اگر کوئی طبقہ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اسے قانون کی گرفت میں بہرصورت لایا جائے

03 جنوری 2016
اگر کوئی طبقہ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اسے قانون کی گرفت میں بہرصورت لایا جائے

وفاقی حکومت کا کالادھن سفید کرنے کی سکیم کا اعلان اور وزیراعظم کا ملک کی معیشت مضبوط بنانے کا عندیہ

وفاقی حکومت نے ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے اور غیررسمی معیشت کو باقاعدہ بنانے کیلئے رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم کا اعلان کیا ہے جو صرف کاروباری برادری کیلئے ہوگا‘ اس سکیم کے تحت کالادھن سفید ہو جائیگا۔ یہ اعلان گزشتہ روز وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیرصدارت ایک تقریب میں کیا گیا جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور تاجر برادری کے نمائندے بھی شریک تھے۔ سکیم کے تحت ”نان فائلرز“ کو اپنا سرمایہ ظاہر کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے جنہیں پانچ کروڑ روپے تک کا سرمایہ ظاہر کرنے پر ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جس کے بعد انکے سرمایے کو قانونی تحفظ مل جائیگا۔ اس سکیم کے تحت تاجروں کو ٹرن اوور ٹیکس ادا کرنا پڑیگا جبکہ ٹیکس نیٹ میں موجود فائلرز بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے تاہم قومی اسمبلی‘ سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اس سکیم سے استفادہ نہیں کرسکیں گے۔ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے آڈٹ اور دس لاکھ روپے تک کی آمدن پر ویلتھ سٹیٹمنٹ داخل کرانے سے مستثنیٰ ہونگے۔ وزیراعظم نوازشریف نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے وہاں دہشت گرد اپنے پاﺅں جمانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر ہم خستہ حال ہیں اور خدانخواستہ اندرونی طور پر کمزور ہیں تو پھر کوئی بھی پہلو ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ ٹیکس کی شرح اتنی نیچے لے آئیں کہ لوگ خوشی کے ساتھ اپنا ٹیکس ادا کریں۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے بتایا کہ کالادھن سفید سکیم کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جائیگی۔ اس سلسلہ میں تاجروں کو مراعات دینے کا پیکیج اور مالیاتی اداروں کا محفوظ ٹرانزیکشن بل مجریہ 2016ءقومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مستحکم معیشت کی بنیاد پر ہی خوشحال اور آسودہ معاشرے کو استوار کیا جا سکتا ہے جس میں لوگ روزمرہ کے مسائل کے تفکر سے آزاد ہونگے اور اقتصادی طور پر مضبوط ہونگے تو وہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارا بنا رہے گا جس میں ہر شہری ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے میں فخر اور راحت محسوس کریگا‘ اس طرح معاشرہ سماجی برائیوں سے بھی محفوظ رہے گا اور اقتصادی ترقی کے راستے بھی اس معاشرے میں کھلتے جائینگے۔ دہشت گردی جیسے ناسور پر منتج ہونیوالے سماجی جرائم اسی معاشرے میں پروان چڑھتے ہیں جس میں شہریوں کو روٹی روزگار کا تحفظ بھی حاصل نہ ہو اور ان کیلئے ذاتی کاروبار کے بھی مواقع موجود نہ ہوں‘ اس تناظر میں اقتصادی ناہمواری سے بڑا معاشرتی روگ اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اقتصادی طور پر ناآسودہ اور بے روزگار لوگ ہی اپنے حالات سے مایوس ہوکر سماجی برائیوں کے راستوں پر چل کر جرائم پیشہ عناصر کی صف میں شامل ہوتے ہیں جبکہ اپنے حالات کے ستائے ہوئے مایوس نوجوان ہی مخصوص مقاصد رکھنے والے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا حصہ بنتے ہیں۔ اس تناظر میں شہریوں کے روزمرہ کے مسائل بغیر کسی ردوکد کے حل کرنے‘ ان کیلئے بلاامتیاز روٹی روزگار کے دروازے کھولنے‘ کاروبار کے آسان مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ناہمواریاں ختم کرنے کی ذمہ داری ریاست پر ہی عائد ہوتی ہے جو اقتصادی طور پر مستحکم معاشرے پر مبنی ہو تو حکومتی گورننس اور انتظامی مشینری کا سارا نظام بھی خوش اسلوبی سے چلتا رہے گا۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اقتصادی بنیادیں مستحکم کرنا کسی حکومت کی ترجیح اول نہیں رہا اور طاقت و اختیار کو ہمیشہ قومی وسائل اور سرکاری خزانے کی لوٹ مار کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس روش کے باعث ہی حکمران اشرافیہ طبقات کے ہاتھوں بے وسیلہ عام آدمی زندہ درگور ہوا ہے جبکہ بے دریغ لوٹ مار کے آگے کوئی بند نہ باندھے جانے کے نتیجے میں معاشرہ کرپشن کلچر کی زد میں آیا جس میں میرٹ کا جنازہ بھی نکلا اور قانون و انصاف کی عملداری کا تصور بھی مفقود ہوتا گیا۔
بدقسمتی سے آج تک حکمران طبقات کی جانب سے منتخب فورموں پر اپنی لوٹ مار‘ غلط کاریوں اور غلط بخشیوں کو قانونی اور آئینی تحفظ دینے کے اقدامات ہی اٹھائے جاتے رہے ہیں نتیجتاً ہمارا معاشرہ غیرمتوازن ہو کر تباہی کے دہانے تک آپہنچا ہے جس میں موجود گورننس کی کمزوریوں کے باعث ہر قسم کی سماجی برائی نے گھر کرلیا ہے۔ چنانچہ مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات قوانین توڑنے اور خاطر میں نہ لانے کے عمل میں بھی ذہنی لذت محسوس کرتے ہیں۔ یقیناً اس سوچ نے ہی یہاں قانون شکنی کا کلچر استوار کیا جبکہ وسائل سے محروم اور اقتصادی ناہمواریوں کا شکار طبقات ہر قسم کے استحصال کی زد میں آتے ہیںاور کسی قانون کو مجبوراً توڑنے کی سزا بھی وہی بھگتتے ہیں۔ قومی ٹیکسوں کا سارا بوجھ بھی انہی کے سر پر آگرتا ہے اور انصاف تک رسائی بھی ان کیلئے ہی مشکل بنی رہتی ہے۔ اگر معاشرے میں ٹیکس کلچر کو بلاامتیاز فروغ دیا جائے اور ٹیکسوں کی وصولی کا ایسا نظام وضع کردیا جائے کہ لوگ اپنی آمدنی اور دھن دولت چھپانے اور ٹیکس چوری کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے رضاکارانہ طور پر واجب الادا ٹیکس ادا کرنے لگیں تو ہمیں ملکی معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے اور چلانے کیلئے کسی بیرونی امداد اور قرضوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
ہمارا یہی المیہ ہے کہ حکومتی گورننس اور متعلقہ اداروں کی قانونی گرفت کمزور ہونے کے باعث یہاں ”جس کی لاٹھی اسکی بھینس“ کا تصور پختہ ہوا اور طاقت و اختیار کے اداروں میں پہنچنے والے لوگوں نے طاقت و اختیار کو فلاحی ریاست کی تشکیل کیلئے استعمال کرنے کے بجائے اسکے ذریعے اپنے طبقات کے مفادات کے تحفظ کی راہ اپنالی نتیجتاً قومی وسائل لٹتے رہے اور قومی خزانہ خالی ہوتا رہا جبکہ جائز‘ ناجائز ذرائع سے دھن دولت کے ڈھیر لگانے والے طبقات نے اپنی اس دولت پر واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے بھی جائز ناجائز راستے نکال لئے‘ ان طبقات میں منتخب فورموں میں بیٹھے قوم کے نمائندگان کے علاوہ تاجروں‘ وکلائ‘ ڈاکٹروں‘ جاگیرداروں‘ صنعتکاروں اور دوسرے کاروباری طبقات کی کثیر تعداد شامل ہے۔ یہ طبقات اپنی عددی اقلیت کے باوجود اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ اپنے مفادات پر زد پڑتی دیکھ کر قانون و انصاف کا رخ موڑ سکتے ہیں اور حکومتوں تک کو الٹا سکتے ہیں جبکہ ملک کی اکثریتی آبادی جو مفلوک الحال ہے اور خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے وہی ہمارے ٹیکس کلچر کے سب سے زیادہ شکنجے میں آتی ہے جن سے جبری طور پر براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس وصول کرنا آسان ہوتا ہے۔ سابقہ دور حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی ایک بجٹ تقریر میں خود اعتراف کیا تھا کہ سینٹ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مجموعی گیارہ سو ارکان میں سے ساڑھے آٹھ سو ارکان ٹیکسوں کی مد میں ایک دھیلا بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کراتے۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنے اور ٹیکس کلچر فروغ دینے کا عزم باندھا جس کا وہ اپنی ہر بجٹ تقریر میں اعلان و اعادہ کرتے ہیں مگر وہ ٹیکسوں کی وصولی کے ناقص نظام کی اب تک اصلاح نہیں کر پائے چنانچہ انکی جانب سے ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے تو مفلوک الحال عوام کی اکثریت ہی اسکی زد میں آئی ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقات کیلئے آج بھی ٹیکس چوری اور اپنی آمدنی و وسائل چھپائے رکھنے کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ اب کالادھن سفید کرنے کا قانون درحقیقت انہی طبقات کیلئے لایا جارہا ہے جو اپنی دولت چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے کے عادی مجرم ہیں اس لئے خطرہ یہی ہے کہ اپنی من مانیوں اور ہوس پرستیوں کے باعث یہ طبقات ٹیکس وصولی کے اس سسٹم کو بھی ناکام بنا دینگے اور جبری ٹیکسوں کے ذریعہ قومی بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کی ساری ذمہ داری پھر بے وسیلہ اور مجبور و مقہور طبقات پر ہی آن پڑیگی۔
ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے یقیناً ٹیکس کلچر کو فروغ دینے اور مربوط بنانے کی ضرورت ہے جس کیلئے حکومتی ریاستی اتھارٹی کو بے لاگ اور سخت اقدامات اٹھانا ہونگے اگر کالادھن سفید کی پالیسی سے فائدہ اٹھا کر اس معاشرے کی اشرافیہ قانون کی نگاہوں سے چھپائے گئے اپنے دھن دولت کے ذخائر باہر لے آتی ہے اور ان پر لاگو ہونیوالا ٹیکس ادا کرنے کا کلچر اپنالیتی ہے تو ملک کے اندر ہی اتنی دولت اور وسائل موجود ہیں کہ انکی مدد سے ملک کو فی الحقیقت ایک خوشحال و آسودہ فلاحی ریاست میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر اسکی ابتداءحکمران اشرافیہ طبقات کی جانب سے ہوگی تو اس سے ایڑیاں رگڑتی ہماری معیشت میں زندگی کی نئی لہر دوڑ جائیگی۔ تاہم ٹیکس وصولی کا یہ رضاکارانہ سسٹم اسی صورت کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے جب اپنا دھن دولت چھپائے رکھنے کے عادی طبقات اس رعایت سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو لازمی طور پر قانون کی پکڑ میں آجائینگے۔ بصورت دیگر قانون کی گرفت کے خوف سے آزاد طبقات رضاکارانہ طور پر قانون کی پابندی کی روش کبھی اختیار نہیں کرینگے۔ اس قانون کا یقیناً عام آدمی کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا مگر اس قانون کی ناکامی کا بوجھ بھی اب عام آدمی پر ڈالنے سے بہرصورت گریز کرنا چاہیے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...