ہفتہ ، 13 ذیقعد، 1444ھ، 3جون 2023ء

رویت ہلال کی جھوٹی اطلاع پر 3 سال قید 50 ہزار جرمانہ ہو گا 
یہ بڑی اچھی خبر ہے۔ اس طرح کم از کم سال میں دو مرتبہ چاند دیکھنے کے مسئلے پر جو تنازعہ پیدا ہوتا ہے وہ ختم ہو گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کی عادت بن گئی ہے کہ وہ ہر مسئلے پر حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ذاتی حد تک تو چلیں یہ برداشت ہو سکتا ہے مگر قومی سطح پر ایسے کاموں کو برداشت کرنا افراتفری کا باعث بنتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ملک میں ایک عدد سرکاری رویت ہلال کمیٹی مرکزی سطح پر ہے 4 کمیٹیاں صوبائی سطح پر کام کر رہی ہیں۔ مگر دیکھ لیں اس کے باوجود مختلف شہروں میں صوبوں میں نجی  رویت ہلال کمیٹیاں لچ تلنے کے لیے موجود ہیں۔ سرکاری کمیٹی سے پہلے ہی یہ متحرک ہو جاتی ہیں۔ سب سے زیادہ شہرت پشاور کی مولانا پوپلزئی کی زیر قیادت کام کرنے والی  غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کو حاصل ہوئی ہے۔ خدا جانے مولانا پوپلزئی کو ہر سال اپنی مرضی کا چاند چڑھانے کا شوق کیوں ہے۔ اوپر سے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی رویت ہلال کو ہی مستند مانا جائے۔ یعنی ان کی مرضی سے ہی رمضان المبارک کا آغاز ہو اور ان کی مرضی سے ہی عید منائی جائے۔ اسی طرح خیبر پی کے اور بلوچستان کے افغانستان سے متصل علاقوں میں بھی افغان مہاجرین اپنے ملک کے ساتھ عید مناتے اور روزے رکھتے ہیں۔ گلہ کس سے کریں پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں کے ساتھ اب تو پاکستان کے کئی شہروں میں بھی افغان مہاجر اپنے ملک کے مطابق رمضان شروع کرتے ہیں اور عید مناتے ہیں۔ اس طرح کئی مقامات پر دو عیدیں ہوتی ہیں۔ یہ بہرحال غلط روش ہے۔ اب یہ اچھا فیصلہ ہوا ہے۔ اس طرح کم ازکم نجی رویت ہلال کمیٹیوں کا کاروبار بند ہو گا۔ اگر مولانا پوپلزئی شور کریں تو انہیں  مرکزی رویت کمیٹی  کا سربراہ بنایا جائے یا رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ کیلئے بھیجا جائے۔ اس طرح معاملہ ٹھنڈا رہے گا۔ 
٭٭٭٭
اردن کے ولی عہد حسین بن عبداللہ کی دھوم دھام سے شادی
عرب ممالک میں اردن کے شاہی خاندان کے ساتھ عوام کے رابطے اور تعلقات کا ایک حسین امتزاج اس شادی کے موقع نظر آیا جب شہزادہ حسین کی شادی پر عوام نے پورے ملک میں جشن منایا گیا۔ شادی کی یہ خوبصورت تقریب عرب ثقافت کی بھرپور آئینہ دار تھی۔ شہزادے کی بیگم سعودی عرب سے تعلق رکھتی ہیں۔ بلاشبہ اسلامی معاشرتی اقدار اور عرب روایت کے مطابق یہ ایک افسانوی شادی کی تقریب بن گئی۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے اس شادی کی تقریبات کو دیکھا اور پسند کیا۔ شادی کی اس تقریب میں شہزادہ حسین عوام میں گھل مل گئے۔ لوگوں نے اپنے ولی عہد کے ساتھ جشن مسرت منایا۔ فوجی دستوں نے شاہی خاندان کو سلامی دی۔ عوام نے سڑکوں پر گیت گا کر رقص کر کے اپنے حکمرانوں سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ یہ ایک شہزادے کی شادی کی افسانوی تقریب مدتوں اردن کے لوگوں کو یاد رہے گی۔ اردن کے بادشاہ عبداللہ باقی دیگر حکمرانوں کی نسبت  قدرے سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ عرب کلچر کا اعجاز ہے کہ وہاں کے لوگ بادشاہ ہوں یا عوام سب ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ کروفر کے باوجود بادشاہ کو عوامی جذبات اور احساسات کا ان کی تعمیر و ترقی و خوشحالی کا بھی بھرپور احساس ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں کے عوام بھی اپنے حکمرانوں سے محبت کرتے ہیں۔ اردن کے شاہی خاندان کو ایک یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ قدرے ماڈرن لائف سٹائل رکھتا ہے۔ اردن میں جدت اور روایت کا حسین امتزاج اس شادی کی تقریب میں بھی پورے عروج پر نظر آیا۔ سب لوگ شاہی جوڑے کو مبارکباد دیتے نظر آئے…
٭٭٭٭
جونیئر ہاکی ایشیا کپ فائنل میں پاکستان کی مسلسل تیسری شکست 
خدا جانے ہمارے کھلاڑیوں کو بھارتی ٹیم کے سامنے کیا خوف لاحق ہوتا ہے۔ وہ کیوں نفسیاتی دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لگتا ہے شاید بھارت والے پاکستان سے مقابلے کے وقت کالا جادو کرا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے کھلاڑیوں کی سٹی گم ہو جاتی ہے جو ٹیم بڑے اطمینان سے اچھا کھیل کھیل کر فائنل تک رسائی کرتی ہے۔ وہ فائنل میں یوں لگتا ہے کھیلنا بھول گئی ہے۔ بے شک جو ٹیم اچھا کھیلتی ہے وہی جیتی ہے بھارت نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا وہ جیت گیا۔ مگر یہ ایک دوبارہ نہیں مسلسل تیسری بار ایسا ہوا ہے۔ اب بھارت چوتھی بار جونیئر ہاکی ایشیا کپ فائنل جیت کر چیمپئن بنا ہے۔  پاکستان  نے تین بار یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ گرچہ ہماری ٹیم کی کارکردگی  بری نہیں رہی مگر ہر بار فائنل میں پہنچ کر یوں ہارنا پاکستانی ہاکی کے شائقین کو ہضم نہیں ہو رہا۔ بہتر ہے کہ اب ہمارے کھلاڑیوں کو بھارت کے ساتھ کسی بھی کھیل کے مقابلے سے قبل اچھے نفسیاتی معالج سے بھی رہنمائی لینی چاہیے جو ان کے دل و دماغ سے بھارت کا خیالی خوف باہر نکال دے۔ ورنہ یوں شیروں جیسے دل والے اتنے بودے  کیسے ہو سکتے ہیں۔ اب جو ہوا سو ہوا خوشی اس بات کی ہے کہ 
شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن 
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا 
٭٭٭٭
چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشدد کیخلاف پنجاب بھر میں اوپی ڈیز بند 
بے شک ڈاکٹر پر مریض کے لواحقین کا تشدد ایک غلط کام ہے جرم ہے مگر کیا کریں جن کا کوئی پیارا مرتا ہے وہ شدِت غم سے ویسے ہی نیم پاگل ہو جاتے ہیں۔ اب گزشتہ دنوں چلڈرن ہسپتال میں ایک بچی کی موت پر اس کے لواحقین نے جو ہنگامہ کھڑا کیا وہ نہایت افسوسناک ہے۔ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ڈاکٹر اپنی طرف سے زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر زندگی دے نہیں سکتے۔ ہاں موت سے بچانے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔ لواحقین کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہئے۔ اب ہمارے ہاں جذباتیت کا دور دورہ ہے مگر اس کے باوجود ڈاکٹر پر تشدد وہ بھی وحشیانہ تشدد اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اب اس بچی کے لواحقین کے غلط طرزِ عمل کی سزا پورے پنجاب کو مل رہی ہے۔ اگر ان کی  بچی ڈاکٹر کی غفلت سے مری تو اب  ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے پنجاب میں جو لوگ مریں گے کیا اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد نہیں ہوتی۔ سندھ حکومت نے اس سلسلے میں جو ہسپتالوں اور طبی عملے و ڈاکٹروں کے تحفظ کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کئے ہیں اسی طرح کے قوانین باقی صوبوں میں بھی نافذ ہوں تو کم از کم ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ اگر ہسپتالوں میں مریض کے ساتھ صرف ایک رشتہ دار کو آنے کی رہنے کی اجازت ہو تو یہ جو رشتہ داروں کا لشکر مریضوں کے ساتھ آتا ہے اس سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ ہسپتالوں اور ریلوے سٹیشنوں پر اسی لیے رش لگا رہتا ہے کہ  ایک مسافر یا مریض کے ساتھ پوری پلٹن  آئی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ عرض یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر تو مسیحا ہوتے ہیں وہ اگر خندہ روی کے ساتھ بیماروں سے بات کریں تو یقین کریں مریض کی آدھی بیماری ان کی شفقت کے باعث ہی ختم ہو جاتی ہے۔اس لیئے دونوں طرف رویہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے…
٭٭٭٭

ای پیپر دی نیشن