بدھ ‘ 16 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 3 ؍ مارچ 2010ء

03 مارچ 2010
امریکہ میں زیور چور جوڑا اپنا بچہ سٹور پر بھول گیا۔
کیسی عجیب بات ہے کہ زیور چور جوڑا سونا لے گیا اور اپنا اصل زر چھوڑ گیا۔ امریکی سونا پہننے کے اتنے شوقین نہیں جتنا سونا چُرانے کے۔ آپ امریکا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں اکثر مہم جوئیاں سونے کی تلاش میں ملیں گی۔ آج بھی وہ ڈوبے ہوئے جہاز تلاش کرتے ہیں کہ کہیں ان میں سے سونے کا بکس مل جائے مگر اب انہوں نے ڈوبے ہوئے ملک بھی تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں کیونکہ وہاں سے بھی ان کو کافی کچھ مل جاتا ہے۔
امریکی جوڑا فلاڈلفیا کی ایک زیورات کی دکان میں بڑے معززانہ انداز میں اپنے چار سالہ بچے سمیت داخل ہوا‘ جیولر کو جیولری دکھانے کیلئے کہا‘ وہ ٹرالی پر مختلف قسم کے زیورات رکھتا گیا جب ٹرالی بھر گئی تو امریکی جوڑا ٹرالی لے کے دوڑا اور بچہ پیچھے چھوڑ دیا۔ اگرچہ بعد میں انہیں پکڑ لیا گیا مگر اس واقعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکی چیزیں اُڑانے کی اتنی خواہش رکھتے ہیں کہ اپنے بچے تک بھول جاتے ہیں۔ امریکہ ایک امیر ملک ہے مگر چور چور ہی ہوتا ہے غالباً یہ مشہور جاگیردار ٹوانہ کا واقعہ ہے کہ وہ شاپنگ کرتے وقت کاؤنٹر پر سے ایک آدھ چیز چُرا کر جیب میں ڈال لیا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ شاید دکاندار نے نہیں دیکھا بعد میں ان کا سیکرٹری ان چوری شدہ اشیاء کی قیمت چکا دیا کرتا تھا مگر ہمارے جاگیردار سیاست دان پوری قوم کی دولت چُرا کر لے گئے خدا جانے یہ کب پکڑے جائیں گے۔
٭…٭…٭…٭
وزیراعظم نے بچے کی رکشہ میں پیدائش کے حوالے سے بیان پر معذرت کر لی۔
زرداری صاحب سیانے نکلے انہوں نے موقع پر ہی معذرت کر لی البتہ وزیراعظم صاحب نے فرمایا تھا کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں بچے نے جب پیدا ہونا ہوتا ہے تو کہیں بھی پیدا ہو سکتا ہے اور انہوں نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کیلئے فرمایا کہ میری سالی کار میں پیدا ہوئی۔ وزیراعظم صاحب کو ضروری یہ پتہ ہو گا کہ کار اور رکشے میں اُتنا فرق ہے جتنا عوام اور حکمرانوں میں۔ دوسری بات یہ ہے کہ گیلانی صاحب کی سالی آدھی گھر والی اس وقت پیدا ہوئیں جبکہ کار رواں دواں تھی اور اسے کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن جو بچہ رکشے میں پیدا ہوا اس کو دراصل ہسپتال میں پیدا ہونا تھا مگر حکمرانوں کے پروٹوکول اور V.I.P کلچر کے باعث رکشہ پھنس گیا اور زچہ نے بچہ کو بغیر کسی میڈیکل ایڈ کے جنم دیدیا‘ اُسکی حالت نازک بھی ہو سکتی تھی وہ مر بھی سکتی تھی‘ بچے کی پیدائش میں پیچیدگی بھی پیدا ہو سکتی تھی جس کیلئے فوری ہسپتال پہنچنا ضروری تھا۔ وی آئی پیز کو سوچنا چاہیے کہ اگر وہ اسی طرح سڑکیں روک روک کر اپنے لئے رستہ بناتے رہے تو انکے ووٹر رکشوں میں پیدا ہوں گے اور انہیں ووٹ نہیں دینگے۔ ایک حکمران گزرتا ہے تو اسکے آگے پیچھے تیز رفتار سرکاری گاڑیوں کی اتنی لمبی قطار ہوتی ہے کہ معلوم تک نہیں ہوتا کہ موصوف کس گاڑی میںہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے دوررس نتائج حاصل کرنے کیلئے غیر مقبول فیصلے کر رہے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری دوررس فیصلے ضرور کریں مگر ان میں رس ہونا چاہیے بلکہ جب فیصلہ کرنے لگیں تو اپنے مشیروں کے سر پر کھڑے ہو کر نتائج کا رس نکلوائیں تاکہ اسکی مٹھاس دور تک جائے اور انہیں غیر مقبول فیصلے نہ کرنے پڑیں۔ انہوں نے تو اپنی دانست میں غیر مقبول فیصلے کا لفظ اچھی نیت سے استعمال کیاہے مگر فیصلے وہی اچھے ہوتے ہیں جو مقبول ہوں۔ قوم انہیں خوش دلی سے قبول کرے۔ انہوں نے بجا فرمایا ہے کہ پاک فوج اور حکومت میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں اور یہ ہَوائی مغرب نے چھوڑی ہے گولی ماریں اس مغرب کو‘ مغرب تو ہمارے لئے غروب ہونے کی جگہ بن گیا ہے۔ اپنے مشرق کی طرف توجہ دیں جہاں سے ہمارا آفتابِ عالمِ تاب طلوع ہوتا ہے۔ ان کا ایک فرمان یہ بھی ہے دنیا کی تاریخ لکھی جائیگی تو بین الاقوامی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہمارے مشکل فیصلوں کو ٹرننگ پوائنٹ سمجھا جائیگا۔
ہم معذرت کیساتھ عرض کرینگے کہ دنیا کی تاریخ میں سرے سے یہ چیپٹر ہی نہیں ہو گا اس لئے کہ دنیا پاکستان کو پھلتا پھولتا‘ کامیاب ہوتا نہیں دیکھ سکتی ماسوا چند دوستوں کے۔ جیسا کہ انہوں نے کہا ہے کہ بہتر پالیسیاں بہتر سیاست کی بنیاد بنیںگی تو کیوں نہیں ڈرون حملے بند کراتے جو ہماری خود مختاری پر اور معصوم شہریوں پر ضرب کاری ہے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر اعلیٰ پنجاب کہتے ہیں امن چاہتے ہیں۔ پنجاب سے شرپسند عناصر کا قلع قمع کر دیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف انتہائی شریف آدمی ہیں اور امن کے خواہاں ہیں مگر پنجاب سے شرپسند عناصر کا قلع قمع کرنے کیلئے امن بیکار ثابت ہو گا۔ یہ بات بھی کچھ دل کو نہیں لگتی کہ پنجاب میں کون سے شرپسند عناصر ہیں جو صوبے کے دشمن ہیں یا انکے۔ بہرحال شرپسندی ناپسندی ہے اسے ختم ہونا ہی چاہیے۔ بہاولپور میں وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی آف سائنسز کا سنگ بنیاد رکھا اور ٹیچنگ ہسپتال کا اعلان کرتے کرتے دو افسر بھی فارغ کر دیے۔ انکے اقوال و افعال میں منفی مثبت کی بہترین آمیزش پائی جاتی ہے بہرحال ہم بطورِ شکایت ان سے یہ عرض کرینگے کہ انہوں نے لاہور کی فوڈ سٹریٹ کو کیوں ختم کر دیا جو ایسی جگہ تھی جہاں امیر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ جا کر مناسب قیمت میں انواع و اقسام کے کھانے کھا لیتے تھے پھر یہ کہ اس گلی کو اس طرح سے سجایا گیا تھا کہ رات کے وقت یوں لگتا تھا کہ یہی لاہور ہے‘ اس سٹریٹ کے بند ہونے سے دکانداروں‘ تاجروں کا تو نقصان ہوا ہی اور اسکے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں وہ کارکن بھی بے روزگار ہو گئے جن کا اس فوڈ سٹریٹ پر گزارہ تھا۔ مزہ تو تب ہے کہ شہباز شریف گورنر پنجاب سے زیادہ باذوق ہونے کاثبوت دیتے ہوئے فوڈ سٹریٹ کو پہلے سے بھی بڑھ کر نہ صرف کھول دیں بلکہ سجا دیں۔