دیار غیر میں فلاحی کاموں میں دلچسپی

03 جون 2013

بلقیس ریاض ۔۔۔
امریکہ کے قیام کے دوران ایک موسیقی کے پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ شو چیرٹی اکٹھا کرنے کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ امریکہ کے ہر شہر میں پاکستانیوں کی اپنی کمیونٹی ہے جہاں مل بیٹھ کر پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں۔ ایک تنظیم جہاں میں گئی وہاں 100 ڈالر ٹکٹ لے کر مہمانوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ یہ موسیقی کا پروگرام تھا جو ہوٹل کے بڑے سے ہال میں منعقد تھا۔ پاکستانی مرد و خواتین جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ہال کے درمیان میزیں لگی ہوئی تھیں۔ سامنے بڑی سی سکرین پر اسلام آباد کے (دل سکول) جو نواحی علاقوں میں آباد تھے، یہ تنظیم اس سکول کے لئے چندہ اکٹھا کر رہی تھی۔ وہاں بچوں کی تعلیم پر چندے کا روپیہ خرچ کیا جاتا تھا۔ سکرین پر سکول کی کارکردگی اور بچوں کو اچھے لباس اور کتابیں تقسیم کرتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا۔ میں سکرین کی جانب محو تھی۔ میرے قریب ایک پاکستانی بہن جو وہاں مقیم تھی متوجہ ہوئی۔آپ پاکستان سے آئی ہیں؟ اسلام آباد کے آس پاس یہ سکول واقع ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان سکولوں کی حالت بہت بہتر ہو گئی۔ سنا ہے کہ تعلیم کا معیار بھی بہت اچھا ہے۔ میں نے جواب دیا۔ سکولوں کے بارے میں سنا تو تھا مگر جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ اب پاکستان جب جا¶ں گی تو وہاں ایک چکر ضرور لگا کر آ¶نگی۔ ضرور جائیے گا۔ دراصل پاکستانیوں کی غربت دیکھ دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ ہم پاکستان سے تو آ گئے ہیں یقین مانیں پاکستان اور پاکستانیوں کی محبت ہمارے دلوں میں ہے۔ کاش وہاں پر ہر کسی کو اچھی خوراک اور اچھی رہائش میسر آ سکے۔ یہ تنظیم تو ”دل سکول“ کے لئے چندا اکٹھا کر رہی ہے کچھ اور تنظیمیں ہیں جو سیلاب زدگان کے لئے چندا اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے حالات پہلے سے ہی اتنے ناگفتہ تھے اب سیلاب کی وجہ سے لوگ گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں ان کا دکھ بھی ہمارے دلوں میں پوشیدہ ہے۔ انسانوں کے دینے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ بس اللہ ہی ان بے چاروں کی مدد کرے او جن لوگوں کے پاس روپیہ بھیجا جاتا ہے خدا ان کے دلوں میں رحم ڈالے اور وہ ایمانداری کے ساتھ وہ روپے سیلاب زدگان تک پہنچا دیں۔میں اس خاتون کی باتوں پر غور و فکر کر رہی تھی۔ کنسٹرٹ جاری تھا۔ بہت ساری لڑکیاں ہال میں مہمانوں کو بٹھا رہی تھیں۔ عمبرین جان، سعدیہ، شازیہ، صاعقہ، سحر، عظمیٰ، اچھی پوشاکوں میں گھوم پھر رہی تھیں اور مہمانوں کی تواضح کر رہی تھی۔ فلاحی کاموں میں بھرپور حصہ لے رہی تھیں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہو رہی تھی۔ دیارِ غیر میں رہ کر یہ لڑکیاں اپنے وطن کے لئے کام کر رہی ہیں۔ غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ پروگرام کے اختتام میں بہت ساری تقریریں ہوئیں۔ پاکستان سے بلائے ہوئے مہمان خصوصی جسٹس ریاض اور سلیمہ لودھی نے خطاب کیا اور اس طرح اس پروگرام کا اختتام ہوا۔