رابطہ کی نہیں اردو قومی زبان ہے!

03 مارچ 2010
رفیق غوری ۔۔۔
صوبہ سرحد کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کی آنکھیں بے شک بلور نہیں ہےں مگر پھر بھی وہ اپنی آنکھوں کو مٹکا مٹکا کر اکثر ایسی بات کر ہی جایا کرتے ہیں۔ جو ان کی قیادت کا ایک عرصہ سے چلن رہا ہے اور اب جناب بشیر احمد بلور نے اردو کو قومی زبان کی بجائے محض رابطے کی زبان قرار دیا ہے۔
بشیر احمد بلور ہندکو کو بھی رابطے کی زبان کہہ سکتے تھے مگر ایسا کہنے سے موصوف کا قومی زبان کے سلسلہ میں بغض کھل کر سامنے نہ آتا۔ منظرعام پر نہ آتا۔
بلور صاحب یقیناً جانتے ہوں گے کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ نے مسجدوں کے شہر ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا تھا۔
کون نہیں جانتا کہ قائداعظمؒ بنگالی بھاشا تو ایک طرف اردو‘ پشتو اور بلوچی سمیت دوسری کوئی زبان نہیں بولتے تھے۔ پھر بھی حضرت قائداعظمؒ نے جب ڈھاکہ میں اردو کو رابطے کی زبان کی بجائے قومی زبان کہا تو نوزائیدہ ریاست کے بانی کے ذہن میں جو نقشہ‘ جو خاکہ تھا وہ اسی سے عیاں ہو جاتا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اردو زبان کو اگر رابطے کی زبان کی بجائے تب بھی قومی زبان ہی جانا اور مانا جاتا تو میرا اور آپ کا پاکستان کبھی دو لخت نہ ہوتا۔
گذشتہ سالوں میں جو پاکستانی ڈھاکہ سے دورہ کرکے واپس لوٹے ہیں ان سب کا ماننا ہے کہ وہاں آج بھی اردو بالکل اسی طرح بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ جس طرح تحریک پاکستان یا پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے بولی یا سمجھی جاتی تھی۔ اب جب بشیر احمد بلور اور موصوف کی قیادت کو سبز ہلالی پرچم کو سلامی دینے اور جھنڈے کو گاڑی پر لہرانا پڑ رہا ہے اور وزارتی ضرورت کیلئے وہ ایسا کر بھی رہے ہیں تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اور ان کے ساتھی دل سے بھی تسلیم کر لیں سبز ہلالی پرچم اور لفظ پاکستان کو دل سے مان لیں۔ چہ جائیکہ اپنے پرکھوں کی طرح ”میں نامانوں‘ میں نامانوں“ کی رٹ لگائے رکھیں۔
اکثر پاکستانیوں کو یاد ہے بلکہ اچھی طرح یاد ہے کہ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان قیام پاکستان کے موقع پر جب مولانا آزاد کے ہاں غصے سے تلملاتے ہوئے پہنچے تو انہیں کہا گیا تھا کہ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ہے اور اب آپ لوگوں کا مستقبل پاکستان سے ہی وابستہ ہے۔
ایسے بھی کافی لوگ موجود ہیں جن کے پاس مولانا ابوالکلام آزاد کی وہ تصویر آج بھی موجود ہے۔ جو مرحوم کی بانی پاکستان حضرت قائداعظم کے مرقد پر بنائی گئی تھی۔
جس میں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے ترنگے کو سلامی دینے والے آج پاکستان کو دل سے تسلیم کر لیں۔ وہ لوگ جو آج بھارت میں رہتے ہیں وہ پوری طرح جانتے ہیں کہ باچہ خان کے خاندان کے یونس خان کو بھارت میں رہنے کے باوجود ان کی خواہش کے باوجود کوئی عہدہ یا مقام نہیں دیا گیا۔ حالانکہ موصوف کی اولادیں ہندو¶ں اور سکھوں کے ہاں شادی بیاہ رچانے سے بھی بخل سے کام نہیں لیتے۔ اس خانوادہ کی کافی باتیں یاد آرہی ہیں۔ جو انہوں نے محض ضد‘ ہٹ دھرمی اور جھوٹ کی بنیاد پر کی تھیں مگر طوعاً کرہاً ان سے انکار کرنے‘ بدلنے اور مکرنے کی ضرورت بشیر بلور کی طرح آن پڑتی ہے تو یہ مجبوراً قبول کر لیتے ہیں۔ بلور صاحب کو ماضی میں لکھی ہوئی ایک کتاب ”مجبور آوازیں“ اگر کہیں سے میسر آجائے تو پڑھ کر دیکھ لیں کہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر کیا بیت رہی ہے اور وہ مجبوراً بھارت میں رہتے ہوئے بھی کس طرح پاکستانی پرچم‘ قومی ترانے کا احترام کرتے ہیں۔ یہ کتاب خالد لطیف گھابا نے بھارت میں بیٹھ کر ہی لکھی تھی اور مسلمان ہونے سے پہلے ان کا نام کہنیا‘ لال گھابا ہوا کرتا تھا۔
بھارت کی ایک مجبور ماں کا واقعہ بیان کرکے اجازت چاہتا ہوں کہ اس معاشرہ میں بھی تربیت کرنے والی ماں کو جب معلوم ہوا کہ اس کا لعل چوری چھپے سگریٹ پی رہا ہے تو اس نے اپنے لعل کو لاڈلے کو سگریٹ پینے سے منع کیا مگر وہ بضد رہا۔ ماں کو غصہ آگیا اور بیٹے پر ہاتھ اٹھانے کے بعد وہ اسے مارے جا رہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ ”اب سگریٹ پی گے“ اب سگریٹ پیﺅ گے‘ پھر بھی جب سزاوار بیٹے نے سگریٹ پینے پر ہی ضد کی تو ماں نے پوچھا اس سگریٹ میں کیا ہے؟“ تو بیٹے نے کہا ماں یہ پاکستان سے آیا ہے اور پھر........ سزا دینے والی ماں نے پاکستان سے آنے والے اس سگریٹ کو متبرک سمجھ کر خود بھی کش لگانے شروع کر دئیے تھے آخر میں بلور صاحب سے صرف یہی کہنا ہے کہ پاک سرزمین متبرک ہے‘ پاک ہے اسے اب دل سے تسلیم کر ہی لیں۔