”مودی کی اچانک آمد کے بعد ....

03 جنوری 2016

بھارتی وزیراعظم جس انداز سے اچانک لاہور آئے اسکے بعد سے ملک میں قیاس آرائیوں کا ایک نہ ختم ہونیوالا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طبقہ دور کی کوڑی لاتے ہوئے مستقبل میں بھارت کے حوالے سے سب اچھا ہے کی نوید سنا رہا ہے۔ پاکستانی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ بھارت میں سول سوسائٹی کے دباﺅ، فنکاروں، ادیبوں اور دانشوروں کی طرف سے سرکاری ایوارڈ واپس کرنے جیسے اقدامات نے نریندر مودی کے ہوش ٹھکانے لگا دیئے ہیں۔ صرف بھارت ہی نہیں بھارت میں جاری ہندو انتہا پسندی پر پوری دنیا میں جاری احتجاج نے نریندر مودی کو پاکستان سے کشیدگی میں خاتمہ اور تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات پر مجبور کر دیا ہے تو دوسری طرف ایسے طبقات کی بھی کمی نہیں جو نریندر مودی کی پراسرار انداز سے آمد کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انکے تحفظات بلاوجہ نہیں۔ انکے علاوہ پاک و ہند تعلقات کی پوری تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ بھارت ایک ناقابل اعتبار توسیع پسندانہ عزائم کا حامل جارح ہمسایہ ہے۔ جو اپنے مذموم مقاصد کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور نریندر مودی کے نیو دہلی پہنچنے کے بعد بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے پاکستان میں پائے جانےوالے خدشات پر یہ کہہ کر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ ”کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور پاکستان کےساتھ بات چیت اب پاکستان کے زیر کنٹرول آزاد کشمیر کے مسئلے پر ہوگی۔ بی جے پی کے رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک بار پھر اکٹھے ہو کر اکھنڈ بھارت بنیں گے۔ تاہم یہ کام جنگ سے نہیں عوام کی مشاورت سے ہوگا۔“
بھارت میں اکھنڈ بھارت کی بات صرف بی جے پی، راشٹریہ سیوک سنگھ یا ہندو جنونیوں کے دعوﺅں تک محدود نہیں، کانگریس جیسی سیکولر سمجھی جانیوالی جماعت کے لیڈر بھی اکھنڈ بھارت کی اپنی سیاسی جدوجہد کا مقصد قرار دیکر دونوں ممالک کے درمیان موجود کشیدگی کو 1947ءسے ہوا دیتے آ رہے ہیں 1965ءکی پاک بھارت جنگ ہو یا 1971ءمیں مشرقی پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنانے کیلئے کی گئی ننگی جارحیت اکھنڈ بھارت کی تکمیل کیلئے کانگریس جماعت کی طرف سے کی جانیوالی سازشوں کا ہی حصہ تھی۔ ہم بھلے اسے پاک فوج کی طرف سے مشرقی پاکستان میں کئے گئے آپریشن یا سیاستدانوں کی اقتدار پر قبضہ کیلئے کی جانیوالی کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے رہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ بھارت نے انتہائی گھناﺅنی سازش کے ذریعے پاکستان کو دولخت کر دیا۔ یہ اور بات ہے کہ اسے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے ایک طرف عالمی قوتوں کی حمایت حاصل تھی تو دوسری طرف پاکستان کے اندر بھی اسے مدد فراہم کرنیوالے موجود تھے۔ تو کیا آج بھارت کی تمام تر جنگی تیاریاں اس بات کا ثبوت نہیں کہ بھارت ثقافتی یلغار، ہمارے حکمرانوں سے ذاتی مراسم اور پاکستان میں اپنی لابیوں کی ناکامیوں کی صورت میں طاقت کے بل پر پاکستان کو زیر کرنے کا آپشن کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ مودی کے حالیہ روس کا دورہ اور ماسکو میں اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے بھارت کے جارحانہ عزائم کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ ان 16 دفاعی معاہدوں میں مزید ایٹمی آبدوزوں کی بھارت میں تیاری، جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹروں، بحری جہازوں اور جنگی ٹرانسپورٹ طیاروں کی خریداری کے سودے تو شامل ہیں ہی سب سے اہم معاہدہ بھارت میں 12 نئے ایٹمی ری ایکٹرز کی تنصیب اور ہائیڈروجن بم کی تیاری میں روس سے حاصل ہونے والی مدد ہے۔
بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور نقشے پر بھارت کے گرد موجود ملکوں پر ڈالیں تو بھارت کا جنگی جنون اور جارحانہ عزائم پر مبنی جنگی تیاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ تمام اسلحہ و گولہ بارود اور ایٹم بم کے بعد ہائیڈروجن بم کا حصول کن مقاصد کیلئے ہے۔ بھارت کے سمندر و زمینی سرحدوں کی کل لمبائی 15,106,70 کلومیٹر ہے جس میں سے مغرب میں پاکستان کیساتھ ملنے والی سرحد 2,910 کلومیٹر، شمال میں چین سے ملحقہ 3,488 کلومیٹر، شمال مشرق میں نیپال 1,751 اور پھوٹان سے ملنے والی بارڈر 699 کلومیٹر ہے مشرقی طرف بنگلہ دیش سے ملنے والی سرحد 4,096.70 کلومیٹر تو برما کےساتھ 1,643 کلومیٹر اور جنوب میں سمندری ساحل 7,516.6 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ بحرہ ہند میں واقعہ چھوٹے سے جزائر پر مشتمل بھارت کے دو ہمسائے سری لنکا اور مالدیپ ہیں۔ حیران کن طور پر بھارت کے اتنی طویل سرحی پٹی کے پار کوئی ایک بھی ہمسایہ ملک ایسا نہیں جس کےساتھ بھارت کا تنازع یا جھگڑا نہ ہو۔ لیکن بھارت نے اپنی افواج کا 80 فیصد حصہ پاکستان سے ملنے والی سرحدی چھاﺅنیوں میں تعینات کر رکھا ہے اسکے ائر فورس کا بڑا حصہ بھی پاکستان کے قریب قائم کئے گئے جنگی ہوائی اڈوں پر موجود ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی تاریخ اور بھارت کے پاکستان کےخلاف ماضی کے اقدامات ہوں یا موجود عزائم انکو مدنظر رکھیں تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی لاہور آمد پر بعض حلقوں کی فکرمندی بلاوجہ نہیں۔ ہمسایہ ممالک سے تجارت یا دوستانہ مراسم سے کسی کو انکار نہیں یہ تبھی پائیداری پر استوار ہو سکتے ہیں اگر انکی بنیاد آبرومندانہ تعلقات پر استوار ہو لیکن بھارت پاکستان سے نیپال یا بھوٹان کی طرز پر تعلقات اور یہاں حسینہ واجد جیسے فرمانروا حکمران چاہتا ہے جو پاکستان کی صرف خارجہ پالیسی ہی نیو دہلی سے پوچھ کر نہ بنائیں بلکہ بچوں کا تعلیمی نصاب بھی بھارت کی منشاءکے مطابق تیار کریں۔ نریندر مودی کی آمد پر پاکستان میں بغلیں بجانے والے اگر ایک نظر بھارت سے پاکستان کے تعلقات کی تاریخ پر ڈالیں تو انہیں احساس ہو جائےگا کہ جواہر لال نہرو کے زمانے سے اپنے لچھے دار بیانات اور ظاہری اقدامات کے ذریعے پاکستان کو کس طرح آج تک بیوقوف بنایا جاتا رہا ہے۔ بھارت کو اس وقت سلامتی کونسل میں مستقل نشست اور ویٹو پاور کی قوت حاصل کرنے کیلئے پاکستانی عوام کی نہیں صرف حکمران طبقے سے حمایت و تائید کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں افغانستان میں بدلتے موسم میں طاقت کے مراکز ریت کی طرح بھارتی گرفت سے نکل رہے ہیں۔ بھارت کی دھمکیاں یاد کیجئے کہ وہ گوادر کاشغر تجارتی روٹ کو ہر قیمت پر روکنے کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔ اپنے عزائم میں ناکامی پر اب اس نے امن کا نقاب چڑھا لیا ہے۔ چند ہفتے قبل بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جس انداز سے سرتاج عزیز کے ہاتھ تھام کر پاکستان سے والہانہ انداز سے محبت کا اظہار کیا تھا تو اپنی انہی ادا¶ں کے درمیان ہی اس نے بھارت کو تجارت کیلئے افغانستان تک رسائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ سشما سوراج کے بعد نریندر مودی کی ڈرامائی آمد ہندو چاکنیائی ڈرامے کی دوسری قسط ہے۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر، سیاچین، دریاﺅں کے پانی اور سرکریک جیسے تنازعات کے حل کی کوئی جلدی نہیں وہ جانتا ہے کہ پاکستان گزشتہ 68 برسوں کی طرح آئندہ بھی مذاکرات اور بات چیت کے ”لالی پاپ“ سے بہلتا رہے گا۔ فی الحال بھارت کو سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے حصول اور نیو دہلی سے کابل تک براستہ سڑک رسائی کی جلدی ہے۔ جس کیلئے نریندر مودی جیسے پاکستان دشمن نے کابل میں پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کے باوجود لاہور آنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی۔ تاہم یہ اب پاکستانی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ نریندر مودی سے دوستی نبھاتے ہوئے پاکستانی مفادات کا کس حد تک تحفظ کرتے ہیں۔