A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

پاکستان سے نیوکلیئر ڈیل نہ کرنیکی امریکی حکمت ِعملی

03 مارچ 2010
امریکہ نے پاکستان کو اس امر سے آگاہ کر دیا ہے کہ اسکے ساتھ نہ تو سول نیوکلیئر ڈیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی اسلام آباد واشنگٹن سے کوئی ایٹمی پاور پلانٹ حاصل کر سکے گا۔ اس سلسلہ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھارتی صحافیوں کو واشنگٹن میں ایک بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ پاکستان کے توانائی کے مسائل پر قابو پانے کے معاملہ میں اسکے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاہم اس حوالے سے ہمارے مابین ہونے والی بات چیت میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کا معاملہ زیر بحث نہیں۔ ایک رپورٹ کیمطابق اوبامہ انتظامیہ نے پاکستان کو آگاہ بھی کر دیا ہے کہ اسکے ساتھ کوئی نیوکلیئر ڈیل نہیں ہو گی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ نے ہمیں سول ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ دو سال قبل جب امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایٹمی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی فراہمی کا معاہدہ کیا۔ اس وقت بھی امریکہ کی جانب سے ہمیں واضح طور پر باور کرایا گیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بھارت جیسا معاہدہ نہیں ہو گا۔ حالانکہ اس وقت ہمارے جرنیلی آمر مشرف نے امریکی فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے ’’ڈو مور‘‘ کے امریکی تقاضوں کی فدویانہ تعمیل کرتے ہوئے اپنی سکیورٹی فورسز کو اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کے مدمقابل لاکھڑا کیا تھا جس سے دونوں جانب سے کلمہ گو بھائیوں کا خون ناحق بہانے کا سلسلہ شروع ہوا اور اسکے ردعمل میں خودکش حملوں میں بھی شدت پیدا ہوئی اور ہمارے مکار دشمن بھارت کو بھی ہماری اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا جس نے افغانستان کے راستے اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد ہمارے ملک میں بھیج کر یہاں دہشت گردی کا بازار گرم کیا۔
امریکہ کی جانب سے اس وقت بھی ہمیں یہی باور کرایا گیا کہ خطے کی سٹریٹجک اہمیت میں وہ بھارت کو فوقیت دیتا ہے‘ جو بقول اسکے‘ امریکہ کا فطری اتحادی ہے۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت بھارت کے ساتھ ایٹمی تعاون کا معاہدہ کرنے کے بعد امریکہ نے اسے جدید ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس کر دیا اور اپنے بالشتیے اسرائیل کو بھی بھارتی برخورداری میں دیدیا جو بھارت کی مدد سے پہلے ہی ہماری ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ کرنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔ اب اگر امریکہ کی جانب سے ہم پر واضح کیا جارہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی نیوکلیئر ڈیل نہیں ہو سکتی تو یہ ہمیں بھارت کے مقابلہ میں دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کی امریکہ‘ بھارت‘ اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کی حکمت عملی کا ہی حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت پاکستان کو کمزور اوربے بس کرکے بھارت کیلئے تر نوالہ بنانا ہے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری اور پھر اسلامی دنیا کے ایک ایک ملک کو افغانستان‘ عراق کے سے انجام سے دوچار کرکے مسلم امہ کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے ہنود و یہود و نصاریٰ کے عزائم اور مقاصد پورے کئے جائیں۔
اس تناظر میں جرنیلی آمریت کی امریکہ نواز پالیسیوں کو برقرار رکھنے اور اسکی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارتی ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے بھی پورے کرنے والے ہمارے موجودہ منتخب جمہوری حکمرانوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ اگر امریکہ ہمارے اس دشمن کی ہی سرپرستی کر رہا ہے جس نے شروع دن سے ہماری آزاد اور خودمختار حیثیت کو تسلیم نہیں کیا اور ہماری سالمیت کیخلاف اپنے جارحانہ عزائم کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا‘ تو پھر اس کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر خود کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے اور اپنی تباہی و بربادی کا سلسلہ جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ بھارت تو ہمارا کھلا دشمن ہے اور اسکی دشمنی پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی‘ جبکہ اپنے مفادات کی خاطر ہمیں اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنانے والا امریکہ بھی درحقیقت ہمارا دشمن ہی ہے جو دفاعی معاملہ میں ہمارے ہاتھ باندھ رہا ہے اور ہمارے دشمن بھارت کو اس خطہ میں دفاعی برتری دلا کر اسکے ہاتھوں ہماری سالمیت کیلئے مستقل خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ اس کا جنگی جنون اور جدید ایٹمی ہتھیاروں کا حصول اس خطہ میں کسی اور کیلئے نہیں‘ ہماری سالمیت کیخلاف اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کے سلسلہ کی ہی کڑی ہے اور امریکہ کی ودیعت کردہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر ہی بھارت ہمارے ساتھ ساتھ چین کو بھی للکارے مار رہا ہے کہ اپنی دفاعی طاقت کے بل بوتے پر وہ چین اور پاکستان دونوں کو بیک وقت 96 گھنٹے کے اندر مفلوج کر سکتا ہے۔
ہماری سالمیت کیخلاف جب بھارتی عزائم بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ امریکہ بھارت کی سرپرستی کرکے‘ اسکے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کرکے اور اسکے آنگن میں جدید ایٹمی اسلحہ کے ڈھیر لگا کر اسکے ہاتھوں ہماری سالمیت ہی کو پارہ پارہ کروانا چاہتا ہے تو ہمارے حکمرانوں کو آخر ایسی کیا مجبوری لاحق ہے کہ وہ اس دوست نما دشمن کے بدستور فرنٹ لائن اتحادی بنے ہوئے ہیں‘ دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں اسکے مفادات کی جنگ کا حصہ بن کر وطن عزیز کو دہشت گردی کی آگ میں جھلسا رہے ہیں‘ قومی معیشت برباد کر رہے ہیں‘ اپنے بے گناہ اور معصوم شہریوں بشمول بچوں اور خواتین کو ڈرون حملوں اور اسکے ردعمل میں خودکش حملوں کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں‘ کیا اب امریکہ کو Enough is Enough کہنے کا وقت نہیں آگیا اور شیطانی اتحاد ثلاثہ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کے پیدا کردہ حالات اس امر کے متقاضی نہیں کہ اپنی سالمیت کے تحفظ کیلئے اپنے گھوڑے تیار کئے جائیں‘ خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے فی الفور نکال کر ہماری سالمیت پر حملہ آور ہونے والے امریکی ڈرون جہازوں کو مار گرایا جائے اور امریکہ بھارت دونوں پر یہ واضح کر دیا جائے کہ ہمارا ایٹم بم کوئی کھلونا نہیں ہے‘ بلکہ یہ ہم نے اپنے دفاع کیلئے حاصل کیا ہے۔ اگر انہوں نے ہماری جانب میلی آنکھ سے دیکھا اور ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہم اپنی ایٹمی طاقت استعمال کرکے ان کا سارا نشہ ہرن کر دینگے۔ ہمیں بہرصورت اپنے دفاع کیلئے ہر اقدام کرنے کا حق حاصل ہے‘ اگر ایٹم بم اس خطہ کے انسانوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے تو اس کے حالات امریکہ بھارت خود ہی پیدا کر رہے ہیں‘ وہ ہمیں مجبور کرینگے تو ہمارا ہاتھ ہمارے ایٹمی بٹن پر ہی جائیگا۔ اس لئے علاقائی اور عالمی امن کی تمام تر ذمہ داری بھارت اور اسکا فطری اتحادی ہونے کے دعویدار امریکہ پر عائد ہوتی ہے‘ اپنے توسیع پسندانہ جنگی جنونی عزائم کو فروغ دیکر وہ ’’امن کی آشا‘‘ پوری نہیں کر سکتے۔
عوام کیلئے … کوئی فیصلہ نہیں
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر شپ کے دس سالہ اثرات کو زائل کرنے کیلئے جرأت مندانہ اقدامات اور غیر مقبول فیصلے کئے ہیں۔ لندن کے اخبار’’ دی گارڈین‘‘ میں لکھے گئے مضمون میں صدر نے جمہوریت کو چلانے کیلئے پارلیمنٹ کے ساتھ ملکر ملک چلانے کی بات کی ہے۔
عوام صدر صاحب سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ عوام کو بھی بتائیں کہ آپ نے کیا فیصلے کئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر جو بھی فیصلے کئے ہیں ان پر کوئی عمل درآمد بھی نہیں ہو رہا اور اب تو میاں نواز شریف بھی برسرعام کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں گڈگورننس کا فقدان ہے۔ عوام میں بے روز گاری مہنگائی‘ مفلسی اور غربت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جس کیلئے حکومت ہر تین ماہ کے بعد بجلی کی قیمت بڑھا رہی ہے۔ گیس کی قیمت ایک سال میں دو سو گنا بڑھا دی گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ناقابل اعتبار ہیں۔ پاکستان کی سرزمین سے برآمد ہونیوالی گیس عوام کو بین الاقوامی قیمت سے بھی مہنگے داموں فراہم کی جا رہی ہے۔
عوام نے گذشتہ دو برسوں میں اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان بہت سے معاملات پر اتفاق رائے ہی پایا ہے مگر عوام سے تعلق رکھنے والے کسی بھی معاملہ پر کوئی عوام دوست رویہ سامنے نہیں آیا‘ نہ تو میاں نواز شریف اور پنجاب میں انکی حکومت نے عوام کو بہتری اور بہبود کیلئے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے اور نہ ہی انکی پارٹی کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی مطالبہ کیا گیا ہے دونوں پارٹیاں باہمی مفاہمت کی سیاست کر رہی ہیں۔ امریکہ سے قرضے اور امداد لی جا رہی ہے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لئے جا رہے ہیں اور اب پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا حجم تقریباً اسی ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ مگر دونوں پارٹیوں کی طرف سے حکومت کے کسی اقدام پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ ان غیر مقبول فیصلوں میں عوام کی بہبود کیلئے کونسا فیصلہ ہے؟ پاکستان میں حکمران طبقہ جس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت بھی شامل ہے۔ اب تک عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا جا سکا تو کیا حکومت کی پانچ سال کی آئینی میعاد پوری ہونے کے بعد عوام کیلئے حکومتی اقدامات کے دور رس نتائج سامنے آئینگے؟ حکمران طبقہ کو اپنی پالیسیوں میں اولین ترجیح عوام کے مسائل حل کرنے کو دینی چاہئے جو سلطانی ٔ جمہور کیلئے عوامی مینڈیٹ کا لازمی تقاضہ ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سالگرہ
گزشتہ روز امریکہ میںبے گناہ قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی 38ویں سالگرہ ملک بھر میں نہایت سادگی سے منائی گئی جس کا مقصد انکے ساتھ قوم کی طرف سے اظہار یکجہتی اور بقول ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کے دنیا پر یہ ثابت کرنا ہے کہ انکے حوصلے بلند ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ یورپ اور بہت سے مسلم ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن مظاہروں کا امریکی انتظامیہ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور شاید ایسا ممکن بھی نہ ہو کہ امریکہ عالم اسلام کے مظاہروں سے متاثر ہو کر پاکستان کی غیور بیٹی کو رہا کر دے‘ البتہ حکومت پاکستان اگر کوشش کرے تو ایسا نہ صرف ممکن ہے بلکہ یقینی بھی ہے۔ مشرف حکومت نے صرف ڈالروں کی خاطر پاکستانیوں کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کیا ڈاکٹر عافیہ بھی ان میں سے ایک ہیں لیکن یہ موجودہ حکومت کا جرم ہے کہ اس نے امریکہ کے حوالے کئے گئے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر کی ہوتی تو امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف جنگ کا مکمل انحصار پاکستان پر ہے وہ پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مطالبے کو رد نہیں کر سکتا۔
بگرام ائربیس پر ڈاکٹر عافیہ کی قید کی نشاندہی کرنیوالی صحافی ایوان ریڈلی نے گزشتہ روز لاہور میں عمران خان کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے پاکستانی حکومت‘ وزیروں اور سفیروں نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اسی پریس کانفرنس میں عمران خان نے رائے دی کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے ایک وفد امریکہ بھیجا جائے جس میں اپوزیشن کے ارکان اسمبلی بھی شامل ہوں اس سلسلے میں میاں نواز شریف بھی اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت کوشش کرے تو شاید عمران خان کے مجوزہ وفد بھجوانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ قوم دعا اور حکومت کوشش کرے کہ اگلی سالگرہ عافیہ اپنے ملک میں قوم اور اپنے خاندان کیساتھ منائے۔
نیت نیک ہو تو سستی بجلی پیدا ہو سکتی ہے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں لگائے گئے رینٹل پاور پلانٹس انکی نااہلی تھی پاور پلانٹس کو رقم کی ادائیگی کی گئی لیکن ان سے بجلی حاصل نہیں کی گئی۔ رواں سال اگست میں 2050 میگا واٹ کے رینٹل پاور پلانٹس لگائے جائینگے گزشتہ سال 60 ملین ڈالر رینٹل پاور پلانٹس کا کرایہ ادا کیا گیا لیکن ان سے بجلی حاصل نہ کی جا سکی۔ وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی سستی کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے حکومت 55 ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے۔ وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کو شاید یہ معلوم نہیں کہ آئی پی پیز اور رینٹل پاور سٹیشن پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں ہی لگائے گئے تھے اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہی اسکی منصوبہ بندی کی تھی حالانکہ کم قیمت بجلی حاصل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ کالا باغ ڈیم جس کی فزیبلٹی اور ابتدائی تیاری مکمل تھی شروع کر دیا جاتا مگر پی پی پی نے سیاسی تعصب کو فروغ دینے کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو پس پشت ڈال دیا اور موجودہ دور حکومت میں کالا باغ ڈیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اب بھاشا ڈیم پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ باخبر حلقوں کی طرف سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت کمشن اور کک بیکس کے لالچ میں پرانے تھرمل پراجیکٹس کو بند کرکے نئے پراجیکٹس لگا رہی ہے حالانکہ معمولی اخراجات کے بعد پرانے تھرمل پراجیکٹس کو چلایا جا سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹس کو تسلیم کرتے ہوئے نئے رینٹل پاور پراجیکٹس نہ لگائے جائیں اور پاکستانی انجینئرز کی ڈیوٹی لگائی جائے کہ وہ ملک میں موجود تھرمل پاور سٹیشنوں کو مرمت کے بعد چلائیں۔ آئی پی پی پیز کے بقایا جات ادا کریں اور ان سے بجلی حاصل کی جائے۔ سستی بجلی صرف ڈیمز سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم سمیت تمام ڈیمز کی تعمیر شروع کی جائے۔ سستی بجلی حاصل کرنے کیلئے نیت کا نیک ہونا ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اور اس کے وزیر اپنی نیتوں کو درست کریں‘ راستے بہت ہیں۔