ضلعی نظام مسترد اور ناظمین کی چھٹی!

03 مارچ 2010
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظام جمہوریت اپنی ہی معنویت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ 62 سالوں میں جمہوری روئیے نہیں پنپ سکے البتہ جمہوریت کی نئی نئی اصلاحیں مزین ہوتی رہیں جمہور لوگوں کے بے ترتیب ہجوم اور منظم قوم کا مشترکہ نام ہے آسان زبان میں عوام الناس کو جمہور کہتے ہیں اس کی وسعتِ معنویت میں کمی بیشی نہ ہوئی مگر جمہوریت ہر حکمران کے دور میں کروٹیں بدل بدل کر فرہنگِ اردو میں معنویت کا دائرہ وسیع کرتی رہی بندوں کے ذریعے اقتدار پہ شب خون مارنے والا حکمران بھی ’جمہوریت‘ کا نام بلند کرتا ہے معاشی استحصالی کا مرتکب ناجائز طریقہ سے دولت کمانے والا بھی ’جمہوریت‘ کا نام روشن کرتا ہے۔ عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے منظر عام پہ آنے والا سیاستدان بھی جمہوریت کے گیت الاپتا ہے اور مذہب کے نام کو استعمال کر کے ایوان اقتدار میں پہنچنے والا بھی جمہوریت کا علمبردار بنتا ہے مگر ایک بات سب کے لئے مشترکہ نصب العین کی حیثیت رکھتی ہے کہ حکومت عوام کی ہو اور حکمرانی چند مخصوص لوگوں کی ہو، عوام کے مسائل نظر انداز کر کے اپنے مفادات کو نظروں میں رکھنے والی حکمرانی کی بدترین مثالیں پاکستان میں بکثرت ملتی ہیں اور یہیں پر عوامی نمائندہ کہلانے والے رہبر عوام کے راہزن کا خطاب پانے میں ایک دوسرے پہ سبقت لے جاتے ہیں۔ ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح صوبہ پنجاب کی حکومت نے بھی مشرف کے قائم کردہ ضلعی نظام حکومت کو بستر مرگ سے اٹھا کر آئین کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے اور بلدیاتی نظام کو ایک دفعہ پھر حیات نو کا مژدہ سنایا ہے۔ ناظمین کو فارغ کرکے ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کی جارہی ہے۔ ضلعی ناظمین کو میسر دیگر سہولیات کے علاوہ ان کو مہیا کی جانے والی سرکاری گاڑیاں بھی واپس لے لی گئی ہیں۔
پنجاب میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل ڈیڑھ سال سے متنازع حیثیت رکھتے ہوئے بھی گورنر اور وزیراعلیٰ کی التفات سے محروم تھا مگر گورنر پنجاب نے وزیراعظم کی ہدایت پر اس بل پر دستخط کر دئیے، اب سکہ بند ناظمین کے اختیارات پڑھے لکھے بابو ٹائپ ایڈمنسٹریٹرز کو منتقل ہو جائیں گے۔ ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی ایک احسن قدم ہے۔ ناظمین کی کثیر تعداد جو حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھی وہ بذات خود کرپشن زدگیوں کی حدوں سے تجاوز کر چکے تھے۔ ماسوائے چند ایک ناظمین کے جو دردِ دل رکھتے تھے اور بے لوث خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان چند ایک نیک ناظمین کے علاوہ تمام ناظمین کو آج کرپشن کے کثیر مقدموں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ایک آمر کو سیاسی جواز فراہم کیا اور آمر نے ان کے کندھوں پر چڑھ کر 9 سال سیاست کے برجوں اور میناروں کو روندتے ہوئے ایوان کی مسندوں پہ جلوہ آرائی کی ناظمین نامی سیاسی گروہ کی ساری سیاست آمریت کی کوکھ سے جنم لیتی اور جمہوریت کی گود میں مرتی رہی۔
صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے ایک بیان کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں سابقہ ضلعی ناظمین کی 75 فیصد تعداد کو عدالتوں اور تھانوں کا یقینی رخ کرنا پڑے گا۔ تمام تر ترامیم کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتیاں سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بننی چاہئیں بلکہ غیر سیاسی ایڈمنسٹریٹر تعینات کئے جائیں جن کی گردن میں سابقہ ناظمین کی طرح، ’سریا‘ نہ ہوتا کہ وہ صرف اور صرف عوامی فلاح و بہبود کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر رکھ سکیں۔