”خسرہ ایک جان لیوا مرض“

03 جون 2013

حمیرا واحد ۔۔۔۔
سرہ ایک وائرس کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہے اور ان ممالک میں جہاں غربت اور معاشی بحران ہے‘ وہاں یہ بیماری بچوں میں موت کا اہم سبب ہے۔ خاص طور پر ان بچوں میں زیادہ خطرناک دیکھنے میں آئی ہے‘ جن میں وٹامن اے کی کمی پائی جاتی ہے۔خسرہ اب بھی ایک متعدی وبائی شکل میں پھیلتا رہتا ہے یہ مرض 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو ہوتا ہے۔ اس میں اچانک جاڑے سے بخار آتا ہے پورے جسم میں درد‘ بے چینی‘ سردرد‘ ناک بہنا‘ چونکنا ڈرنا‘ آنکھوں سے پانی بہنا‘ چھینکیں آنا‘ بخار کا مسلسل اور تیز رہنا اس کی خاص علامات ہیں۔ اس میں 3‘ 4 دن بخار رہ کر پورے جسم میں باریک باریک دانے گچھوں کی شکل میں نکل آتے ہیں اگر ان علامات کے ساتھ دانے بڑے ہوں اور متفرق ہوں تو اس کو چیچک کہتے ہیں۔ خسرہ کے دانوں میں سخت جلن اور کھجلی ہوتی ہے خسرہ میں بچہ عام طور سے نزلہ کھانسی‘ نمونیہ‘ دست و پیچش میں جلد مبتلا ہو جاتا ہے۔ علاج و احتیاط :جب بچہ 9 ماہ کا ہو جائے تو اس کو خسرے کا ٹیکہ لگوا دینا چاہیے ٹیکہ لگ جانے سے اس مرض سے بچاﺅ کی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ بخار کھانسی کیلئے سپٹران‘ سائی نسٹیٹ پالپسی موکس سیرپ بچے کو پلائیں۔ نمونیہ کھانسی اور پسلیاں چلتی ہوں تو پیتی سیلین ڈائی کرسٹاسین کا انجکشن لگائیں۔ دانوں میں کھجلی ہو تو انٹی الرجک دوائیں دیں دست و پیچش ہو تو اس کا مناسب علاج کریں۔ آنکھیں سرخ ہوں ان سے پانی بہتا ہو تو جنٹامائی سین‘ کلورومائی سین ڈارپس ڈالیں۔ دوسرے بچوں کو مریض سے علیحدہ رکھیں۔ غذا ہلکی چائے دلیہ دیں۔