے ایجنٹوں کی بستیوں تک پے در پے حملے کر کے بھارتیوں کو واضح الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ اپنے ملک میں ان موجودگی انہیں کسی صورت منظور نہیں۔ وہ صرف امریکہ نہیں ہر استعماری اور استبدادی عزائم رکھنے والی قوت کے خلاف ہیں خواہ وہ دور سے آئی ہوئی طاقت ہو یا قریب کے علاقے سے تعلق رکھتی ہو۔ اب جو امریکہ افغانستان سے باعزت طور پر نکل جانے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے بھارت کے لئے یہ امر سخت ترین تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ اس کے بغیر اس کا موجودہ حالت میں وہاں اپنا وجود اور سرگرمیاں برقرار رکھنا ناممکنات میں سے ہو گا اور اس کے سارے منصوبوں پر پانی پھر جائے گا۔ امریکہ کو بھی بہت زیادہ فکر لاحق ہے اگر پاکستانی فوج کا حقیقی تعاون نہ ملا تو ملک افغاناں سے شکست کا داغ لگوائے بغیر واپسی خواب بن کر رہ جائے گی۔
چنانچہ امریکہ اور بھارت کا مشترکہ مفاد ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں ازسرنو مذاکرات ہوں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کو بنیادی موضوع بنائے ایسے مذاکرات کو لاحاصل سمجھتا ہے۔ اس کی جانب سے نئی دہلی میں ہونے والے پہلے راﺅنڈ میں یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح کر دی گئی ہے۔ بھارت کو صرف دہشت گردی کے خاتمے پر اصرار ہے۔ جبکہ اس کی جڑیں خود بھارت کے اندر اور اس کی کشمیر پالیسی میں پائی جاتی ہیں۔ اب بھارت نے سعودی عرب سے رجوع کیا ہے۔ اس کے کسی وزیراعظم نے 29 سال بعد ریاض کا دورہ کیا ہے۔ بھارت کے نائب وزیر خارجہ ششی تھرور نے اس موقع پر کہا ہے ان کا ملک سعودی عرب کو مذاکرات کا INTER LOCUTER کے طور پر قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس پر پورے بھارت میں ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ حزب اختلاف اس کا مطلب یہ لے رہی ہے ان کا ملک اپنے موقف سے ہٹ گیا ہے۔ کیونکہ پہلے بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کسی تیسرے ملک کی ثالثی قبول نہیں کرتا تھا۔ اب جو من موہن سنگھ سعودی عرب کو مذاکرات کاری کے لئے کہنے گئے ہیں تو لامحالہ مسئلہ کشمیر زیر بحث آئے گا۔ سعودی عرب کی ثالثی کے بغیر مذاکرات کاری کار لاحاصل ہو گی۔ بھارتی دفتر خارجہ کی جانب سے بہت سی وضاحتیں جاری کی گئی ہیں۔ بات بن نہیں رہی۔ امریکہ کی طرح بھارت کے حکمرانوں میں بھی یہ خیال جڑیں پکڑ رہا ہے کابل کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ بنیادی تنازعہ حل کئے بغیر پورے خطے میں امن نہیں قائم کیا جا سکتا۔ امریکہ اور سعودی عرب تنازعہ کشمیر کو حل کر دیں۔ بھارت پاکستان سینڈوچ کرنے کے منصوبے ترک کر دے۔ خطے میں پائیدار امن قائم ہو گا اور نئی دہلی کے لئے آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔