جمہوریت کا چینی ماڈل

03 جنوری 2016

کیا چین کا طرز حکومت جمہوری ہے؟ کیا چین میں انتخابات ہوتے ہیں؟ چین میں بسنے والے غیر ملکیوں سے اکثران کے ہم وطن اس طرح کے سوالات پوچھتے ہیں۔ تاہم ان سوالوں کے جواب ہاں یا ناں کی صورت میں دینا مشکل ہے کیونکہ چین کا سیاسی منظرنامہ خاصا پیچیدہ ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے جس کا سیاسی نظام اس کی ثقافت کی طرح خاصا گنجلک ہے اور پورے ملک میں سیاسی نظام ایک سا نہیں۔ چین کے بارے میں معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی حوالوں سے بہت سے مغالطے ہمیشہ گردش میں رہے ہیں جس کی وجہ شاید چین کا صدیوں تک باقی دنیا سے الگ تھلگ اور کٹ کر رہنا ہے۔ مثال کے طور پرعمومی تصور یہ پایا جاتا ہے کہ چینی اپنی خوراک میں نمک مرچ کا استعمال نہیں کرتے یا بہت کم کرتے ہیں جبکہ چین کے بعض حصوں میں بہت ”کرارے“ کھانے کھائے جاتے ہیں۔ جیسے اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ چینی صرف ابلی ہوئی سبزیوں پر گزر اوقات کرتے ہیں حالانکہ چینی بھنا ہوا گوشت بھی کھاتے ہیں اور اب تو فاسٹ فوڈ کمپنیوں کے رستوران بھی ملک کے طول و عرض میں دیکھے جا سکتے ہیں اور اس طرح کی بہت سی باتیں۔
چین کی آبادی تقریباً ایک ارب پینتیس کروڑ ہے۔ یوں اس دنیا میں بسنے والا ہر چھٹا شخص چینی ہے۔ ملکی اکائیوں میں 23 صوبے، پانچ خودمختار علاقے، چار میونسپلٹیز جن کے معاملات مرکزی حکومت براہ راست دیکھتی ہے،جبکہ دو عدد خصوصی انتظامی علاقے یعنی ہانگ کانگ اور مکاو¿ شامل ہیں۔ چین کی پارلیمنٹ جسے نیشنل پیپلز کانگرس کہا جاتا ہے کے ممبران کی تعداد تقریبا تین ہزار ہے۔ نیشنل پیپلز کانگرس دنیا کے سب سے بڑی پارلیمنٹ ہے جسکی 35 انتخابی اکائیاں ہیں۔ اسکے ارکان نا صرف چین کے ہر علاقے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات پارلیمنٹ کا حصہ ہیں جیسا کہ فلمی دنیا سے مشہور زمانہ اداکار جیکی چن، کھیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اور تعلیم و تدریس سے منسلک لوگ وغیرہ۔ چین کی آرمڈ فورسز کے ارکان بھی کانگرس کا حصہ ہیں یعنی فوج بھی سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ ہمارے ہاں یعنی مملکت خداداد میں اگرچہ فوج سیاسی عمل کا حصہ نہیں پرفوج ہر دریا میں موجود ہے۔ شاعر جس طرح اپنا درد بیان کرتاہے۔ ”دل مرا گھائل نہیں ہے باوجود اسکے کہ ہے “
ہمارے ہاں کی جمہوریت جسے مغربی جمہوریت کا ماڈل کہہ لیجئے کی طرح کوئی شخص آسمان سے ٹپک کر چینی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتا بلکہ اس کو نچلی سطح سے سیاسی نظام کا حصہ بن کر ابھرنا پڑتا ہے۔ یوں اوپر آتے آتے اسکے بال سفید یا گر چکے ہوتے ہیں تاہم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو استثنیٰ ہے۔ چین میں کاونٹی اور ایسے شہر جو ایک ہی ضلع پر مشتمل ہوں۔ ٹاو¿ن اور ضلعی سطح کے انتخابات براہ راست ہوتے ہیں یعنی صرف اس سطح پر عوام الناس اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں، اوپر کی سطح جیسے کہ صوبائی سطح کی پیپلز کانگرس، خود مختارعلاقوں، میونسپلٹیز اور شہری پیپلز کانگرس اور نیشنل پیپلز کانگرس،کو نچلی سطح کی کانگرس کے نمائیندگان منتخب کرتے ہیں۔ اس طرح سے عوامی نمائیندگان کاو¿نٹی کے سطح سے ابھر کر سنٹرل یعنی نیشنل پیپلز کانگرس کا حصہ بنتے ہیں اور گاہے ہی ایسا ہوتا ہے کہ نیشنل پیپلز کانگرس کا کوئی رکن سالہا سال کا تجربہ ساتھ لےکر نہ آتا ہو۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ بنتا ہے کہ وہ نچلی سطح پر اپنی صلاحیتوں میں نکھار لاتے ہوئے اور ایک مسلسل سفر کے بعد ہی اوپر آتا ہے۔ نیشنل پیپلز کانگرس پانچ سال کیلئے منتخب ہوتی ہے۔ کانگرس کا اجلاس ہر سال موسم بہار میں عموما دس سے چودہ دن کیلئے منعقد ہوتا ہے۔ پیپلز کانگرس چونکہ قانون ساز اسمبلی ہے سو اس میں حکومتی قائمہ کمیٹیوں کے تیار کردہ بل پیش کیے جاتے ہیں اور ان کو قانون کی شکل دی جاتی ہے۔ سالانہ بجٹ ، نئے سال کیلئے پالیسیاں، گزرے سال معلاملات پر بحث اجلاس کا حصہ ہوتی ہے۔ کانگرس کے سالانہ اجلاس کےساتھ ساتھ عوامی سیاسی مشاوراتی کانفرنس کا اجلاس بھی منعقد ہوتا ہے۔ اس لیے ان اجلاسوں کو دو اجلاسوں کا نام دیا گیا ہے۔ اس مشاورتی کانفرنس کو چین کا اپر ہاو¿س سمجھ لیجئے۔
عمومی خیال یہ پایا جاتا ہے کہ چین میں صرف ایک سیاسی جماعت یعنی کیمونسٹ پارٹی کی حکومت ہے جو کہ اک طرح سے درست بھی ہے کیونکہ 1949ءمیں عوامی جمہوری چین کے قیام سے لےکر اب تک ملک کی باگ ڈور اسی جماعت کے ہاتھ میں ہی چلی آتی ہے۔ تاہم دیگرآٹھ چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں بھی چینی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں جن میں کومنتانگ پارٹی، چینی جمہوری لیگ، ایسوسی ایشن فار پرموٹنگ ڈیموکریسی، مزدور کسان ڈیموکریٹک پارٹی وغیرہ شامل ہیں۔ البتہ عوامی سطح پر انکی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسی تمام جماعتیں کیمونسٹ پارٹی کی اتحادی ہیں۔ قصہ مختصر کہ ناچار ان جماعتوں کو حکومتی کمیٹیوں کے پیش کردہ بلوں پر مہر لگانا ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی میڈیا چینی پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ ہونے کا طعنہ دیتا رہتا ہے۔
پیپلز نیشنل کانگرس صدر،نائب صدر، وزیراعظم، چیرمین سینٹرل ملٹری کمیشن اور صدر سپریم پیپلز کورٹ کے علاوہ قائمہ کمیٹی کا انتخاب کرتی ہے۔ کانگرس کے پاس اختیار ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی عہدہ سے فارغ کر سکتی ہے۔ چین میں طاقت کا منبہ پیپلز کانگرس ہے پر صاحب ہاتھی کے پاو¿ں میں سب کا پاو¿ں ہوتا ہے۔ سو یوں کہیے کہ اصل طاقت جناب صدر کے پاس ہی ہوتی ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انکے اور ہمارے صدر میں خاصا فرق ہے سو وہاں کے صدر کا تقابل پاکستان کے صدر سے نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں مگر دونوں صدور کے چہروں پر ایک طرح کا اطمینان ضرور ہے۔
بیجنگ میں قیام کے دوران اس راقم نے چینی نوجوان نسل میں عام طورپر سیاسی عدم دلچسپی دیکھی ہے تاہم چینی اپنے صدر اورخاص طور پر خاتون اول کا ذکر بڑے مان سے کرتے ہیں جن کا چرچا اکثر انٹرنیٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ ماہ قبل ایک تقریب کے دوران چینی صدرشی جن پنگ نے نئی نسل کو جلد سونے کی ہدایت کی تھی۔ نہیں معلوم کہ اس کا اثر کتنا ہوا پر سوشل میڈیا پر نوجوان کئی دن یہ بات دہرتے دیکھے گئے۔ چین کی شہری زندگی خاصی مشکل ہے کہ ترقی کی دوڑ میں سب دن رات ایک کیے ہوئے ہیں لیکن چینی اس سے خوش ہیں۔ نئی نسل کے چینیوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ دو لمحے رک کر ملکی سیاست پر غور کر سکیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ملکی سیاست اور حکومت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں البتہ سوشل میڈیا پر کڑی پابندیاں جدید چینی زندگی کا ناگوار حصہ ہیں۔