پاک بھارت تعلقات اور نیا سال

03 جنوری 2016

گزشتہ ماہ میں نے ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان ”بھارت کا واحد ایجنڈا:کلکتہ سے کابل تک راہداری“ تھا جس میں سشما سوراج کے دورہ پاکستان کے مقاصد کو واضع کیا تھا اور یہ لکھا کہ ہمارے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیںاور برابری کی سطح پر بھارت سے بات چیت کرنی چاہیے، وغیرہ۔۔۔ اسی مہینے یعنی گزشتہ ماہ ہی مودی کا دورہ لاہور ہوا اور میرے ”انکشاف“ کے عین مطابق اس ملاقات کیلئے بھارتی کاروباری شخصیت ساجن جندال نے کلیدی کردار ادا کیا جس کا مذکورہ راہداری کے حوالے سے گہرا تعلق ہے۔ بہرحال مودی کے پاکستان میں آنے کا خیر مقدم کیا جاتا ہے، اس حوالے سے کوئی دوسری رائے نہیں اگرچہ یہ دورہ ذاتی نوعیت کا تھا جس میں دو خاندانوں کی باہمی روابط و دلچسپی کے علاوہ قومی سطح کا کوئی معاملہ زیر بحث نہیں آیا، لیکن نوازشریف کی سفارتی سطح پر اسے کامیابی ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ مودی نے لاہور کا دورہ کرکے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ دورہ اور دونوں رہنماﺅں کی ملاقات ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہوگی۔
سیاست ویسے تو ممکنات کا کھیل ہے جہاں کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی ممکن ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ ہمارا پیارا پاکستان سیاسی معجزوں کی سر زمین ہے اور یہاں کی سیاسی کرتب گری اپنی مثال آپ ہے۔ انہی معجزوں کی طویل فہرست میں ایک اور خوبصورت آئٹم کا اضافہ ہوا جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 25 دسمبر کو نواز شریف کو سالگرہ کی مبارکباد دینے لاہور چلے آئے۔ ان کی آمد کی خبر دنیا کو اس وقت ہوئی جب مودی نے ٹویٹر پر خود اعلان کیا کہ وہ افغانستان سے واپسی پر لاہور سے ہوتے ہوئے واپس آئینگے۔ پاکستان اور انڈیا کا سراغرساں میڈیا یہ خبر سن کر سکتے میں آ گیا ۔ میڈیا کی بوکھلاہٹ کا یہ حال تھا کہ فوری طور پر تمام چینلز نے یہی تاثر دیا کہ یہ دورہ اچانک اور بغیر کسی پروگرام یا شیڈول کے کیا جا رہا ہے وہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا کا جہاں پروفیشنل میڈیا سے پہلے یہ سوال اٹھا دیا گیا کہ ہندوستان کے سٹیل کے سب سے بڑے تاجر ساجن جندال لاہور میں کیا کر رہے ہیں۔ جندال گروپ کے مالک ساجن جندال کی نواز شریف کے ساتھ ذاتی دوستی کو سب جانتے ہیں کیونکہ دونوں کے درمیان سٹیل (فولاد سازی) ایک ایسی قدر مشترک ہے جو دونوں خاندانوں کو قریب لانے میں اہمیت رکھتی ہے۔ بعد کی اطلاعات نے ثابت کیا کہ وزیراعظم نواز شریف اور مودی کی اس ملاقات کے انعقاد میں ساجن جندال نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ہمارے میڈیا کی ہنر مندی ملاحظہ ہو کہ ایک طرف تو اس ملاقات کو طوفانی اور اچانک بلکہ بالکل حادثاتی ظاہر کر رہے تھے اور دوسری طرف ایک ہی سانس میں ناظرین کو وہ برتھ ڈے کیک دکھا رہے تھے جو مودی صاحب اپنے پاکستانی ہم منصب کیلئے بطور خاص انڈیا سے لے کر آئے تھے اور ساتھ میں ان انڈین ساڑھیوں کا ذکر بھی جاری تھا جو وزیراعظم کی نواسی مہر النساءکی تقریب عروسی کے موقع پر مودی کی جانب سے بطور تحفہ پیش کی گئیں۔
2015ءکے اہم ترین واقعات میں نریندر مودی کا دورہ¿ لاہور گزشتہ سال کا سب سے بڑا واقعہ تھا یہ گیارہ سال کے عرصہ میں کسی بھارتی وزیراعظم کا پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم من موہن سنگھ کے 10 سالہ دور میں وہ یہ کام نہ کر سکے۔ اس کی وجہ ہندوستانی اپوزیشن تھی یہ اتفاق ہے کہ جس اپوزیشن کے خوف سے وہ دورہ نہ کر سکے وہی اپوزیشن جب خود اقتدار میں آئی تو انہوں نے یہ کر دکھایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ راتوں رات کامودی صاحب کو کیوں لاہور کی یاد ستانے لگی اور انہوں نے کیک سنبھالا اور لاہور چلے آئے۔
ملاقات کا سکرپٹ کہیں اور لکھا گیا تھا کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایشیاءکی دو نیو کلیئر پاورز کے درمیان تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں جہاں جنگ ناگزیر ہو جائے امریکہ کو پاکستان کیساتھ ڈیل کرنے کا تلخ تجربہ ہے امریکی سفارتی حکام پاکستان کو مشکل ترین اسائنمنٹ سمجھتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ پاکستان کو کسی بات پر قائل کرنا اتنا آسان نہیں ہے یہ کوئی مالدیپ یا بھوٹان نہیں ہے۔ خاص طور پر مودی کے برسر اقتدار آنے سے ایک تشویشناک صورت حال چلی آ رہی تھی کیونکہ مودی نے الیکشن جیتا ہی پاکستان دشمنی کی بنیاد پر تھا۔
دوسری طرف نریندر مودی نے محسوس کر لیا تھا کہ دہلی اور بہار کے ریاستی انتخابات میں انہیں علاقائی پارٹیوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف مودی کے مسلسل پاکستان مخالف بیانات اور اندرون ہندوستان اقلیتوں کی شدت پسند ہندوو¿ں کے ہاتھوں مشکلات کے بعد انڈین دانشور طبقوں میں سرکاری اعزازات واپس کرنے کی مہم زوروں پر تھی جبکہ کانگریس کی طرف سے بھی مودی پر دباو¿ تھا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو اس حد تک خراب نہ کیا جائے ۔ ان ساری بین الاقوامی اور علاقائی حقائق کی روشنی میں مودی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کیساتھ مذاکرات کے معطل سلسلے کو کسی طرح بحال کیا جائے اس سے پہلے مودی کی تقریب حلف برداری والی ملاقات اچھا تاثر قائم نہ کر سکی۔ اوفا کانفرنس میں بات چیت کو آگے بڑھانے کا اعلامیہ بھی بعد ازاں ناکام ہو گیا۔ فرانس میں ہاتھ ملایا گیا۔ اقوام متحدہ میں دور سے ہی ہاتھ لہرائے گئے۔
مودی کے دورے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے نواز شریف تاپی TAPI گیس پائپ لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے ترکمانستان کے دورے پر تھے جہاں افغان صدر اشرف غنی بھی موجود تھے یہ منصوبہ ترکمانستان افغانستان پاکستان اور انڈیا یعنی 4 ممالک کے درمیان ہے جسکے تحت ترکمانستان سے گیس پائپ لائن افغانستان کے راستے پاکستان سے ہوتی ہوئی انڈیا تک پہنچے گی اربوں ملین کیوبک فیٹ گیس کا یہ منصوبہ ان تین ہمسایہ ممالک میں توانائی کی ضروریات کی تکمیل کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔
یہاں پر ساجن جندال فیکٹر کی وضاحت بھی ضروری ہے جنہوں نے نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان اس ذاتی ملاقات کی راہ ہموار کی انکی سٹیل کمپنی جندال گروپ نے افغانستان میں صوبے بامیان سے دریافت ہونےوالے فولاد کے بہت بڑے ذخیرے کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے جو اربوں ڈالر مالیت کا ٹھیکہ ہے۔ جندال گروپ کا مسئلہ یہ ہے کہ لوہے کے یہ ذخائر انہیں انڈیا ٹرانسفر کرنے کیلئے براستہ روس نقل و حمل کرنا پڑے تو اس کا خرچہ بہت زیادہ ہے جبکہ یہی ترسیل اگر افغانستان سے پاکستان کے راستے پشاور سے واہگہ تک سڑک کے راستے ہو تو انکی کارگو لاگت روس والے راستے کے مقابلے میں 10 گنا کم ہو جاتی ہے۔ اس ملاقات کے عوض جندال گروپ چاہتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف انہیں پاکستان کے راستے ایک روڈ کاریڈور کی اجازت دیں۔
لیکن ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر وزیر اعظم یہ سوچ رہے ہیںکہ نئے سال کے آغاز میں وہ بھارت سے مذکرات بھارتی شرائط پر جاری رکھیں گے تو یہ انکی سب سے بڑی تاریخی غلطی ہوگی کیوں بھارت کے ساتھ ہمارے کئی پہاڑ جیسے مسائل ہیں جو بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حل ہونے میں ناکام ہیں۔۔۔ اور وزیر اعظم کو علم ہونا چاہیے کہ پاکستان کی ترجیحات کیا ہیں ہمیں سب سے پہلے کشمیر کے حوالے سے سوچنا چاہیے جہاں کے عوام پاکستان کی خاطر اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر آج بھی پاکستان کے پرچم کو سینے سے لگا رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ پانی کا ہے اس تنازعہ کو طے کرنے کیلئے 1960ءمیں ٹریٹی ہوا تھا جسکے مطابق مشرقی دریا کا پانی انڈیا کو دیا گیا جبکہ انڈیا پابند ہو گا کہ وہ مغربی دریار کی طرف پانی کا بہاﺅ جاری رکھے گا اور اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرےگا اس معاہدے پر 9 ستمبر 1960ءکو دستخط ہوئے تھے بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پر تل بل پراجیکٹ اور بگلیہار ڈیم تعمیر کیے۔تیسرا مسئلہ سیاچن ہے اس مسئلے کو پاکستان کی شرائط پر حل ہونا چاہیے۔ 71 کلو میٹر لمبی اور 6700 میٹر اونچی سیاچن کے ایک حصے پر بھارت کا ناجائز قبضہ معاملات کو حل نہیں ہونے دیتا۔
اگر یہ نہیں ہوتا اور صرف کلکتہ سے کابل تک کی سڑک کا کرایہ ادا کرنا ہے ہم نے تو میرے خیال میں ملکوں کی خوداری میں رکاوٹ ہو گی اور یہ عارضی راستہ تصور کیا جائےگا۔ وزیر اعظم کو فوج کے وقار اور عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں پاکستان کے پالیسی سازوں اور حکمرانوں کو اچھی توقعات کیساتھ اس بات کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت محض کسی عارضی فائدے یا پاکستان کو وقتی طور پر مصروف رکھنے کیلئے یہ سب اچھا اچھا دکھا رہا ہے یا واقع تفصیلی اور تنازعات کو حل کرنے کیلئے بامقصد اور جاندار مذاکرات چاہتا ہے۔ بھارت کیا چاہتا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر ہمیں دوست کے بھیس میں دشمن کو سمجھنا چاہیے۔ ہمیں نئے سال کی آمد پر دوستی ضرور کرنی چاہیے مگر سیانے کہتے ہیں کہ بھروسہ ضرور کرو لیکن تصدیق بھی ضروری ہے!