صبرواستقامت والے(۲)

03 جنوری 2016

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میںنے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: مجھے بتائیے کہ مشرکین نے آپ کے ساتھ جو سب سے بڑی سختی کی تھی وہ کیا تھی؟ انہوں نے فرمایا: حضور علیہ الصلوٰة والسلام خانہ کعبہ کے مقام حجر میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا، اس نے اپنا کپڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈال کر شدت سے آپ کا گلہ گھونٹا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوںنے عقبہ کو کندھوں سے پکڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ کیا اوریہ آیت پڑھی ”کیا تم ایک شخص کو محض اس وجہ سے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔“(صحیح بخاری)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ایک دن حضرت جبریل امین حضور علیہ الصلوٰة والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اس وقت آپ تشریف فرما تھے ، آپ کا دل بہت دکھی تھا اورآپ کا جسم لہو لہان تھا، مکہ کے کسی شخص نے آپ کو مضروب کیا تھا، حضرت جبریل امین نے عرض کیا: آپ کو کیا تکلیف پہنچی ہے؟ آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ یہ سلوک کیا ہے، جبریل امین نے عرض کیا : کیا آپ پسند فرماتے ہیں کہ میں آپ کو نشانی دکھاﺅں؟ آپ نے فرمایا: انہوںنے وادی کی دوسری طرف ایک درخت کی طرف دیکھا اورحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ اس درخت کوبلائیے۔ آپ نے اس درخت کو بلایا تو وہ چلتا ہوا آپ کے پاس آیا حتیٰ کہ آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا، جبریل امین نے عرض کیا:اس کو لوٹ جانے کا حکم دیجئے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ لوٹ گیا حتیٰ کہ اپنی جگہ پر پہنچ گیا ۔ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری تسلی کے لیے یہ کافی ہے۔(سنن ابن ماجہ)
حضرت حازم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: خدا کی قسم ! مجھے معلوم ہے کہ کون حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کو دھورہا تھا اورکون اس پر پانی انڈیل رہاتھا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کے زخم)کا علاج کس چیز سے کیاگیا تھا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاحضور نبی الصلوٰة والسلام کے زخم کو دھورہی تھیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال کے ساتھ اس پر پانی ڈال رہے تھے، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی سے خون میں اضافہ ہورہا ہے توآپ نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اسے جلایا اوراس کو زخم پر چپکا دیا، اس سے خون رک گیا ، اس روز حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کا دانت شہید ہوا، چہرہ مبارک زخمی ہوااورخود آپ کے سرپر ٹوٹ گیا۔(صحیح بخاری)