اتوار ‘ 22 ربیع الاوّل 1437ھ‘ 3 جنوری 2016 ء

03 جنوری 2016

لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں مردہ بلے کی سالگرہ‘ وکلاءنے بھی کیک کھایا۔
پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر کا پالتو بلا بقول انکے ویٹرنری ڈاکٹروں کی غفلت سے مر گیا۔ ان ڈاکٹروں کے خلاف بلے کی موت کا کیس ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ہائی کورٹ کے احاطے میں جس طرح اپنے پالتو آنجہانی بلے کی سالگرہ منائی اس پر کافی وکلاءنے احتجاج بھی کیا مگر شاید یہ وہ تھے جنہیں دعوت نہیں ملی ورنہ اکثر وکلاءنے خوب مزے مزے سے کیک کھایا اور سالگرہ منائی۔اب خطرہ ہے کہیں اس خاتون کی جرا¿ت رندانہ دیکھ کر جانوروں سے پیار کرنے والے دوسرے حضرات کو بھی شہہ نہ ملے کہ وہ بھی اپنے پالتو جانوروں کی بعداز موت انکی یاد میں تقریبات منعقد کرنا شروع ہو جائیں۔ کل کلاں کو اخبارات میں اور الیکٹرانک میڈیا پر ایسی خبریں چل رہی ہوں کہ لاہور میں ایک کمہار نے اپنے محبوب گدھے کی سالگرہ پر خصوصی تقریب منعقد کی یا کراچی میں کسی بڑے سیاستدان نے اپنے آنجہانی گھوڑے کی برسی میں خصوصی دعائیہ تقریب منعقد کی جس میں ملک بھر سے اور بیرون ملک سے گھوڑوں کے شیدائی حضرات نے خصوصی شرکت کی۔ کوئی سرکس والا اپنے شیر‘ بکری یا ہاتھی کی یاد میں بھی سالانہ تقریب منا سکتا ہے۔اس بہانے چلیں دوست احباب کی خاطر تواضح بھی ہو جائے گی اور بہت سے لوگ فضائل حیوانات سے بھی آگاہ ہو سکیں گے اور گلشن کا کاروبار بھی چلتا رہے گا۔
٭....٭....٭....٭
بجلی کے بحران پر گھانا کے وزیر توانائی نے استعفیٰ دیدیا۔
یہ تو کوئی باضمیر شخص ہو گا ورنہ باآسانی کبھی 2016 کبھی 2017 اور کبھی 2018ءکا مژدہ سنا سنا کر عوام کو بے وقوف بنا کر اپنی مدت وزارت پوری کرتا۔ اسے کونسا عوام یا حکمرانوں نے کان سے پکڑ کر وزارت سے باہر نکالنا تھا۔یہ استعفیٰ وغیرہ کا چکر یورپی اور ترقی یافتہ ممالک میں ہی اچھا لگتا ہے۔ جہاں حکومتیں عوام کو تمام سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ دار ہوتی ہیں اور عوام ایمانداری سے حکومتوں کو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ وہاں نہ حکمران جھوٹ بولتے ہیں نہ عوام کیونکہ وہاں اقبال سے معذرت کے ساتھ .... ”ہے جرم ’دروغی‘ کی سزا مرگ مفاجات“
اسکے برعکس یہ افریقہ اور ایشیا کی ذلتوں سے ماری مخلوق حکمرانوں کی شکل میں ہو یا عوام کی شکل میں دونوں دھڑلے سے جھوٹ پہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ذرا بھی شرماتے نہیں ہمارے ہاں بھی دیکھ لیں۔ خزانہ اگر بھرا ہے تو ملک میں آئے روز غریب بچوں سمیت بھوک کے مارے خود کشی کیوں کر رہے ہیں۔ ہے اسکا جواب کسی حکمران کے پاس اگر نہیں تو پھر استعفیٰ دینے کیلئے ہمت اور غیرت کہاں سے آئیگی ہمارے کسی وزیر شذیر میں۔ اس لئے ہمیں گھانا کے اس وزیر کی بے وقوفی پر غصہ آرہا ہے....
٭....٭....٭....٭
امریکہ میں مسلمان خاتون نے دیوار کے پار دیکھنے والا سسٹم ایجاد کر لیا۔
کاش یہ سسٹم کچھ عرصہ پہلے ایجاد کر لیا جاتا تو شاید عراق اور افغانستان تباہی سے محفوظ رہ سکتے تھے۔ کیونکہ اسکی بدولت امریکہ آسانی سے افغانستان میں چھپے ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ لیتا اور عراق میں چھپے ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں کا بھی پتہ چلا لیتا۔ اس طرح یہ دونوں ملک طویل جنگ اور اسکے نتیجے میں تباہی و بربادی سے بچ جاتے۔ اب کیا فائدہ اس قسم کی ایجادات کا ہاں البتہ اگر اب بھی ان کا فائدہ اٹھا کر امریکہ اور اقوام متحدہ کشمیر اور فلسطین کے علاوہ برما کے مسلمانوں کی حالت زار بھی معلوم کرے تو بہت سے لوگوں کا بھلا ہو سکتا ہے۔ اور ان ممالک کے لوگ تباہی سے بچ سکیں گے ورنہ اس قسم کی ایجادات سے ہمارے ہاں وہ خواتین ہی فائدہ اٹھا سکتی ہیں جنہیں آس پڑوس کے حالات سے کامل آگہی کی عادت ہوتی ہے۔ اس ایجاد کی بدولت وہ گھریلو کام کرنے والی مائیوں اور پھپھا کٹنی قسم کی خالا¶ں سے نجات پا سکیں گے جن کے موقع بے موقع ناز و نخرے بھی انہیں اٹھانا پڑتے ہیں ہر وقت باخبر رکھنے کے چکروں میں۔
اب تو بس یہ سسٹم خرید کر وہ آسانی سے آس پڑوس میں ہونےوالی ہر حرکت پر نظر رکھ سکیں گی اور کبھی دروازے سے کبھی دیوار سے کان لگا کر گن سن لینے سے بھی انہیں نجات مل جائیگی جس کی وجہ سے اکثر کھڑے رہ رہ کر ان کی ٹانگوں اور کمر میں درد بھی ہو جاتا ہے....
٭....٭....٭....٭
بڑا بھائی سب کچھ کھا جاتا ہے۔ کسی کو کچھ نہیں دیتا۔ اسے رویہ بدلنا ہو گا: پرویز خٹک
جس وقت وزیراعلیٰ خیبر پی کے پشاور کے جلسے میں بڑے بھائی کی بدخوئی کر رہے تھے قدرت خدا کی دیکھیں اس تقریب کے دوران زلزلے کے جھٹکوں نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور کچھ دیر کیلئے تو خٹک صاحب بھی تقریر بھول گئے۔اب یہ انکی غلط بیانی پر تنبیہہ تھی یا انکے دکھ کا دبا¶ کہ زمین بھی دہل کر رہ گئی اور جھٹکے کھانے لگی اگر پرویز خٹک کو دیکھیں کو یقین آتا ہے کہ ان کا بڑا بھائی (اگر ہے تو) واقعی بہت ظالم ہے کہ انکے حصے کا کھانا بھی ہڑپ کر جاتا ہے اور انکی جان ناتواں دیکھ کر اپنے تو اپنے غیروں کے دل میں بھی ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ مگر اسے ترس نہیں آتا۔ اب یہ بڑے بھائی کا فرض ہے کہ انکے دکھوں کا ازالہ کرے۔ رہی بات بڑے صوبے پنجاب کی تو کیا کبھی انہوں نے بڑے بھائی کی مجبوریاں بھی دیکھی ہیں جو سب کی باتیں بھی سنتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔ ہر دکھ درد میں سب کیساتھ کھڑا ہوتا ہے مگر اسکے ساتھ کھڑا کوئی نظر نہیں آتا۔ اگر بڑے بھائی کے گھر کی حکومت عمران خان کے ہاتھ میں ہوتی تو خٹک صاحب ایسا شکوہ کر پاتے؟ کہیں یہ الزامات صرف صوبائی تعصب کی وجہ سے تو نہیں لگائے جاتے۔ خدارا بڑے بھائی کی قربانیوں کو بھی یاد رکھیں۔ احسان فراموشی کہیں بھی اچھی نہیں سمجھی جاتی۔ بڑا بھائی تو آج بھی اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے گھر میں اندھیرا کرکے چھوٹے بھائیوں کے گھر اور چولہے گرم رکھتا ہے۔ یقین نہ آئے تو ذرا پنجاب میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا کسی بھی صوبے سے موازنہ کرکے دیکھ لیں....


٭٭٭٭٭٭٭٭٭