سانحہ آرمی سکول کی رپورٹ سینٹ میں پیش کرنیکا جائز مطالبہ

03 جنوری 2016

ارکان سینٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور آرمی سکول حملے کی عدالتی انکوائری کروا کر رپورٹ شائع کی جائے اور اس طرح دہشت گردی کے دیگر واقعات کی تحقیقاتی رپورٹس بھی شائع کی جائیں۔
پشاور آرمی سکول پر حملے کو ایک سال گزر گیا ہے لیکن ابھی تک قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو منظر عام پر نہیں لا سکے کہ دہشت گرد کس طرح حساس علاقے میں گھسے؟ آرمی پبلک سکول کے راستے پر آرمی کی سکیورٹی ہوتی ہے لیکن اس دن سکیورٹی کا انچارج کون تھا؟ کتنے اہلکار ڈیوٹی پر تعینات تھے؟ کس کا کتنا قصور ہے؟ سکول کے اندر سے کس نے سپورٹ کی؟ ان تمام حقائق کو منظرعام پر لایا جائے۔ گزشتہ سال بچوں کی برسی کے موقع پر عمران خان جب ایک تقریب سے خطاب کرنے آئے تھے تو تب بھی شہداءکے لواحقین نے احتجاج کیا تھا اور وہ تمام حقائق منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ تب والدین نے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ بھی کیا تھا یہی تقاضا اب ارکان سینٹ کی جانب سے کیا گیا ہے تو حکومت بلاتاخیر اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرائے اور بغیر کسی لیت و لعل کے رپورٹ منظر عام پر لائی جائے اور اسکے ساتھ ساتھ مہران بیس کراچی اور پشاور اور جی ایچ کیو سمیت ہر حساس ادارے پر ہونیوالی دہشت گردی کی جو بھی تحقیقات ہوئی ہے اسے منظر عام پر لا کر عوام کو مطمئن کیا جائے اور ان سانحات میں غفلت کے مرتکب سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کا تعین کرکے انہیں سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔