دلِ ناتواں کا مقابلہ

03 مارچ 2010
محمد طارق چودھری ۔۔۔
پاکستان کی قومی سیاست میں ضمنی انتخابات کو خاص اہمیت حاصل نہیں‘ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انتخاب بالعموم وہی پارٹی جیت جاتی ہے جس کی صوبے میں حکومت ہو‘ بطور خاص اگر وہ سیٹ اسی پارٹی نے خالی کی ہو تو انتخابی مقابلے تقریباً یکطرفہ ہوتے ہیں‘ سیاسی مبصرین کے لئے راولپنڈی الیکشن کے نتائج غیر متوقع نہیں تھے۔ شیخ رشید اگرچہ الیکشن میں شکست کھا گئے لیکن انہوں نے پہلے کے مقابلے میں تین گنا ووٹ حاصل کئے جو حکومت کے خلاف ضمنی انتخاب میں قابل ذکر کامیابی ہے۔ مسلم لیگ بھاری اکثریت سے جیت گئی اس طرح مانسہرہ الیکشن میں ہونے والے نقصان کی کافی حد تک تلافی ممکن ہو سکی۔
الیکٹرانک میڈیا نے واضح طور پر شیخ رشید کا ساتھ دیا بطور خاص قاتلانہ حملے کے بعد ساری ہمدردیاں شیخ صاحب کیساتھ تھیں جس کا انہوں نے خوب فائدہ اٹھایا وہ ایک ماہر ابلاغ کار کی طرح نمودار ہوئے۔ ہر موضوع‘ گفتگو‘ انٹرویو میں قلم دوات کے انتخابی نشان کو قافیہ بنائے رکھا۔ اتنی طویل اور یکطرفہ تشہیر (جو مفت بھی ہو) کوئی ٹی وی چینل برداشت نہیں کر سکتا مگر برداشت کی گئی یہ تشہیر آئندہ معرکوں کے رجحان کی بھی نشاندھی کرتی ہے۔
شیخ رشید فرد واحد ہیں انکے مقابلے میں ملک کی مقبول ترین جماعت صف آرا تھی حکومت کی مکمل طاقت اور اثر و رسوخ کیساتھ ایک ایک یونین کونسل کو الیکشن لڑنے کے ماہر ممبران اسمبلی کے درمیان تقسیم کر دیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے بڑے منظم انداز میں بھرپور مہم چلائی۔ انہوں نے میڈیا کی بجائے ووٹر کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ جبکہ شیخ رشید نے میڈیا کو انتخابی مہم کا موثر ذریعہ جانا اسی پر ان کی زیادہ توجہ مرکوز رہی۔ اسی وجہ سے یہ الیکشن قومی سطح پر زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔ جو لوگ یہ خیال رکھتے تھے کہ شیخ رشید الیکشن جیت سکتے ہیں وہ غلطی پر تھے کیونکہ پنجاب کے سیاسی ماحول میں پچھلے دو برس سے کوئی ایسی جوہری تبدیلی نہیں آئی۔ جو نوازشریف کی مقبولیت پر ان کو برتری دلا سکے۔ دوسری طرف نوازشریف اور اسکی پارٹی مانسہرہ میں شکست کے بعد اپنے مضبوط گڑھ راولپنڈی میں الیکشن ہار جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اس الیکشن میں شکست ان کیلئے بہت منفی اثر ڈال سکتی تھی یہی وجہ تھی پچھلے ضمنی انتخاب کے برعکس ایک ایک ووٹر کو پولنگ بوتھ تک پہنچانا یقینی بنایا گیا‘ جس کے نتیجے میں مخالف ووٹر بھی متحرک ہو گیا۔ اس طرح ہمیشہ کے مقابلے میں ووٹوں کا تناسب بڑھ گیا اور انتخابی معرکہ بھی کئی فریقوں کی بجائے فریقین میں سمٹ آیا دوسری جماعتوں کے امیدوار غیر متعلق نظر آنے لگے۔ شیخ صاحب‘ الیکشن ہار کے بعد بھی ناکام نہیں رہے۔ انہوں نے خود کو سیاست میں زندہ اور متحرک بنا لیا اس انتخاب کی صف بندی نے مستقبل کیلئے نئے سیاسی اتحاد کے امکانات پیدا کر دئیے ہر ایک کو اپنی طاقت جانچنے اور اپنی سٹریٹجی پرکھنے کا موقع میسر آیا۔ اس انتخاب میں پیپلزپارٹی بالکل پس منظر میں چلی گئی اگرچہ وہ پنڈی میں الیکشن جیتنے کیلئے کافی بڑی پارٹی نہیں رہی پھر بھی ایک قابل ذکر تعداد میں اسکے ووٹ موجود ہیں لیکن پارٹی اپنے ووٹر کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہی۔
اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کا ووٹ شیخ صاحب کے کام آیا مگر یہ بات جزوی طور پر ہی درست ہو سکتی ہے اس لئے کہ پیپلزپارٹی ایک غیر منظم ہجوم بن کر رہ گئی ہے انکے پاس کوئی ایسا میکنزم نہیں ہے جس کا استعمال کر کے پارٹی قیادت کا خفیہ پیغام کارکن تک پہنچایا جائے۔ یہ پارٹی مسلم لیگ کیساتھ معاہدے اور اپنی خواہش کے تضاد کا شکار ہو گئی جب کسی پارٹی کا امیدوار میدان میں نہ ہو یا الیکشن بائیکاٹ کر دے تو اس پارٹی کا ووٹر پر حق اور اختیار محدود ہو جاتا ہے اسکی بہترین مثال جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے بعد ووٹنگ پیٹرن سے لگایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس جماعت کا ووٹر سب سے زیادہ منظم‘ متحرک اور تربیت یافتہ ہے۔
رہ گئی مسلم لیگ (ق) اور مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علماء اسلام تو ان کا پنجاب میں نیگٹو ووٹ تو ہو سکتا ہے پارٹی ووٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔
مسلم لیگ (ق) بہترین انتخابی امیدواروں کا کلب ہے وہ اپنے حلقوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں لیکن پارٹی ووٹ کہیں بھی نہیں ہے۔ لہذا شیخ رشید کیلئے انکی حمایت ہونا نہ ہونا برابر تھا اس سارے پس منظر میں دیکھا جائے تو شیخ رشید نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا یہ پھولا غبارہ ہے۔ نہ اداسی نے بال کھولے ۔
نوازشریف اپنی ذات کیساتھ غیر مشروط وفاداری کا تقاضہ کرتے ہوئے اپنی دلداری کو بھول جاتے ہیں۔ شیخ رشید نے کیا غلط کیا جو دوسروں سے سرزد نہیں ہوا۔ وہ بجا کہتے ہیں کہ سب بڑے لیڈر فوج کے گملے میں اگی نرسریاں ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا نوازشریف سب اسی کوئے ملامت کا طواف کرتے رہے۔ شیخ رشید ان چند لوگوں میں ہیں۔ جنہوں نے اوائل عمری سے سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ پورے غور و فکر کے ساتھ سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور اسے اپنا کیئریر بنایا ورنہ اکثریت کسی حادثے یا پیدا شدہ امکان سے سیاست میں آئی۔
جاوید ہاشمی اور شیخ رشید اس میدان میں سب سے جدا ہیں اس لئے کہ دونوں کسی سیاسی خانوادے سے تعلق نہیں رکھتے ان کی ناموری ذاتی کوشش اور جدوجہد کا ثمر ہے وہ ایسے سیاستدان ہیں جنہوں نے تمام وسائل خود پیدا کئے انکے فراہم کرنے والا کوئی دوسرا نہ تھا۔ یہ ضرور کہ ان کا طریقہ کار الگ الگ رہا ایک نے اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لیا تو دوسرا ان کی ضرورت بن گیا۔
نوازشریف پارٹی چھوڑنے والوں پر بے وفائی کا الزام دھرتے رہے مگر جیل سے اپنی گلو خلاصی کے وقت کے وقت انہیں اپنے خاندان کے علاوہ دوست اور وفادار کیوں نہ یاد آئے۔ مشترکہ الزامات میں دوسرے ساتھی جیلوں میں سڑتے رہے خود ڈکٹیٹر سے معاہدہ کر کے زندگی عیش میں بسر کی حالانکہ اسی معاہدے میں دوسرے اسیروں کو بھی رہائی دلائی جا سکتی تھی مشاہد حسین‘ چودھری نثار‘ خاقان عباسی کچھ کم نامور نہ تھے۔ وہ تو خاقان عباسی‘ نثار علی خان‘ جاوید ہاشمی کی وفاداری سے زیادہ وضعداری تھی جو نبھا گئے ورنہ بے وفائی کا الزام دوسری طرف اشارہ کرتا ہے۔ رہ گئے چودھری برادران تو وہ نوازشریف کی کامیابیوں میں برابر شریک رہے۔ جب بھی اقتدار کی منزل قریب آئی تو کبھی ذاتی خدمت گار نظر پڑے اور کبھی نظر اپنے بھائی پر جا ٹھہری خاندان اور رشتہ داروں سے بچ رہنے والا اقتدار کا کوئی ٹکڑا ہی دوستوں کی جھولی میں خیرات کرتے۔ اقتدار اپنے گھر ڈال رکھنے کیلئے نہ وعدں کا پاس نہ خدمات کا اعتراف نکل بھاگتے وقت دوستوں کو اعتماد میں لیا نہ بھروسہ کے قابل جانا تو پھر وہ کس طرح ’’گم شدہ کی زوجیت‘‘ میں بسر کرتے۔ انہوں نے بھی وہی راہ منتخب کی جو کامیابی کی دلیل ٹھہری تھی بھٹو اور نوازشریف اسی پکڈنڈی سے اقتدار کی منزل پا گئے البتہ جاوید ہاشمی وفاداری بشرط استواری تب بھگت رہا تھا اور آج بھی۔
شیخ رشید کو مشرف نے انتخاب کیا ہوتا تو وہ پھر کسی کی پکڑ میں نہ آتا۔ لیکن اس نے سیاسی قیادت کیلئے گونگوں کا انتخاب کیا دنیا میں سیاست و قیادت میں بعض نابینا نامور ہوئے لیکن مشرف نے سیاسی ابلاغ کیلئے گونگوں کی جوڑی سے کام نکالنے کی کوشش کر ڈالی مشرف کی بے وفائی اور حد سے بڑھی خود غرضی اسکے وفادار سیاست دانوں کی راہ میں رکاوٹ بن گئی وہ خود اپنے ہی تکبر اور بزدلی کا شکار ہو گیا۔
ملک کی طاقت ور اور بڑی جماعت جس کے پاس پنجاب کی حکومت‘ حکومت کی ساری طاقت اور وسائل میسر تھے۔ اسکے مقابلے میں شیخ کا مختلف پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنا مشکل کام تھا جو اس نے کر دکھایا ورنہ مولانا فضل الرحمٰن کیلئے وہ کس کام کے انکے ہزار کام تو حکومت پنجاب سے نکلتے ہیں۔ نوازشریف کی کامیابی اس لئے بھی یقینی تھی کہ پچھلے دو برس میں ابھی تک انکی مقبولیت کسی بھی سروے میں پچاس فیصد سے کم نہیں رہی۔ پیپلزپارٹی پر حملے بھی نوازشریف کا آزمودہ ہتھیار ہے۔ جسے وہ چابکدستی سے بروقت استعمال کرتے ہیں۔ اب کے بار زرداری کو جمہوریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیکر انکے مخالفین کا لہو گرما گئے۔ پھر بھی شیخ رشید کا پندرہ ہزار ووٹ سے پنتالیس ہزار پر پہنچ جانا قابل ذکر واقع ہے۔ اس کو اگر مگر یا پیپلزپارٹی کا ووٹ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس الیکشن کی خاص بات دوطرفہ مقابلہ تھا‘ قاتلانہ حملے میں شیخ کے ساتھیوں کی ہلاکت پر ہمدردی کی لہر اٹھی جس کے ساتھ مل کر میڈیا کی یلغار نے باقی سب تہس نہس کر ڈالا جس کا بھاری نقصان انصاف اور جماعت اسلامی کو اٹھا پڑا جن کے امیدوار اس مقابلے میں غیر متعلق ہو کر رہ گئے۔ میڈیا کی پوری توجہ ان دونوں پر مرکوز تھی‘ انہی کا تقابل ہوتا رہا جو اس مقابلے کے دوطرفہ بنا گیا۔
اس انتخاب نے ہر ایک کو اپنے تجزئیے اور اندازے ازسرنو قائم کرنے کا موقع فراہم کیا ساتھ ہی سیاسی قائدین کیلئے نئے سیاسی اتحاد کے احکامات پیدا کر دئیے۔
شیخ رشید بڑی مضبوط اور سخت ہڈی ہے۔ سیاست اس کے خون میں رواں وہ زندگی بھر کیلئے سیاست کا ہے سیاست اسکی…؎
فتح و شکست تو نصیبوں سے ہے امیر ولے
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا