نجانے.........ظفر علی راجا

03 جنوری 2016

خبر نہیں ہے کسی کو‘ ہے کون سی منزل

پتہ کسی کو نہیں ہے یہاں مقام اپنا
نجانے سمت‘ سفر کی ہے کون سی اپنی
نجانے کون سی پٹڑی پہ ہے نظام اپنا