سکون کی پوچھتے ہو‘ وہ نہ کھونے میں نہ پانے میں

03 مارچ 2010
سردار محمد اسلم سکھیرا ...........
100 ایٹم بنانے کا سامان بھی حال ہی میں بھارتیوں نے اٹامک پارٹنر شپ کے بعد خرید لیا ہے۔ فوج بھی کئی گنا پاکستان سے زیادہ ہے۔ دفاعی نہر بی آر بی کا پانی بھارت مکمل خشک کر سکتا ہے۔ بلوچستان میں سرحدپار سے تخریب کاری کر رہا ہے کہ کراچی میں لاتعداد اسکے ایجنٹ مانو بھاؤ کھلنے سے کراچی میں داخل کر دئیے گئے ہیں۔ ہلمنڈ آپریشن سے قندھار اور پھر پاکستان کے علاقہ کشمور سے بلوچستان‘ سرحد‘ پنجاب‘ سندھ کو الگ الگ کرنے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ افغانستان میں 34 چوکیاں بنا کر را کے ٹرینڈ شدہ لوگ سرحد میں تخریب کاری کیلئے بھجوا رہا ہے۔ اسرائیل اسکی معاونت کر رہا ہے۔ امریکہ اس کی پشت پر ہے۔ بلوچستان میں سونا‘ کوئلہ‘ کاپر کے ذخائر پر اسکی نظر ہے۔ افغانستان میں اور دہشت گردی کی جنگ میں جانی‘ مالی نقصان ہم اٹھا رہے ہیں اور فائدہ امریکہ بھارت کو دینا چاہتا ہے۔ بھارت کو Power Super بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بھارت کے کمانڈر انچیف چین اور پاکستان کو 96 گھنٹے میں فتح کرنے کے بیانات دے رہے ہیں۔ بھارتی ایئر چیف محدود ایٹمی جنگ کا عندیہ دے رہے ہیں۔ 100 ایٹم بم مزید بنانے کیلئے یورینیم بھی بھارت کو دیدی گئی ہے۔
بھارت کے ایٹمی انجینئر زقتل بھی ہو رہے ہیں فائلیں بھی انکی گم ہو رہی ہیں لیکن بھارت کو امریکہ مورد الزام نہیں ٹھہراتا پاکستان کا ایٹمی اسلحہ چھیننے کیلئے بلیک واٹر تنظیم کے لوگ پاکستان میں بھی داخل کر دئیے گئے ہیں جس کا انکشاف خود ایک امریکی جرنلسٹ نے کیاتھا۔ بھارت سے مذاکرات پرسینیٹر جان کیری بھی زور دے رہے ہیں کہ اگر مذاکرات بھارت سے ہوں تو وہ پانی کا مسئلہ بھارت کے ساتھ اٹھائیں گے۔ ان حالات میں جوڈیشل ایکٹوازم کے ناخداؤں اور سیاستدانوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ ملک جن خطرات میں گھرا ہوا ہے‘ کیا وقت کا تقاضا نہیں کہ سب سیاسی اختلافات کو دور کرکے قوم میں بھی یکجہتی پیدا کریں اور دشمنوں کو بھی بتائیں کہ ہم سب پاکستانی ایک ہیں۔
بھارت کو جو غلط فہمی ہے کہ ہم سب منتشر ہیں‘ اس غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ ہر پارٹی طبل جنگ بجانے کی بجائے ملکی سالمیت کیلئے ایک ہو جائے۔ جس ملک کو تباہ کرنا ہوتا ہے اس میں سب سے پہلے اس کی انتظامیہ کو مفلوج کیا جاتا ہے۔ مشرف نے جو Devolution کی ملکی انتظامی مشینری کو تباہ کرنے کی سازش تھی۔
اب بھی بھارتی ایجنٹ کارفرما ہیں اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2001ء کو ختم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں اہل کراچی کو بھی التجا کرونگا کہ خدا کیلئے 1979ء کا لوکل باڈی ایکٹ رائج کریں اور 1860ء کا پولیس ایکٹ دوبارہ رائج کریں تاکہ ملک میں لا اینڈ آرڈر ٹھیک ہو۔ آزاد انتظامیہ ہو جو بغیر کسی خوف و خطر ملک کا انتظامی ڈھانچہ درست کر سکے۔ یہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا کام نہیں کہ وہ ملک کے لاء اینڈ آرڈر پر چھوٹے چھوٹے کیسوں میں وقت ضائع کریں۔ انہیں مکمل اور غیر مکمل خطرات سے نبرد آزما ہونے کیلئے سکون چاہئے۔
ضلعی انتظام کرنا ضلعی انتظامیہ کا کام ہے۔ گوادر پورٹ کا بننا بہت سے ممالک کو کھٹکتا ہے۔ گوادر پورٹ کی کامیابی کیلئے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ملکی وسائل پر ہر پاکستانی کا حق ہے۔ ذاتی اغراض سے بالاتر ہو کر ملکی استحکام کیلئے کام کرنا ہر پاکستانی کا فرض اولین ہے۔ اگر ہم آپس میں پانی کے جھگڑوں میں پڑنے کی بجائے یہ دیکھیں کہ پانی بھارت نے روکا ہے بھارت سے پانی حاصل کریں۔ حکومت کو بھی سکون دیں کہ وہ بھارت سے پانی کے مسائل یکسوئی سے حل کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ہم بھارت سے بین الاقوامی قانون کے تحت پانی حاصل کر سکیں گے تو سب صوبوں کو پانی ضرورت کیمطابق ملے گا۔
امریکہ کی عجیب منطق ہے پاکستان تو ہر طالبان سے لڑے لیکن امریکن طالبان سے صلح کر لیں۔ دہشت گردی کی جنگ کیوں شروع ہوئی۔ افغانیوں پر امریکہ نے حملہ کیا اور افغانستان کے لوگ آزادی چاہتے ہیں اور وہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے نکالنے کی کوشش کر ہے ہیں۔ پاکستان کیساتھ تو طالبان کے تعلقات بہتر تھے مخالفت تو اس وجہ سے ہوئی کہ پاکستان نے امریکی جنگ میں قدم رکھا۔ یہ پاکستان کی جنگ نہیں امریکیوں کی جنگ ہے۔ جانی‘ مالی نقصان سب سے زیادہ پاکستان کا ہوا اور فائدہ بھارت کو دینا چاہتے ہیں اگر امریکہ طالبان کیساتھ اچھے تعلقات کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو ہمیں بھی طالبان کیساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کرنی چاہئے البتہ جو بھارتی ایجنٹ تخریب کاری کر رہے ہیں انکو تو پکڑنا یا مارنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ اس وقت سب سیاستدانوں کو آپس میں لڑنے کی بجائے یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہمارا دشمن کون ہے۔ دشمن پہچاننے کے بعد سب کو ملکر اسکا مقابلہ کرنا چاہئے۔ وقتی طور پر ذاتی اختلافات کو بھول کر ملکی استحکام کیلئے کام کرنا چاہئے۔ ملکی اداروں میں بھی ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ سیاستدان‘ عسکری قیادت اور جوڈیشری کے رہنماؤں میں ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے‘ خدا کیلئے ملک بچانے کیلئے ایک ہو جاؤ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی پالیسی ترک کر دو جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ آخر میں بارگاہ ایزدی میں استدعا ہے کہ ملکی رہنماؤں میں یکجہتی پیدا ہو اور ملک بچانے کے علاوہ وہ سب خواہشات کو ختم کر دیں۔ ہاں تو بحث شیخ علاؤ الدین کے پوائنٹ آف آرڈر پر شروع ہوئی تھی اسی پر اختتام ہونا چاہئے۔ علاؤ الدین صاحب حاجی لق لق کے پیروکاروں میں قدم رکھتے ہیں جنہوں نے فرمایا تھا۔
آئے تھے دنیا میں فقط دو کام کرنے کیلئے
اک خدا سے اور دوسرے بیوی سے ڈرنے کیلئے
لیکن ثمینہ خاور حیات کے خاوند غالباً اس نظریہ کے قائل ہیں …؎
تو مجھے چھوڑ کے ٹھکرا کے بھی جا سکتی ہے
تیرے ہاتھوں میں میرے ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
عام پاکستانی جن کے ملکی حالات سے اعصاب جواب دے رہے ہیں انکا کہنا ہو گا…؎
اے میری ہم رقص مجھ کو تھام لے
زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ عورت مظلوم ہے یا مرد معتوب۔