کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں مارا جانے والا نوجوان ملائیشیا میں زیر تعلیم تھا، ورثا کا مظاہرہ

03 جنوری 2016
کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں مارا جانے والا نوجوان ملائیشیا میں زیر تعلیم تھا، ورثا کا مظاہرہ

کراچی (نمائندہ نوائے وقت+ نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) کراچی کے علاقے گذری میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونیوالا نوجوان زکریا طالب علم نکلا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زکریا لوٹ مار کرکے بھاگ رہا تھا جبکہ لواحقین اس الزام کو مسترد کرکے تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے اور نعش کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ تفصیلات کے مطابق لیاری کے نوجوان زکریا کو گذری میں پولیس نے مبینہ مقابلے میں مار ڈالا، مارے جانے والے نوجوان زکریا جنجوعہ کے گھر والوں نے بتایا کہ انکا بیٹا ملائیشیا میں انجینئرنگ کا طالب علم تھا اور ایک ہفتے قبل ملائیشیا سے کراچی شادی کرانے چھٹی پر آیا تھا۔ گذشتہ روز وہ رقم نکلوانے کیلئے گھر سے اے ٹی ایم کارڈ لیکر گیا جہاں پولیس نے اسے جعلی مقابلے میں ہلاک کردیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعلی پولیس مقابلے کا مقدمہ درج کرکے پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔ دوسری جانب ایس ایس پی سائوتھ ڈاکٹر جمیل اور ایس ایچ او گذری تھانہ ریاض حسین کا موقف ہے کہ زکریا اور اسکا ساتھی سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور گذشتہ روز لوٹ مار کر رہے تھے اور اس دوران پولیس کا ان سے مقابلہ ہوا جس میں زکریا مارا گیا جبکہ اسکا ساتھی آزاد زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں کی تحویل سے اسلحہ اور موبائل فون برآمد ہوئے۔ واقعہ کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق لیاری کا رہائش زکریا اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے کیلئے گزری کیوں جائیگا، لیاری میں کئی بنکوں کی اے ٹی ایم موجود ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کوہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔دوسری جانب واقعے میں ہلاک ہونے والے زکریا جنجوعہ کی نماز جنازہ کھارادر امام بارگاہ میں ادا کی گئی جس کے بعد ورثا نے لاش کے ہمراہ آٹھ چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ادھرگذری پولیس نے مشکوک پولیس مقابلے کی تحقیقات کا آغاز کرنے سے قبل ہی مبینہ مقابلے میں ہلاک زکریا کے خلاف تین مقدمات درج کر دیئے۔ ایس ایچ او گذری کے مطابق دو مقدمات سرکاری مدعیت میں درج کئے گئے جوکہ پولیس مقابلے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں درج ہوئے جبکہ لوٹ مارکا ایک مقدمہ احسن نامی شہری کی مدعیت میں درج ہوا۔ احسن نے بھی متضاد بیانات دیئے، اس نے کہا کہ اسے لوٹا گیا مال مل گیا ہے تاہم وہ زکریا کو سامنے لائے جانے پر پہچان نہیں سکتا۔ علاوہ ازیں زخمی حالت میں گرفتار ملزم آزاد نے بتایا کہ وہ لیاری کا رہائشی ہے اور واردات کے وقت زکریا کاشف اور ثاقب بھی ساتھ تھے۔ دوسری طرف ڈیفنس فیز ٹو ایکسٹینشن کے علاقے میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جس کی شناخت نہ ہو سکی۔ رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں سے 9 جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کرلیا۔