کشمیر کانفرنس کا انعقاد

03 مارچ 2010
شریف فاروق (پشاور) .........
1963ء کا سال میرے نقطہ نظر سے غیرمعمولی اہمیت کا سال تھا۔ اس میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جنہیں غیرمعمولی قرار دیا جاسکتا ہے ایک تو کرسٹین کیلر کا سکینڈل تھا جس کے باعث میکملن حکومت کا تختہ الٹا گیا اور انکی جگہ لارڈ ہوم وزیراعظم بن گئے۔ اس واقعہ کی تفصیل میں جنے کی اب ضرورت نہیں کیونکہ اسکا میرے موجودہ موضوع سے کوئی تعلق نہیں تاہم برطانوی تاریخ میں اسے 1963ء SCANDAL قرار دیا جاتا ہے۔ دوسرے دو غیرمعمولی واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جن تک عالمی تنازعات کو حل نہ کر دیا جائے وہ کبھی مرتے نہیں ہیں وہ زندہ رہتے ہیں بشرطیکہ قومیں جن سے ان واقعات کا تعلق ہو خود اپنے آپکو ’’سپرد خاک‘‘ نہ کر دیں۔ 1963ء کا ناقابل تصور اور ناقابل فراموش واقعہ یہ تھا کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان جزائر کیلے کا دو اڑھائی سو سال سے تنازعہ چلا آرہا تھا اس سال کے دوران اس لاینحل مسئلہ کا حل ہوا اس تنازعہ کے حل ہونے تک ان دونوں یورپی ملکوں کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں جس کے نتیجہ میں ہزاروں لاکھوں فوجی اور شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس طویل مدت کے دوران میں دو عظیم جنگیں بھی رونما ہوئیں دوسری جنگ عظیم میں تو جب جرمنی نے یورپی ممالک کو فتح کرنا شروع کیا تو برطانیہ نے فرانس کی پرجوش حمایت کی یہاں تک کہ فرانس کی عبوری حکومت جنرل ڈیگال کی زیرسرکردگی لندن میں اپنا کام کرتی رہی لیکن جزائر کیلے کا تنازعہ پھر بھی معلق رہا یہاں تک کہ 1963ء میں طویل مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں نے بڑے خون خرابے کے بعد یہ مسئلہ طے کر لیا۔
حالیہ تاریخ کے ان واقعات کو بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ مسئلہ کشمیر گذشتہ 62-63 سال سے معلق چلا آرہا ہے۔ بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا لاکھوں کشمیری شہید، زخمی اور غائب ہو چکے ہوئے ہیں ان بے پناہ مظالم کی وجہ سے ایسے مراحل بھی آئے جب یہ تاثر ہونے لگا کہ ’’کشمیری تھک گئے ہیں‘‘ بھارت کے لاکھوں فوجی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ماند کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیری ایک بہادر قوم ہیں ان کی پشت پر پاکستان کی قوت موجود تھی اور ہے اس لئے کشمیریوں کی جدوجہد اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا۔ البتہ ایک اور بات جس کی ضرورت تھی اور ضرورت رہے گی وہ ہے اس مسئلہ کو زندہ رکھنا خواہ خون کے دریا ہی کیوں نہ بہتے رہیں۔
اس معاملے میں ’’نوائے وقت گروپ آف پبلی کیشنز‘‘ اور اس کے سربراہ مرشد صحافت جناب مجید نظامی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے 3 فروری کو ہائوس آف لارڈز لندن میں حقیقت شناس اور آہنی اعصاب کے مالک لارڈ نذیر احمد اور کشمیری رہنمائوں کی اعانت سے کشمیر کانفرنس کا کامیاب انعقاد کرا دیا جس میں برطانوی ہائوس آف لارڈز کے ارکان اور پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔ یہ بہت بڑا واقعہ ہے جس کا کریڈٹ بلاشبہ ’’نوائے وقت‘‘ گروپ کو جاتا ہے۔
اسی سلسلے میں ایک اور واقعہ کا یہاں بیان کرنا بھی ضروری ہے تاکہ برطانیہ میں متعین ہمارے فعال ہائی کمشنر محترم واجد شمس الحسن بھی استفادہ کر سکیں۔ اس لئے کہ برطانیہ جیسے ملک میں جس کی وجہ سے یہ مسئلہ ہمارے (برصغیر پاکستان بھارت) گلے میں اٹکا ہوا ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر کا کردار بڑی اہمیت رکھتا ہے اب اسی حوالے سے جو واقعہ میں بیان کرنا چاہتا تھا وہ بھی سن لیجئے۔
پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ 1962ء میں آغا ہلالی مرحوم جیسے فعال، انتہائی ذہین، دیانتدار اور سفارتی ذمہ داریوں سے کماحقہ آگاہ ڈپلومیٹ نے جب اپنے منصب کا چارج سنبھالا تو انہوں نے آتے ہی مسئلہ کشمیر جو برطانوی مفادات کی ترجیحات اور بھارتی لابی کی لامتناہی سرگرمیوں کے باعث سردخانے (COLD STORAGE) کی نذر ہو رہا تھا آغا صاحب مرحوم کے بروقت اقدامات کی وجہ سے زندہ ہوگیا اور جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو رہی تھی تو برطانوی وزیراعظم ہیرلڈ میکملن کی طرف سے اپنے مندوب کو ہدایات بھجوائی گئیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کی حمایت میں پاکستان کا ساتھ دے۔ ایسا کیوں ہوا؟ وجہ یہ تھی کہ آغا ہلالی مرحوم نے آتے ہی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر ہیرلڈ میکملن سمیت دوسرے پارلیمنٹرینز سے رابطہ قائم کیا اور ان سے مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا فعال کردار انجام دینے کی استدعا کی جب آغا صاحب نے اس سلسلے میں وزیراعظم میکملن سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ برطانوی مندوب اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں اپنا کردار انجام دے تو وزیراعظم ہیرلڈ میکملن نے پاکستانی ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ان کا کام آسان کر دیا او آغا صاحب مرحوم سے کہا کہ ’’آپ سے پہلے پاکستانی ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ان کا کام آسان کر دیا اور آغا صاحب مرحوم سے کہا کہ ’’آپ سے پہلے پاکستانی ہائی کمشنر صرف برسراقتدار ٹوری پارٹی کے سربراہ اور ارکان سے تعاون کیلئے کہا کرتے تھے پاکستانی ہائی کمشنر اپوزیشن سے رابطہ ہی قائم نہیں کرتے تھے لیکن اب پہلی بار پاکستانی ہائی کمشنر نے اپوزیشن سے رابطہ قائم کر کے ہمارا کام آسان کر دیا‘‘ چنانچہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران میں برطانوی مندوب کو ہدایات مل گئیں کہ مسئلہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت کرنی ہے‘‘۔
موجودہ پاکستانی ہائی کمشنر کا تعلق چونکہ تحریک پاکستان کے نامور دانشور اور آل انڈیا مسلم لیگ آفس کے انچارج سیکرٹری مرحوم مولانا شمس الحسن سے تھا اور انہوں نے تحریک پاکستان کے حوالے سے کئی کتب بھی لکھی ہیں اس لئے واجد صاحب سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اس تاریخی اور منفرد کانفرنس جس میں انہوں نے خود بھی خیالات کا اظہار کیا کہ شمع کو روشن رکھیں گے۔
مسئلہ کشمیر ہمیشہ زندہ رہے گا بشرطیکہ ہم نے اسے زندہ رکھنے میں اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز نہ کر دیا۔ اگر جزیرہ کیلے کا مسئلہ اڑھائی سو سال بعد طے ہو سکتا ہے اور امریکہ کی روس کو بامقصد اور سنجیدہ (SERIOUS) دھمکی اسے ایٹمی میزائل کو کیوبا سے اکھاڑنے کے کام آسکتی ہے تو پاکستان بھی بھارت کو ’’وارن‘‘ کر سکتا ہے اس کیلئے صرف عزم اور حوصلے کی ضرورت ہی ہوگی۔بہرحال یہ کریڈٹ ’’نوائے وقت گروپ آف پبلی کیشنز‘‘ اور اسکے سربراہ مرشد صحافت جناب مجید نظامی اور انکے رفقاء سمیت لارڈ نذیر احمد کو جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار ایسی کسی کانفرنس کا انعقاد ممکن بنایا۔