نبی مکرمؐ کے حسن عمل سے عرب معاشرہ پوری دنیا کے لئے مثال بن گیا، ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں مقررین کا تقریب سے خطاب

03 جنوری 2016

لاہور (خصوصی رپورٹر) نبی کریمؐ کے حسنِ عمل سے جاہل عرب معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن گیا ۔نبی کریمؐ سے عشق کو مزید مضبوط کریں اس کے بغیر ہماری کوئی وقعت نہیں ہے۔ آپؐ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرکے ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں تقریبات جشن میلاد النبیؐ کے سلسلے میں منعقدہ ’’محفل ذکر حبیبؐ‘‘ کے دوران کیا۔ اس محفل کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔اس موقع پروفاقی شرعی عدالت کے ریٹائرڈ چیف جسٹس میاں محبوب احمد، خانوادۂ حضرت سلطان باہوؒ صاحبزادہ سلطان احمد علی، سجادہ نشین درگاہ عالیہ دربارحضرت میاں میرؒ پیر سید ہارون علی گیلانی، ڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت سعید آسی، معروف کالم نگار و شاعر اثر چوہان، مولانا محمد شفیع جوش، علامہ نصیر احمد قادری،میاں ارشد اقبال، میاں ابراہیم طاہر، انجینئر محمد طفیل ملک، سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید، معروف ثنا خوان مصطفیؐ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔محفل کے آغاز پر حافظ محمد قمر الحق نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی۔ محفل کی نظامت کے فرائض عثمان احمد نے انجام دیے۔ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ نبی کریمؐ کے ذکروالی محفل میں شرکت بڑی عزت و افتخار کا باعث ہے۔ دین کی تکمیل اس وقت ہے جب ہم ذکر حبیبؐ اور عشق مصطفی ؐمیں ڈوب جائیں۔ نبی کریمؐ کی حدیث کا مفہوم ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیںہو سکتا جب تک میں اسے اپنے والدین، اولاد، عزیزواقارب، مال وجان سے زیادہ عزیز نہ ہو جائوں۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ نبی کریمؐ نے سماجی و معاشرتی پہلو سے معاشرے کی اس بہترین انداز میں اصلاح فرمائی کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن باہم بھائی بھائی بن گئے۔ہم اپنے اچھے رویے سے اپنے آپ کو بہترین انسان اور مسلمان ثابت کریں۔ حضور اکرمؐ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا گیا۔نبی کریمؐ نے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ سجادہ نشین حضرت میاں میرصاحبؒ پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہا کہ قرآن پاک میں نبی کریمؐ کو مختلف القابات سے پکارا گیا ہے۔ آپؐ رحمت للعالمین ہیں ۔ آپؐ نے پتھر کھا کر بھی لوگوں کیلئے ہدایت کی دعا فرمائی۔ اتباع رسولؐ میں ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ نبی کریمؐ نے محبت، اخلاق، کردار، اُنس، شفقت، ہمدردی کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ روزنامہ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی نے کہا کہ نبی کریمؐ رحمت للعالمین ہیں ۔آپؐ نے امت کوپیار و محبت اور اتحاد کا درس دیا۔ بدقسمتی سے آج امت مسلمہ میں انتشار و افتراق پیدا ہوگیا ہے ،امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے دعائوں کی اشد ضرورت ہے۔ حرمین شریفین کی حاضری قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ مجید نظامی مرحوم کے لگائے ہوئے اس پودے(نظریۂ پاکستان ٹرسٹ) کی آبیاری محمد رفیق تارڑ کی قیادت میں شاہد رشید اور ان کے ساتھی بہترین انداز میں کررہے ہیں۔ ممتاز کالم نگار اثر چوہان نے شاہد رشید کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کیلئے حضور اکرمؐ کا ذکر مبارک بلند کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت طیبہؐ پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ علامہ نصیر احمد قادری نے کہا کہ نبی کریمؐ کی بعثت سے قبل عرب معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ،چھوٹی چھوٹی باتوں پر طویل لڑائیاں چلتی تھیں ، لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا ۔ آپؐ نے جہالت والی تمام رسومات کا خاتمہ کر دیا اور اہل عرب کو نور ایمانی سے منور فرمایا۔ شاہد رشید نے کہا عمرہ کی سعادت کے دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص ہمت و توفیق عطا فرمائی کہ میں عمرہ کے ارکان بخیروخوبی ادا کرسکوں۔ میں نے بارہ ربیع الاول کا دن روضہ رسولؐ پر گذارا۔ میں نے وہاںملکِ پاکستان کے استحکام اور تعمیر وترقی کیلئے خاص دعا جبکہ تمام دوستوں کیلئے دعائے خیر کی۔ محفل میں معروف نعت خواں حضرات حافظ مرغوب احمد ہمدانی، الحاج اختر حسین قریشی، جمشید اعظم چشتی، غلام مرتضیٰ عاجز، غضنفر علی شاہد خلجی، محمد موسیٰ کاظم، سید محمد کلیم ، شاہد اکبر نظامی، محمد یوسف ازہری، محمد خادم حسین فریدی، حافظ محمد وارث سلطانی، اعجاز محبوب رضوی نے رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ آخر میں نبی کریمؐ کے حضور درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا جبکہ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے دعا کروائی۔