نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا بڑھتا رحجان خطرے کی گھنٹی ہے: ڈاکٹر منہاج 

  اسلام آباد(  نمائندہ خصوصی ) وفاقی حکومت دارلحکومت میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے رحجان سے روکنے کیلئے پہلا ماڈل متعارف کرا رہی ہے، اگر دوکانوں سے سگریٹ ریکس ہٹا دیئے جائیں تو انسداد تمباکو نوشی میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت رواں بجٹ میں تمباکو کی مصنوعات پر 30 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر وسیم آئی جنجوعہ نے تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام بچوں کو تمباکو سے بچانے کے موضوع پر ایک خصوصی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ محمد آفتاب خان نے کہا کہ وفاقی حکومت دارلحکومت میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے رحجان سے روکنے کیلئے پہلا ماڈل متعارف کرا رہی ہے اور انے والے بجٹ میں تمباکو کی مصنوعات پر 30 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) کے عبدالرحمٰن نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا اور جرمانے کے بغیر نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی روک تھام میں کوئی خاطر خواہ نتائج ممکن نہیں ۔